Share this link via
Personality Websites!
حضرت سَیِّدُنا اَحمد بن محمد بن زِیَاد رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ سے منقول ہے :میں نے حضرت سَیِّدُنا ابوبَکْر عطَّار رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:جب حضرت سَیِّدُناابُوقاسِم جُنَیْدرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کا اِنْتِقَال ہُواتو میں اورمیرے کچھ دوست وہاں مَوْجُود تھے،ہم نے دیکھا کہ اِنْتِقَال سے کچھ دیر قَبْل کمزوری کی وجہ سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ بیٹھ کرنَماز پڑھ رہے تھے۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کے دونوں پاؤں سُوجے ہوئےتھے۔ جب رُکُوع وسُجُود کرتے تو ایک پاؤں موڑلیتے جس کی وجہ سے بہت تکلیف اورپریشانی ہوتی۔دوستوں نے یہ حالت دیکھی تو کہا:اے ابُوقاسِم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ !یہ کیا ہے؟آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کے پاؤں سُوجے ہوئے کیوں ہیں؟فرمایا:اَللہُ اَکْبَر یہ تو نعمت ہے۔حضرت سَیِّدُنا ابُو محّمدحَرِیرِی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ نے کہا:اے ابُو قاسِم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ!اگر آپ لیٹ جائیں تو کِیا حَرَج ہے؟فرمایا:ابھی وَقْت ہے جس میں کُچھ نیکیاں کر لی جائیں،اِس کے بعد کہاں موقع ملے گا۔پھر اللہُ اَکْبَر کہا اور آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کا وصال ہوگیا۔یہ بھی منقول ہے کہ جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ سے کہا گیا:حُضُور !اپنی جان پر کچھ نَرْمِی کیجئے،تو فرمایا: اب میرا نامَۂ اَعمال بند کیا جارہا ہے،اِس وَقْت نیک اَعمال کا مجھ سے زِیادہ کون حاجت مَنْد ہوگا۔
(عیون الحکایات،الحکایۃ السابعۃو الستون بعد المائتین،ص۲۵۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری ا سلامی بہنو!یاد رکھئے! عقلمندی یہ ہے کہ نہ تو خُود اپنا وَقْت ضائِع کیا جائے اور نہ ہی دُوسروں کا وَقْت بَرْبادکیا جائے اپنے وَقْت کی قَدْر کر نا ،اپنے کام سے کام رکھنا،وَقْت کو اچّھے اچّھے کاموں میں صَرف کر نا اور دُوسروں کو اِس کی ترغیب دِلا نا ،ٹائم پاس کرنے کی سوچ رکھنے والیوں کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami