Share this link via
Personality Websites!
تفسیرِ نعیمی میں اس آیتِ کریمہ کے تحت ہے:(اللہ پاک یہ فرما رہا ہے کہ ) اے حبىب مکرم! (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)آپ اپنے آپ کو تمام عمر ،پورى حىاتِ طَىّبَہ ہر محفل، ہر مجلس، ہر گھڑى، د ن رات، صبح وشام ان ہى لوگوں کے ساتھ رکھئے جو مخلص (Sincere) ہیں، جو مسکین ہیں، جو فقیر ہیں، جو غریب ہیں، جو سیدھے سادھے ہیں، جو نہاىت خلوص سے اپنے رب کى عبادت کرتے ہیں، جو خشوع و خضوع کے پیکر ہیں، جو صبح سے شام تک، جو فجر سے عشا تک، جو پانچوں وقتوں مىں، جو سحر کو جاگ کر، جو رات کو سونے سے پہلے اَلْغَرَض! ہر وقت ہى، ہر سانس میں ہر کروٹ میں ذکرِ الٰہى کرتے ہىں۔ سارى دنىا سے منہ موڑ کربس اپنے مولىٰ کى ذات ہى کا ارادہ رکھتے ہىں، اسی کو چاہتے ہیں، اسى کے طلب گار ہىں۔ (اور اے حبیبِ مکرم!)ان کفار سے دور ہى رہیے جو مختلف وفد بن کر آپ کے پاس آتے ہىں اور آپ کو اپنے اىمان لانے کے لىے طرح طرح کى شرطىں(Conditions) لگاتے ہىں کہ یَارَسُوْلَاللہ ہم اور ہمارا قبىلہ آپ پر تب اىمان لائىں گے جب آپ اپنے پاس سے، اپنى محفل سے ان غرىب اَصْحابِ صُفّہ کو ہٹا دیں گے، ىا کم از کم ہمارے ہوتے ہوئے ان کو اپنے پاس نہ آنے دیں، ان کى محفل الگ لگائیے، ہمارى مجلس الگ سجائیے،ہمیں ان کے ساتھ بىٹھتے ہوئے شرم آتی ہے اور ہمارى سردارى پر فرق آتا ہے، بس ىہى اىک رکاوٹ ہے جو ہم آپ کى نبوت و رسالت، صداقت، امانت ودىانت پر ابھى تک اىما ن نہ لاسکے،(اس پر اللہ پاک ارشاد فرما رہا ہے) اے محبوب! (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ )ان مکاروں کى باتوں مىں مت آنا اور اپنى رحمت و عافىت والى نگاہوں کو ان پاکىزہ باطن والوں سے مت ہٹانا کىونکہ آپ کى ىہ معرفت والى نظرىں ہى تو ان حضرات کى کُل کائنات ہیں، آپ کى محفلىں ہى تو ان کى زندگى ہے، آپ کى جدائى ا ن کے لئے تکلیف کا باعث ہے ،اس موقع پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرمایا گیا کہ اپنی جان کو ان لوگوں کے ساتھ مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami