Share this link via
Personality Websites!
رحمت، شفیعِ امت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی چاہت، بہت ساری فضیلت اور بے شمار فوائد کا پیش خیمہ ہے، اسی وجہ سے اللہ والوں نے غربت کو پسند فرمایا ہے اور مال و دولت کماکر اس سے نکلنے کی کوشش نہیں فرمائی۔ اَصْحابِ صُفّہ کی روشن مثال ہمارے سامنے ہے، ان پاکیزہ لوگوں کے لیے مال و دولت جمع کرنا، کاروبار و بازار سے تعلق رکھنا کچھ مشکل نہ تھا لیکن انہوں نے ایسی چیزوں سے منہ موڑ کر اور صرف دین کی راہ کےلیے خود کو وقف کر کے پیش آنے والی غربت کو برداشت کر کے یہ سبق دیا ہے کہ وہ غربت جو نیکیوں کی طرف لے جائے، وہ غربت جو مال و دولت کی حرص سے آزاد کر دے، وہ غربت جو علمِ دین سیکھنے کا سبب بن جائے، وہ غربت جو نیک اعمال پر ابھارے مال دولت کی طمع سے لا کھ گنا بہتر ہے۔
وہ غریب شخص جو اپنی غربت پر صبر کرے، مال جمع کرنے کے چکروں سے دور رہے، امیروں اور ان کی دولت کو دیکھ دیکھ کر دل جلانے اور حسد کی آفت میں مبتلا ہونے سے بچے اور بے صبری و ناشکری سے دور دور رہے تو ایسا شخص یقیناً قابلِ تعریف ہے۔
یاد رکھئے! کبھی کبھی غربت اور مصیبت آزمائش بھی بن کر آتی ہے تو وہ خواتین جو غربت و مصیبت پر صبر وشکر کرنےکےبجائے ان پر کڑھتی ہیں،بے صبری کا مظاہرہ کرتی ہیں ، شکوہ و شکایت کرتی ہیں اور حرام طریقے سے غربت و مصیبت کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہیں انہیں ڈر جانا چاہیے کہ ان کے گِلے شکوے، بے صبری، اور غربت و مصیبت کو حرام ذرائع سے ختم کرنے کی کوشش آخرت کی تباہی کا سبب نہ بن جائے۔ جبکہ مصیبت پر صبر کرنا بہت بڑے اجراور درجات کی بلندی کا باعث ہے۔
حضرت سَیِّدُنا محدث ابنِ جوزی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:محتاجی(Poverty) ایک مرض کی مانند ہے جو اس میں مبتلا ہوا اور صبر کیا وہ اس کا اجر و ثواب پائے گا، اسی لیے محتاج و غریب لوگ جنہوں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami