Book Name:Har Simt Chaya Noor Hay

مَیل سے کس درجہ سُتھرا ہے وہ پُتلا نورکا

 

ہے گلے میں آج تک کورا ہی کُرتا نورکا

    (حدائقِ بخشش،ص۲۴۴)

صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب!                                            صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حضرت سَیِّدُنا عَبْدُاللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فرماتے ہیں:جس رات حضورِ انور،مکے مدینے کے تاجورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کا نورِ نبوت حضرت عَبْدُاللہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی پُشتِ اقدس سے حضرت آمنہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کے مبارک شکم میں منتقل ہوا تو رُوئے زمین کے تمام چوپایوں،خصوصاً قریش کے جانوروں کو اللہ  کریم نے گویائی عطا فرمائی اور انہوں نے بزبانِ فصیح  یہ اعلان کیا :آج اللہ کریم کاوہ مُقَدَّسْ رسول ماں کے پیٹ میں جلوہ گر ہو گیا جس کے سر پر تمام دنیا کی امامت  کا تاج (The crown)ہے،جو سارے عالم کو روشن کرنے والا چراغ ہے۔مشرق کے جانوروں نے مغرب کے جانوروں کو بشارت دی،اسی طرح سمندروں اور دریاؤں کے جانوروں نے ایک دوسرے کو یہ خوشخبری سُنائی کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی ولادت ِبا سعادت کا وقت قریب آ گیا۔(المواہب اللدنیۃ،المقصدالاول،آیات حملہ،۱/۶۲ )

مبارک ہو حبیبِ ربِ اکبر آنے والا ہے

 

مبارک! انبیا کا آج افسر آنے والا ہے

مبارک بدنصیبوں کو مبارک ہو غریبوں کو

 

جہاں میں بے بسوں کا سایہ گُستر آنے والا ہے

مبارک غم کے مارو! غم غلط ہو جائیں گے سارے

 

حبیبِ حق مداوا غم کا لے کر آنے والا ہے

جہاں میں ظلمتوں کا چاک ہوگا آج سے سینہ

 

خدا کے فضل سے ماہِ منور آنے والا ہے

خبر ہے ابرِ رحمت آج کیوں دنیا پہ چھائے ہیں

 

جہاں میں رحمتوں کا آج پیکر آنے والا ہے

(وسائلِ بخشش مرمم،ص۴۴۶تا۴۴۸)

سرکار کی آمد مرحبا   سردار کی آمد مرحبا      آمنہ کے پھول کی آمد  مرحبا