Share this link via
Personality Websites!
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم صِرف حیاتِ ظاہری تک مَحْدُود نہیں تھی بلکہ رہتی دُنیا تک آنے والے ہرمُسلمان پرآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان وعظمت کوتسلیم کرنا لازِم ہے ۔جیسا کہ
حضرت سَیِّدُناحضرت علامہ اِسمٰعیل حقّیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:حُضُورپُرنور،شافعِ یومُ النُّشورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ظاہِری حَیات اورظاہری وَفات کے بعدغَرَض ہرحالت میں حُضُور اکرم،نورِمجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تَعْظِیْم وتَوقیر اُمَّت پہ لازِم اور ضَروری ہے کیونکہ دِلوں میں جتنی حُضُور کی تعظیم بڑھے گی اِتنا ہی نُورِ ایمان میں اِضافہ ہوتارہے گا۔(تفسیر روح البیان ج۷،ص۲۱۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا!حُضورِ اَقْدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عشق و مَحَبَّت اور ہرمُعاملے میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بےحداَدب،ایمان میں اضافے کا سبب اور اِیمان کی جڑہے۔اس بات کو یُوں سمجھئے کہ اگر کسی درخت کی جَڑ ہی کَٹ جائے تووہ درخت سُوکھ جات اور اس پر لگے ہوئے پَھل اور پُھول گل سڑکے جَھڑ جاتے ہیں،اِسی طرح تَعْظِیْمِ مُصْطَفٰے،اِیمان کے پودے کی جَڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بغیر اِیْمان کا پودا بھی ہرابھرانہیں رہ سکتااور نیک اَعْمال کی صُورت میں اس پر لگے ہوئے پھل اور پُھول ضائع ہوجاتے ہیں۔لہٰذا اپنی نیکیوں کو باقی رکھنے اورایمان کے درخت کو بڑھانے کیلئے اَدبِ رسول کو لازِم سمجھئے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے تعظیمِ مُصْطَفٰے کی ایسی داستانیں تحریر فرمائیں کہ اس کی مِثال ملنا ناممکن ہے۔ آئیے ! شمعِ رسالت کے ان پروانوں کے عشقِ مُصْطَفٰےکے چندایمان افروز واقعات سُنتے ہیں۔
1۔روایت میں ہے کہ حضورانور،شہنشاہِ بحر و برصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ، کمالِ اَدب واِحْترام کی وجہ سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کادروازہ ناخنوں سے کھٹکھٹاتے تھے۔ (شرح شفا،۲/۷۱ )
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami