Share this link via
Personality Websites!
میں پُکارنے کی بھی مُمانعت فرمائی ہے ۔چُنانچہ پارہ 18،سُوْرَۃُ النُّوْر کی آیت نمبر 63 میں اِرْشاد ہوتا ہے:
لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا(پارہ:۱۸، النور:۶۳)
تَرْجَمَۂ کنز العرفان:(اے لوگو!) رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ بنالو جیسے تم میں سے کوئی دوسرے کو پکارتا ہے۔
صَدْرُالاَفاضِل،حضرت علامہ مولانا سَیِّدمُفتی محمد نعیمُ الدِّین مُرادآبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:(اس آیت کے)ایک معنیٰ مُفسِّرین نے یہ بھی بیان فرمائے ہیں کہ(جب کوئی) رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو نِدا کرے(یعنی پُکارے)تو اَدَب و تکریم اور تَوْقِیْروتعظیم کے ساتھ آپ(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کے مُعظَّم(تعظیم کے لائق)اَلْقاب سے نرم آواز کے ساتھ عاجزی والےلہجہ میں”یَانَبِیَّ اﷲ! یَارَسُوْلَ اﷲ! یَاحَبِیْبَ اﷲ!“کہہ کر۔ (تفسیر خزائن العرفان، پارہ:۱۸، سورۃ النور:تحت الآیۃ:۶۳ملخصاً)
حضرت سَیِّدُنا عَبْدُاللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اِرْشاد فرماتے ہیں: پہلے حُضُور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کو یَا مُحَمَّدُ،یَا اَبَالْقَاسِم کہا جاتا،جب اللہ کریم نے اپنے نبی،مکی مدنی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم کو اس سےمُمانَعت فرمائی ، توصحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان یَا نَبِیَّ اللہ ، یَا رَسُوْلَ اللہ کہا کرتے ۔(دلائل النبوۃ لابی نعیم ، الفصل الاول ،الجزء الاول ص۱۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غور کیجئے! حُضُورِ پاک،صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم کا مُعامَلہ کس قَدر اَہَم ہے کہ اللہ پاک کویہ بات بھی ناپسند ہے کہ کوئی میرے حبیب (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کا نام لے مُخاطَب کرے۔عُلماءتصریح(وضاحت)فرماتےہیں:حُضُورِ اَقْدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نام لےکر نِداکرنی(یعنی پکارنا)حَرام ہے۔(فتاویٰ رضویہ:۳۰/۱۵۷)یادرہے!حُضُورِانور،شافعِ محشر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami