Share this link via
Personality Websites!
تَرْجَمَۂ کنزالعرفان:اے ایمان والو!اپنی آوازیں نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال بربادنہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
حکیمُ الاُمَّت حضرت مُفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس آیتِ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں: معلوم ہوا کہ حُضُور کی اَدْنیٰ(معمولی سی)بے اَدَبی کُفْر ہے، کیونکہ کُفْر ہی سے نیکیاں برباد ہوتی ہیں، جب ان کی بارگاہ میں اُونچی آواز سے بولنے پر نیکیاں برباد ہیں، تو دُوسری بے اَدَبی کا ذِکْر ہی کیا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ نہ ان کے حُضُور(یعنی بارگاہِ مصطفٰے میں) چِلّا کر بولو، نہ انہیں عام اَلْقاب سے پُکارو، جن سے ایک دوسرے کو پُکارتے ہیں ،چچا، ابّا، بھائی ، بشر نہ کہو،رَسُوْلُ اللہ،شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن کہو۔(نورا لعرفان :۸۲۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نےسُنا کہ اللہ کریم کا پاک کلام انسانوں اور جِنّوں کے سردارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت وشان بیان کررہاہےاورہمیں اُن کے دَر کی حاضری کے آداب سکھا رہا ہےکہ دَربارِ رسالت میں صرف آواز کا بُلند ہو جانا ہی اتنا بڑا جُرم ہے کہ اس کی وجہ سے تمام نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں۔حکیمُ الاُمَّت حضرت مُفْتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: دُنیاوی بادشاہوں کےدَرباری آداب،انسانی ساخت(یعنی انسانوں کے بنائے ہوئے)ہیں،مگرحُضُور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کے دروازے شریف کے آداب رَبّ(کریم)نے بنائے،(اور)رَبّ(کریم)نے (ہی)سِکھائے،نیزیہ آداب صرف اِنسانوں پر ہی جاری نہیں بلکہ جِنّ و اِنْس(جنات،انسان)و فرشتے سب پر جاری(ہوتے) ہیں۔ فرشتے بھی اِجازت لے کر دولت خانہ میں حاضری دیتے تھے، پھر یہ آداب ہمیشہ کےلیے ہیں۔ (نورالعرفان:۸۲۳)
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!یادرکھئے!تمام ہی اَنْبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام احْترام اورتعظیم کے لائق ہیں،قرآنِ کریم میںاللہ پاک نے مُختلف مَقامات پر اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی تعظیم کا حکم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami