Share this link via
Personality Websites!
باغات میں ٹہنیاں جُھکنے لگیں اور کائنات کے گوشے گوشے سے ”اَھْلًا وَّسَھْلًا مَّرْحَبًا“کی صَدائیں آنے لگیں۔(الروض الفائق ،ص ۲۴۳)اَلْغَرَض!آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تشریف آوری سَراسَر رحمتوں اور برکتوں کا مَنْبَع ہے،چُنانچہ
اَصحابِِ فیل کی ہلاکت کا واقعہ، فارس کے مجوسیوں کی ایک ہزار (1000)سال سے جَلائی ہوئی آگ کا ایک لمحہ میں بجھ جانا، کسریٰ کے محل کا زَلْزلہ اور اس کے چودہ (14)کنگروں کا زمین بوس ہوجانا،”ہَمْدان“ اور”قُمْ“کےدرمیان چھ(6) مِیل لمبے چھ(6)میل چوڑے”بُحَیْرهٔ ساوَہ“کا یکایک بالکل خُشک ہوجانا، حضورانور،آمنہ کے دلبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی والدہ کے بدنِ مُبارَک سے ایک ایسے نُور کا نکلنا،جس سے”بصریٰ“کے محلات روشن ہوگئے۔(المواھب اللدنية وشرح الزرقانی،ولادتہ...الخ، ۱/۱۶۷ ،۲۲۱،۲۲۸، ۲۲۷)یہ تمام واقعات اسی سلسلے کی کَڑیاں ہیں، جوحضورسراپا نور،فیضِ گنجورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکی تشریف آوری سے پہلے ہی خُوشخبری دینے والے بن کر عالَمِ کائنات کو یہ خُوشخبری دینے لگے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے!جَشنِ عیدمِیْلادُالنبی مَنانا ایک مُبارک کام ہے،اس کے مَنانے والوں کو اللہ کریم کی طرف سے بے شُمار دِیْنی ودُنیاوی رحمتیں ملتی ہیں۔ جیساکہ
تفسیر ِرُوحُ الْبَیان میں ہے:مَحفلِ میلادشریف کی برکت سال بھر تک گھر میں رہتی ہے۔ (روح البیان ،۹ /۵۷)اسی طرح حضرت سیِّدُنا امام قَسْطَلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:’’ وِلادَتِ باسعادت کے ایّام میں مَحفلِ میلاد کرنےکی خُصُوصِیَّت میں سے یہ تَجرِبہ شُدہ بات ہے کہ اس سال اَمْن و اَمان رہتا ہے ۔اللہکریم اُس شخص پر رَحمت نازِل فرمائے، جس نے ماہِ وِلادَت کی راتوں کوعید بنا لیا۔‘‘(مواہِبُ اللدُنیَّہ ج۱ ص۱۴۸)جَشنِ میلاد مَنانے والے کو دُنیاوی برکتوں کے ساتھ ساتھ جنَّت کی خوشخبری بھی ہے۔مشہور محدِّث حضرت شاہ عبدُالحقّ مُحَدِّ ث دِہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:سرکارِ مَدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami