Share this link via
Personality Websites!
2۔اسی طرح صُلْحِ حُدَیْبِیَہ کے سال قُریش نے حضرت سَیِّدُنا عُروَہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو(جو ابھی ایمان نہ لائے تھے)،شہنشاہِ دو عالَم، نُورِمجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پاس بھیجا، اُنہوں نے دیکھا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب وُضوفرماتے تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان وضو کا پانی حاصل کرنے کے لئے اس قَدر تیزی سے بڑھتے کہ یُوں معلوم ہوتا، جیسے ایک دوسرے سے لڑ پڑیں گے۔جب لُعابِ مُبارَک ڈالتے یا ناک صاف کرتے تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اسے ہاتھوں میں لے کر(اس سے برکتیں حاصل کرنے کے لئے)اپنے چہرے اورجسم پر مَل لیتے،آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ انہیں کوئی حکم دیتے تو فوراً حکم پر عمل کرتے،جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَگفتگو فرماتے تو وہ خاموش رہتے اورتعظیمِ مُصْطَفٰےکے سبب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھتے۔جب حضرت سَیِّدُنا عُروَہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اَہْلِ مکہ کے پاس واپس گئے تو ان سے کہا:اےقُریش کی جماعت!میں قَیْصر وکِسْریٰ اور نَجّاشی(جیسے بادشاہوں) کے درباروں میں بھی گیا ہو ں، لیکن خدا پاککی قسم !میں نے کسی بادشاہ کی اُس کی قوم میں ایسی شان وشوکت نہیں دیکھی،جیسی شان(حضرت)محمد(مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ )کی ان کے صحابہ(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)میں دیکھی ہے۔(شفا،فصل فی عادة الصحابة فی تعظیمه ،۲/۳۸)
3۔ایک بارحُضُورسراپانور،شاہِ غیور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کےچچا حضرت سَیِّدُناعباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے پُوچھا گیا:اَنْتَ اَکْبَرُ اَمْ رَسُوْلُ اللہ؟یعنی آپ بڑے ہیں یا، رَسُوْلُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بڑے ہیں؟اِرْشادفرمایا: ہُوَ اَکْبَرُ مِنِّیْ وَاَنَا کُنْتُ قَبْلَہٗیعنی بڑے تو وہی ہیں،بس پیدامیں ان سے پہلےہواہوں۔(کنز العمال: ۱۳/۲۲۴حدیث:۳۷۳۴۴)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نےسنا کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب و
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami