Book Name:Islam Mukammal Zabita-e-Hayat Hai

اپنے بیٹے بیٹیوں کو دعائیں دیں گے۔ (جنّتی زیور،  ص۹۲تا۹۴ملخصاً) 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سنا آپ نے! اسلام کتنا پیارا دِین ہے کہ جس نے حقیقی معنیٰ میں ماں باپ کے حقوق کے حوالے سے لوگوں میں عقل و شعور بیدار کیا،  اگر اسلام کی جلوہ گری نہ ہوتی تو اس عظیمُ الشّان طریقے سے ان کے حقوق کے  تحفظ کی پاسداری کا سبق کون سکھاتا؟ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم بھی اسلامی تعلیمات کو عملی طورپر اپناتے ہوئےماں باپ کی قدر کریں،  ان کے حقوق بجالائیں،  ان کی ناراضی والے کاموں سے بچیں اور ان کی خدمت  کودُنیا و آخرت کی سعادت سمجھیں۔

اللہکریم ہمیں والدین کا ادب و احترام بجا لانے اوران کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے رہنےکی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بڑ ے بھائی کے حوالے سے اسلامی تعلیمات

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! والدین کے بعد بہن بھائی کا آپس کا رشتہ(Relation) بہت قریبی شمار کیا جاتا ہے،  اس لیے والدین کے مرنے کے  بعد عُموماًان کے درمیان تعلُّقات خراب ہونے کا اندیشہ رہتا ہے،  لہٰذا  بھائی بہنوں کے درمیان ناراضیوں کا دروازہ بند کرنے کے لئے والدین کے بعد گھر کے افراد میں سے جس شخصیت کے مقام و مرتبے کو اسلام نے شان و شوکت سے نوازا اور جس کے ادب و احترام کادرس دیا ہے وہ ہے بڑا بھائی۔ بڑے بھائی کی اَہمیّت کو اُجاگر کرتے ہوئے نبیِ رحمت،   تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ باقرینہ ہے: حَقُّ كَبِيْرِ الْاِخْوَةِ عَلٰى صَغِيْرِهِمْ حَقُّ الْوَالِدِ عَلٰى وَلَدِهٖ یعنی بڑے بھائی کا حق اپنےچھوٹے بہن  بھائیوں پر ایسا ہے جیسا کہ باپ کا حق اپنے بیٹے پر۔   (شعب الایمان،  باب فی برالوالدین،   فصل فی صلۃ الرحم،   ۶ / ۲۱۰،   حديث:  ۷۹۲۹)

یاد رکھئے! بڑے بھائی کے دل میں چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے والدجیسی  شفقت ومَحَبَّت  رکھی گئی ہے ۔