Book Name:Dukhyari umat ki Khayr Khuwahi

سےمَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔([1])

سینہ تِری سُنَّت کا مدینہ بنے آقا                                    جنّت میں پڑوسی مُجھے تُم اپنا بنانا

مہمان  نوازی کی سنتیں اورآداب 

میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!آئیے!مہمان  نوازی کی سُنتیں اورآداب سننےکی سعادت حاصل کرتےہیں۔پہلے(3)فرامینِ مصطفے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے۔(1)جوشخص(باوُجُودِقدرت) مہمان نوازی نہیں کرتا اُس میں بھلائی نہیں۔(مُسند احمد ،۶/ ۱۴۲،حدیث: ۱۷۴۲۴) (2)آدَمی کی کم عقلی ہےکہ وہ اپنے مہمان سے خدمت لے۔ (اَلْجامِعُ الصَّغِیر،ص۲۸۸،حدیث :۴۶۸۶)(3)سنّت یہ ہے کہ آدَمی مہمان کو دروازے تک رخصت کرنےجائے۔( ابن ماجہ،۴/۵۲،حدیث:۳۳۵۸)٭مہمان کو چاہئے کہ اپنے میزبان کی مصروفیات اور ذِمّے داریوں کا لحاظ رکھے۔٭صَدْرُا لشّریعہ حضرت مفتی محمد امجدعلی اعظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے  ہیں:مہمان کو چار باتیں ضَروری ہیں: (۱)جہاں بٹھایاجائے وہیں بیٹھے۔(۲) جو کچھ اس کے سامنے پیش کیا جائے اس پر خوش ہو،( یہ نہ ہو کہ کہنے لگے:اس سے اچھا تو میں اپنے ہی گھر کھایا کرتا ہوں یا اسی قسم کے دوسرے الفاظ)۔(۳)میزبان سے اجازت لئے بِغیروہاں سے نہ اُٹھے اور (۴)جب وہاں سے جائے تو اس کے لیے دُعا کرے۔(عالمگیری،۵/۳۴۴)٭ گھر یا کھانے وغیرہ کے مُعامَلات میں کسی قسم کی تنقیدکرے نہ ہی جھوٹی تعریف ۔میزبان بھی مہمان کو جھوٹ کے خطرے میں ڈالنے والے سُوالات نہ کرے مَثَلاًکہنا ہمارا کھانا کیسا تھا؟ آپ کو پسند آیا یا نہیں؟ایسے موقع پر اگر نہ پسند ہونے کے باوُجُود مِہمان مُرَوَّت میں کھانے کی جھوٹی تعریف کریگا تو گنہگار ہو گا۔ اِس طرح کا سُوال بھی نہ کرے کہ’’ آپ نے پیٹ بھر کر کھایا یا نہیں؟‘‘ کہ یہاں بھی جواباً جھوٹ کا اندیشہ ہے کہ عادتِ کم


 



[1] مشکاۃ الصابیح،کتاب الایمان،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،الفصل الثانی،۱/۵۵،حدیث:۱۷۵