Book Name:Dukhyari umat ki Khayr Khuwahi

تھیلی لے لو اور جس قدر اس شخص سے لینے ہیں نکال لو ۔ ایک قرض خواہ  نے  اپنے  قرض  سے کچھ روپے  زیادہ لینے چاہے۔فوراًاس کا ہاتھ خشک ہوگیا۔ چِلّا کربولا : حضور! معاف فرمائیے،میں زیادہ لینے سےتوبہ کرتا ہوں۔فوراً اس کا ہاتھ ٹھیک ہوگیا۔ مَفلوکُ الحال مقروض آپ کو دعائیں دینے لگا۔

حضرت سَیِّدُنابہاءُالدین زکریاملتانی سہروردیرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ درویشوں کےہمراہ واپس تشریف لےآئے اور فرمایا: اللہ  پاک نے مجھےاس شخص کی مدد کےلئےبھیجا تھا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ  وَجَلَّ!اس کا مطلب پورا ہو گیا۔(فیضانِ بہاء الدین زکریا ملتانی،۴۱)

       میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو! دیکھاآپ نے! ہمارے بزرگانِ دِین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہم اجمعین مسلمانوں کی خیرخواہی کرکے ان کی مشکلات کو دور کرتے۔ اپنے پلّےسے خرچ کر کے ان کے قرض اُترواتے اور ان کی خوشیوں کے اسباب پیدا کرتے۔ لیکن افسوس! فی زمانہ  ہماری حالت یہ ہےکہ٭ہم اپناکام کروانے کے لئےکبھی سگےبھائی کو تکلیف پہنچاتےہیں توکبھی کسی پڑوسی کو٭کبھی کسی کودھمکی  دےکر اپنا کام  نکلواتے ہیں تو کبھی دھوکہ دہی سے دوسروں کی آنکھوں میں دُھول جھونکتے ہیں٭ کبھی کسی کو دھونس دھڑِلّے سےقابو کرتے ہیں تو کبھی جھوٹ  بول کر راہ کی رکاوٹیں صاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بس ہماری یہی دُھن ہوتی ہےکہ اپنا کام ہوناچاہئے، اگرچہ اس  سے دوسرےکا بنا بنایا  کام بگڑ جائے۔

       یاد رکھئے! دینِ اسلام انسانیت کا سب سے بڑا خیر خواہ ہےاور اپنے ماننے والوں کو بھی دوسروں سے خیر خواہی کرنے اور ان سے بھلائی کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ مسلمانوں  کی خیرخواہی میں مشغول رہنا جہاں دنیاوآخرت میں سعادت  کا باعث ہے، وہیں رحمتِ الٰہی  کے حصول کا بھی ذریعہ ہےجیساکہ نبیِ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ و اٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشادفرمایا: وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ یعنی