Share this link via
Personality Websites!
حاجت پُوری کرنے کی اِسْتِطاعت رکھتے ہوں تو اس کی مُشْکِلات دُور کرنے کی کوشش کریں۔ وہ شخص بڑاہی خُوش نصیب ہے جو مُحتاجوں کی مدد کرتا،غَریبوں کی دادرَسی کرتا،غمگینوں کی غمگساری اور پریشان حالوں کی پریشانی دُور کرتاہے کیونکہ جومخلوق پر رَحْم کرتاہے،اللہکریم بھی اس پر رَحْم وکرم کی ایسی بارش فرماتا ہے کہ اس کی زِنْدگی میں ہر طرف بہاریں ہی بہاریں آجاتی ہیں۔آئیے!ا س بارے میں دو(2) فرامینِ مُصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سُنْتے ہیں۔
-1جس نے مو من کی دُنیوی پریشانیوں میں سے ایک پریشا نی دُورکی،اللہ پاک قِیامت کے دن اس کی پریشانیو ں میں سے ایک پریشانی دُور فرمائے گا،جو دُنیامیں تنگ دَسْت کو آسانی فَراہَم کرےگا،اللہ پاک دُنیا وآخرت میں اس کیلئےآسانیاں پیدا فرمائے گا،جو دُنیامیں کسی مُسلمان کی پردہ پوشی کرےگا،اللہ پاک دُنیا وآخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گااوراللہ پاک اس وَقْت تک بندے کی مددکرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔ (مسلم ، کتا ب الذکر والدعا، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القران ،رقم ۲۶۹۹ ،ص ۱۴۴۷)
-2جو شخص اپنے بھائی کی حاجت رَوائی کے لئے چلے، اس کایہ عمل اس کے لیے دس(10) سال اِعْتکاف کرنے سے بہتر ہے اورجوشخص اللہ پاک کی رِضا کے لئے ایک دن اعتکاف کرے اللہ کریم اس کے اور جَہنَّم کے درمیان تین(3)خَنْدَقیں حائل فرمادیتا ہے اور ان میں سے دو (2)خَنْدَقوں کا دَرْمیانی فاصلہ مَشْرِق ومَغْرِب کے فاصلے سے زِیادہ ہے۔''(التر غیب والترھیب ،کتاب البر والصلۃ ، باب التر غیب فی قضاء حوائج المسلمین .. الخ رقم ۸ ، ج۳ ، ص ۲۶۳)
اللہ پاک ہمیں بھی اپنے مُسَلمان بھائیوں کی خبر گیری کرنے اوران کی مُشکِلات حل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami