Share this link via
Personality Websites!
کبھی فُضُول اَشعار گُنگنائے اور نہ ہی ان کی تَمنّا کی، زَمانۂ جاہلیت اور زَمانۂ اسلام دونوں میں کبھی شراب نہ پی اور جب سے میں نے دو جہاں کے تاجور، سُلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بَیْعَت کی ہے، تَب سے اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرمگاہ کو نہیں چُھوا۔(تاریخ ابن عساکر، ج۳۹، ص۲۲۵)مزید فرماتے ہیں:میں بند کمرے میں غُسل کرتا ہوں تواللہ پاک سے حَیاکی وجہ سے سِمَٹ جاتا ہوں۔ (مرقَاۃُ الْمَفَاتِيْح ج۸ ص۸۰۳، تحت الحدیث ۵۰۷۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !یہ تو اَمِیرُ الْمُؤ منین حضرت سَیِّدُنا عُثمانِ غَنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شرم وحَیاتھی ،جبکہ ہمارے ہاں بے شَرمی وبےحَیائی کا عالَم یہ ہے کہ بعض لوگ ٹی وی پرفلموں ڈراموں کے فُحُش(بیہودہ)مَناظرکبھی تنہا تو کبھی پوری فیملی کے بِیچ میں بڑی دِلْچسپی سے دیکھتے ہیں، اب تومعاذاللہعَزَّوَجَلَّ گناہ اِس قدر عام ہوگیا ہے کہ موبائل وانٹرنیٹ کے ذریعے نہ جانے کیسے کیسے گناہوں کا اِرتکاب بآسانی کیا جاتا ہوگا۔سوشل میڈیا کے ذریعے ترقی کی منازل کی تلاش اوردُنیوی معلومات سے اپنے آپ کو ہر وقت اپ ڈیٹ رکھنے کی سوچ میں شاید کئی لوگ گناہوں کے سمندر میں اُتر کراپنے قیمتی وقت کو برباد کرتے ہوں گے،شادی بیاہ اوردیگر تقریبات میں بیہودہ فنکشنز (Function)کااِنتظام کیا جاتا ہے،جن میں مرد و عورت کا اِخْتلاط(مَیْل جَول)اورہنسی مَذاق کیاجاتا ہے۔اکثر گھر سینما گھروں اور اَکثر مَجالس نَقَّار خانوں(یعنی نوبت وڈھول وغیرہ بجانے کی جگہوں) کا سَماں پیش کر تی ہیں، بے پردہ خواتین شرم وحَیا کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گلی بازاروں کی زِینت بنتی ہیں تومرد بھی اپنی آنکھوں سے حَیا دھو ڈالتے ہیں اور ایسی خواتین کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنا گویاکہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔الغرض ہمارا مُعاشَرہ فَحاشی، عُریانی و بے حَیائی کی آگ کی لپیٹ میں بڑی تیزی سےآتا جا رہا ہے، جس کے سبب خاص کر نئی نَسْل اَخْلاقی بے راہ رَوی و شدید بَدْعملی کا شکار ہوتی جارہی ہے۔ ہمارے مُعاشرے میں حَیا ختم ہونے کےسبب ہی ہم سرِ عام
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami