Share this link via
Personality Websites!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عُموماً دیکھا جاتا ہے کہ ایک غلام تو اپنے آقا کی عنایتوں اور اس کے لُطف وکرم کے سبب اس کی تعریف میں رَطَبُ الِّلسان رہتاہے۔ لیکن کمال یہ ہے کہ جب آقا بھی اپنے غُلام کی خُوبیوں پر اس کی تعریف کرے اور اس سے قائم ہونے والے والہانہ تَعَلُّق کا اِظہار کرے۔ اَمِیْرُالمؤمنین حضرت سَیّدُنا عُثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا شُمار بھی ان خُوش نصیب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں ہوتا ہے کہ جن کے حق میں حُضُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لَبِ جاں بخش نے کئی بار جُنْبِشْ فرمائی ،کبھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو دربارِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ سے جَنَّت کامُژدہ عطاہوا، تو کبھی آپ کومیٹھےمُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےاپناجَنَّتی رفیق قَراردیا،کبھی آپ کو کامل حَیا کی سَنَد عطا فرمائی تو کبھی آپ کی شَفاعت کے ذَرِیْعے لوگوں کے جَنَّت پانے کا اعلان فرمایا۔ آئیے! شانِ عُثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مُتَعَلِّق چار(4)فرامینِ مُصْطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَسُنتے ہیں:
-1عُثمان مجھ سے ہے اور میں عُثمان سے ہوں۔ (تاریخِ دمشق، ۳۹/۱۰۲)
-2جَنَّت میں ہر نبی کا ایک رفیق ہوگااور میرے رفیق عُثمان بن عَفّان ہیں۔ (تاریخِ دمشق، ۳۹/۱۰۴)
-3بروزِ قِیامت عُثمان کی شفاعت سے سَتّر ہزار (70000) ایسےآدمی بِلاحساب جَنَّت میں داخل ہوں گے جن پر جَہنَّم واجب ہو چکی ہو گی۔ (تاریخِ دمشق، ۳۹/۱۲۲)
-4حَیا ایمان سے ہے اور میری اُمَّت میں سب سے زِیادہ حَیا دار عثمان ہیں۔ (تاریخِ دمشق، ۳۹/۹۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شرم وحَیا کے بھی کیا کہنے کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے حَیا فرماتے ہیں۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہمیشہ نہایت عُمدہ اَوصاف کے حامل رہے،یہاں تک کہ زمانۂ جاہلیّت میں بھی کئی بُرائیوں سے دُوررہے ،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خُود اپنے بعض اَوصاف بیان کرتے ہوۓ اِرْشاد فرماتے ہیں: میں نے نہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami