Share this link via
Personality Websites!
اُونٹ میرے ذِمّے ہیں۔حُضورسراپا نور، فیض گَنجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے پھرتَرغِیباً فرمایا۔توحضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دوبارہ کھڑے ہوئے اورعَرْض کی: یارَسُوْلَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !میں تمام سامان سَمیت دوسو (200) اُونٹ حاضِر کرنے کی ذِمّہ داری لیتا ہوں۔دوجہاں کےسُلطان،سَروَرِذیشانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صَحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے پھرتَرغِیباً اِرْشادفرمایا توحضرتِ سَیِّدُناعُثمانِ غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عَرْض کی:یارَسُوْلَاللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!میں مع سامان تین سو(300) اُونٹ اپنے ذِمّے قَبول کرتا ہوں۔یہ سُن کر پیارے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بہت خُوش ہوئے ۔اسی لیے آپ کو ’’مُجَهِّزُ جَيْشِ الْعُسْرَةِ‘‘یعنی تنگی والے لشکر کی مالی مُعاوَنت کرنے والا کہتے ہیں۔(ترمذی، کتاب المناقب، مناقب عثمان بن عفان، ج۵، ص۳۹۱، حدیث: ۳۷۲۰)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کل کچھ لوگ دوسروں کی دیکھا دیکھی جَذبات میں آ کر چندہ دینے کیلئے نام لکھو اتو دیتے ہیں مگر جب دینے کی باری آتی ہے تو ان پر بھاری پڑ جا تاہے، حتّٰی کہ بعض تو دیتے بھی نہیں!مگرقُربان جائیے!محبوبِ مُصطَفٰے،سیِّدُ الْاَسْخیا،عُثمانِ باحَیا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جُودوسَخا پرکہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے اِعلان سے بَہُت زِیادہ چندہ پیش کِیا۔حکیمُ الاُمَّت ، حضرت مُفْتی احمد یا رخانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاِس حدیثِ پاک کے تَحْت فر ماتے ہیں: خیا ل رہے کہ یہ تو اُن کا اعلان تھا مگر حا ضِر کرنے کے وَقْت آپ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) نے950اُونٹ، 50گھوڑے اور 1000 اَشْرَفیاں پیش کیں،پھر بعدمیں 10 ہزار اَشْرَفیا ں اور پیش کیں۔(مُفْتی صا حبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مزید فرماتے ہیں) خیال رہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے پہلی بارمیں ایک سو(100) کا اعلان کِیا ،دُوسری بار 100اُوْنٹ کے علاوہ اور200کا ، تیسری باراور300 کا کل 600اُونٹ (پیش کرنے) کااِعلان فر مایا ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami