Share this link via
Personality Websites!
تحت فرماتے ہیں:جب والِدَین(ماں باپ) پر ضُعْف (کمزوری)کا غَلَبہ ہو ،اَعضاء میں قُوَّت نہ رہے اور جیسا تُو بچپن میں اُن کے پاس بے طاقت تھا ایسے ہی وہ آخرِ عُمْر میں تیرے پاس ناتُواں(کمزور)رہ جائیں۔تو کوئی ایسی بات زبان سے نہ نکالنا،جس سے یہ سمجھا جائے کہ اُن کی طرف سے طبیعت پرکچھ گِرانی(بوجھ) ہے ۔نہ اُنہیں جِھڑکنا نہ تیز آواز سے بات کرنا بلکہ کمالِ حُسْنِ اَدب(نہایت اچھے ادب)کے ساتھ ماں باپ سے اِس طرح کلام کر جیسے غُلام و خادِم(اپنے)آقا سے کرتا ہے۔اُن سے نَرمی و تَواضُع سے پیش آ ،اور اُن کے ساتھ تھکے وَقْت میں شَفقت و مَحَبَّت کا برتاؤ کر کہ اُنہوں نے تیری مجبوری کے وَقْت تجھے مَحَبَّت سے پَروَرِش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں دَرکار ہو وہ اُن پر خَرْچ کرنے میں دَرَیغ(بُخل)نہ کر۔مُدَّعا (مطلب) یہ ہے کہ دنیا میں بہتر سُلُوک اور خدمت میں کتنا بھی مُبالَغَہ کیا جائے لیکن والِدَین کے اِحسان کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔اِس لئے بندے کو چاہئے کہ بارگاہِ اِلٰہی میں اُن پر فَضْل و رَحمت فرمانے کی دُعا کرے اور عَرض کرے کہ یاربّ !میری خدمتیں اُن کے اِحسان کی جَزا (بدلہ)نہیں ہو سکتیں تُو اُن پر کرم کرکہ اُن کے اِحسان کا بدلہ ہو ۔
اُستاد کی کرتا رہوں ہر دم میں اِطاعت ماں باپ کی عزّت کی بھی توفیق خُدا دے
(وسائلِ بخشش مُرمّم،ص۱۱۳)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آئیے!اب احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں باپ کی شان اور باپ سے اچھا سُلوک کرنے کی اہمیت پر مشتمل6 فرامینِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سُنئے،چنانچہ
(1)ارشاد فرمایا:باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے،تیری مرضی ہے،اس کی حفاظت کر یا اسے چھوڑ دے۔(ترمذی،کتاب البر والصلة،باب :ماجاء من الفضل فی رضا الوالدین ،۳/ ۳۵۹، حدیث:۱۹۰۶)
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami