Share this link via
Personality Websites!
اور تلاوت کرنے والے بھی صحیح طریقے سے تلاوت کرتے ہیں اور نہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اللہ کریم نےاس کتاب میں ان کےلئےکیا فرمایا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں نےاس مُقَدَّس کتاب کوسینےسےلگاکرحِرْزِجاں بنائےرکھااوراس کےدَسْتُوروقوانین (Rules) اور اَحکامات پر سختی سے عمل پیرا رہے تب تک دنیا بھر میں ان کی شوکت کا ڈنکا بجتا رہا اور غیروں کے دل مسلمانوں کا نام سُن کر دہلتے رہے اور جب سے مسلمانوں نے قرآنِ عظیم کے احکام پر عمل چھوڑرکھا ہے تب سےوہ دنیا بھرمیں ذلیل و خوار ہورہےاوراَغیارکےدست نگر بن کررہ گئے ہیں۔
(صراط الجنان، ۳/۲۴۷)
وہ ز مانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ آیتِ کریمہ اوراس کی تفسیر سے معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم کے احکام پر عمل نہ کرنے کا دُنیوی نُقصان تو اپنی جگہ،اُخْروی نُقصان بھی اِنْتہائی شدید ہے،یقیناً جس نے اپنی زِنْدَگی میں اللہ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کے احکام پر عمل نہیں کیا،اللہ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کو راضی نہ کیا وہ دنیا میں بھی ذلیل وخوار ہوگا اور آخرت میں بھی اس کی سخت پکڑ ہوگی ۔
امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ،شیرِخدارَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبیِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا:عنقریب ایک فتنہ برپا ہوگا۔ میں نے عرض کی:یا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ!اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہوگا؟آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےارشادفرمایا:اللہ تعالیٰ کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami