Book Name:Mout Se Ibrat Hasil Karain

میں مخلوط(Mixed) ماحول ہوجاتا ہے(یعنی مردوعورت ایک ساتھ گُھومتے پھرتے) اور پھر بد نگاہیوں،بے پردگیوں اور حرام  کاموں کا نہ رُکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے،حالانکہ  شریعت میں نامحرموں کے ساتھ میل جول کی مذمّت آئی ہے،چنانچہ حضرت سَیِّدُنا علامہ  ابُوالفرج عبدالرّحمن بن جوزى  رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نقل فرماتے ہىں:عورت کے مَحاسن (ىعنى حُسن  و جمال) کو دىکھنا اِبلىس کےتِىر وں مىں سے زہر میں بجھا ہوا ایک تِىر ہے،جس نے نامَحْرم سے آنکھ کى حفاظت نہ کى، اُس کى آنکھ مىں بروزِ قىامت آگ کى سَلائى پھىرى جائے گى۔(بحر الدموع،ص۱۷۱)

اسی طرح  ٹیپ ریکارڈر یا اِیکوسسٹم بلکہ اب تومَعَاذَاللہموبائل  پرسارا سارا دن گانے چلا ئے جاتے ہیں۔یاد رکھئے! گانے باجے سننا گناہ ہے بلکہ کہیں سے اس کی آواز آرہی ہوتو وہاں سے ہٹ جانا اور نہ سننے کی بھر پور کوشش کرنا ضَروری ہے چُنانچِہ حضرتِ علامہ شامی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فر ما تے ہیں : بانسری اور دیگر سازوں کا سننا بھی حرام ہے اگر اچانک سُن لیا تو معذور ہے اور اس  پر واجِب ہے کہ نہ سننے کی پوری کوشِش کرے۔( رَدُّ المُحتار ج۹ ص۶۵۱) گانے باجے سُننے والے نادان اپنی اس بیہودہ حرکت سے بیماروں ،ضعیفوں(بوڑھوں) اور سونے والوں کا سکون برباد کرکے ان کی دل آزاری کرتے  اور ان کی بد دعائیں لیتے ہیں ،شاید یہی وجہ ہے کہ ان فضول رسموں اور حرام کاموں سے آلُودہ  ہونے کے وجہ سے  یہ شادیاں باعثِ برکت  نہیں بلکہ وبالِ جان بنتی جارہی ہیں ۔لہٰذا شادی  جیسی عظیم سُنَّت کوفضول رسومات ، دِکھاوے اور گناہوں کا مجموعہ بنانے کے بجائے خالصۃًاللہپاک  اوراس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی رضا و خوشنودی  کیلئے کریں ۔

فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے:اے لوگو!اللہ کیلئے  اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہاللہ پاک وہی اعمال قبول فرماتاہے، جو اس  کیلئے اخلاص کے ساتھ کئے جاتے  ہیں  او ریہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہپاک اورر شتہ داری کی وجہ سےکیا ہے۔ (دارقطنی،کتاب الطہار ۃ ، باب النیۃ