Book Name:Buri Sohabat Ka Wabal

صُحبت میں بیٹھتا تھا  جب اُس کی موت کا وقت قریب آیا تو کسی نے کَلِمہ شریف کی تلقین کی تو کہنے لگا:تم بھی پیو اور مجھے بھی پلاؤ۔مَعَاذَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ بِغیر کَلِمہ پڑھے مرگیا (جب شرابیوں کی صُحبت کا یہ حال ہے تو شراب پینے کا کیا وَبال ہو گا !)ایک شطرنج کھیلنے والے کو مرتے وقت کَلِمہ شریف کی تلقین کی گئی تو کہنے لگا:شاھَکَ (یعنی تیرا بادشاہ) یہ کہنے کے بعد اُس کا دم نکل گیا ۔(کتابُ الکبائر،ص ۱۰۳ملخصاً)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ اچھی صحبت اپنانے میں فائدہ ہی فائدہ ہے جبکہ  بُروں کی صحبت اختیار کرنے میں دِین و دنیا کا سراسر نُقصان ہی نُقصان ہے کہ بُری صحبت انسان کے ایمان کو بھی برباد کرڈالتی ہے،عموماًلوگ جان لیوا،خوفناک اور زہریلے جانوروں،کیڑے مکوڑوں اور وحشت ناک چیزوں سے توڈرتے ہیں اور ان سے بچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اورپُر خطر (Dangerous) مقامات کے قریب سے بھی نہیں گزرتے، مگر افسوس! کہ ہلاکت و بربادی سے بھرپور بُری صحبتوں سے پیچھا چُھڑانا انتہائی دُشوار محسوس  کیا جاتا ہے،آہ! بُری صحبت کی نحوست ایسی چھا  ئی  ہے کہ عبادت میں دل نہیں لگتا۔لوگ  اپنے اکثر کاموں میں خوب غور  وفکر کرنے اور اپنا فائدہ دیکھنے کے بعد ہی کوئی قدم اٹھاتے ہیں، مگر کسی کی صحبت اختیار کرتے وقت اس بات کا ذرا بھی خیال نہیں  کرتے کہ وہ ہمارے حق میں فائدے مند ثابت ہوگا بھی یا نہیں۔بہرحال کسی کو دوست بنانے سے  پہلے112مرتبہ غور کرلینا ضروری ہے تاکہ بعد میں کسی قسم کا پچھتاوا نہ ہو،پیارے پیارے آقا،مکی مدنی مصطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے:اَلْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيْلِهِ فَلْيَنْظُرْ اَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِطُیعنی آدمی اپنے دوست کے دِین پر ہوتا ہے اُسے یہ دیکھنا چاہئے کہ کس سے دوستی کرتا ہے۔ (مُسند امام احمد، ۳/۱۶۸، حدیث:۸۰۳۴)

حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: کسی سے دوستی کرنے سے پہلے اسے جانچ لوکہ اللہ (عَزَّ  وَجَلَّ)(اور) رسول (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کامُطیع(یعنی فرماں بردار)ہےیا نہیں،