• khutba bismillah

Personality Websites!

  • About Muhammad صلی اللہ علیہ وسلم
  • Abdul Qadir Jilani رحمۃ اللہ علیہ
  • Imam Ahmed Raza رحمۃ اللہ علیہ
  • Maulana Ilyas Qadri
  • Haji Ubaid Raza
  • Mufti Qasim Attari

Countries Websites

  • Pakistan
  • USA
  • Canada
  • UK
  • Korea
  • Australia
  • Bangladesh

Popular Websites

  • Hajj and Umrah
  • Darul Ifta Ahlesunnat
  • Al Quran Karim
  • Obligatory Knowledge
  • Islamic Sisters
  • New Muslim
  • Special Persons
  • Muslim Funeral
  • Tree Plantation
  • Build Masajid
  • Faizan Online Academy
  • Monthly Magazine
  • Rohani Ilaj
Al Quran Books Madani Channel
dawateislami logo
Magazine Courses Media
Donate
    Donate
    • Home arrow icon
    • Islamic Speeches arrow icon
    • جھوٹ کی بدبو arrow icon
    • page 10
    book-logo
    book_icon
    جھوٹ کی بدبو
    Share
    close

    Share this link via

    zoom-in
    zoom-out
    full screen
    • zoom-in
    • zoom-out
    • full screen
    GO

    گہری نیند سو جائیں تو آرام سے گلے کے پاس کے بال کاٹ لیجئے گا ، اس مشورہ پر دونوں متفق ہو گئے ۔ اب وہ تاجر کے پاس گیا اور کہنے لگا :سردار! میں آپ کو ایک بہت افسوس ناک بات بتانا چاہتا ہوں ، وہ بھی صرف اس لئے کہ میں آپ کی شفقتوں کے زیرِ سایہ ہوں ، در اصل آپ کی زوجہ آپ سے بد دِل ہوگئی ہیں اور وہ کسی اور سے شادی کرنا چاہتی ہیں، اس سلسلے میں اس نے آپ کو قتل کرنے کا پُورا منصوبہ بھی بنا لیا ہے ، اگر آپ میری بات کی سچائی جاننا چاہیں تو آج رات بستر پر ان کو یوں ظاہر کیجئے گا، جیسے آپ گہری نیند سو رہے ہیں ، تب آپ کو اصل بات کا علم ہو جائے گا ، غلام کے اس جھوٹ کا تاجر کے دِل پر بڑا اَثر ہوا اور اُس نے غلام کی بات ماننے کا فیصلہ کر لیا ، جب رات ہوئی تو تاجر کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کربستر پر لیٹ گیا اور یہ ظاہر کیا جیسے وہ بہت گہری نیند سو چکا ہے ،جب  اس کی بیوی اُسترہ لیکربال کاٹنے کے اِرادے سے آگے بڑھی اور اُسترہ گلے پر رکھنے لگی ،توتاجر نے فوراً آنکھ کھول لی اور اُسترہ اتنے قریب دیکھ کر اُسے غلام کی بات کا یقین ہو گیا، اس نے فوراً زوجہ سے اُسترہ چھینا اور اس کے گلے پر پھیر دیا ، یکایک خون کا فوارہ اُبل پڑا ، جب وہ تڑپ تڑپ کر تاجر کے ہاتھ میں ٹھنڈی ہوئی تب تاجر کو کچھ ہوش آیا کہ وہ کیا کر بیٹھا ہے، بالآخر یہ معاملہ سارے شہر میں پھیل گیا اور تاجر کو بھی اپنی زوجہ کے قتل کی پاداش میں سُولی چڑھا دیا گیا۔ (فاکھة الخلفاء ، ص۱۵۷، دارالاٰفاق العربية)

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے کہ جھوٹ نے کیسےخُوشیوں بھرے گھر کو ویران کر دیا اوراس کے مکینوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ۔اس حکایت سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کو معمولی عیب نہیں سمجھنا چاہیے جیسا کہ اس تاجر نے غلام کے اس عیب کو معمولی سمجھا اور بالآخرکتنے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ یک طرفہ کسی کی بات سُن کر اس پر یقین نہیں کر نا چاہیے،جب تک اچھی طرح تحقیق نہ کر لی جائے  جیسا کہ اس حکایت میں تاجر اور اس کی زوجہ نے جھوٹے غلام کی بات سُن کر یقین کر لیا جس کے بھیانک نتائج بالآخر دونوں میاں بیوی کو بھگتنے پڑ ے  ۔


     

     

    zoom-in
    zoom-out
    full screen
    • zoom-in
    • zoom-out
    • full screen
    GO

    BOOK TOPIC

    left-arrow
    • دُرُود شَرِیف کی فضیلت
    • بَیان سُننے کی نیّتیں
    • زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنے والی اندھی ہوگئی
    • جھوٹے آدمی کے منہ سے اُٹھنے والی بدبُو
    • جُھوٹ کو مَعمُولی عَیب سمجھنے والے کا عِبرَتناک انجام
    • لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا
    • کسی چیز کی خواہش ہونے کے باوجود جُھوٹ بولنا
    • بچوں کی مدنی تربیت:
    • جھوٹے خواب بیان کرنا
    • جھوٹے خواب سنانے کا انجام
    • مال بیچنے کے لیے جھوٹ بولنا
    • مجلس مدنی مُذاکرہ کا تعارُف
    • مدنی انعامات
    • مدنی بہار
    • اپریل فُول کیا ہے؟
    • چلنے کی سنتیں اور آداب
    footer logo

    Dawateislami is one of the great Islamic organizations in the world.

    Important

    • Social and Welfare
    • Books
    • Islamic Events
    • Magazine
    • Activities
    • Islamic Education

    Mobile Apps

    • Sirat ul Jinan
    • Al Quran ul Kareem
    • Prayer Times
    • Faizan e Hadees
    • Digital Services
    • Kalma & Dua

    Contact Us

    • phone (+92) 21-34921388-93
    • phone (+92) 21-111-25-26-92
    • emial support@dawateislami.net
    • pin location Global Madani Markaz, Faizan-e-Madina, Near Capital Telephone Exchange, Main University Road, Karachi, Pakistan

    ©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami