Book Name:Bap Aulad Ki Tarbiyat Kesay Karay

والدِمحترم کا انتقال ہوگیا ۔باپ کا سایۂ شفقت اُٹھ جانےاور ان کی تربیت سے محروم ہونے کے باوجود بھی امیر اہلسنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ خوفِ خدا وعشقِ مصطفٰے کےایسے پیکر بنے کہ ان کی نگاہِ وِلایت سے لاکھوں لاکھ بے نمازی،نمازی بنے،چور،ڈاکو تائب ہوئے،دُوسروں کی عزّتیں خراب کرنے والے ، عزّتوں کے محافظ بن گئے،مختلف جرائم میں مُلَوَّث جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی کے اندھیرے دن گزارنے والے،راہِ خدا میں مدنی قافلوں کے مسافربن کرسُنّتوں کے پھول لُٹانے والے مبلغ بن گئے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

یتیم کے ساتھ ہمارا برتاؤ

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!شیخِ طریقت،امیراہلسنتدَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ والدصاحب کاسایۂ شفقت اُٹھ جانے کے بعد نہ صرف خود نیک،نمازی سنتوں کے عادی بنے بلکہ لوگوں کوبھی یہ مدنی ذہن عطافرمادیا کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ‘‘ مگر افسوس کہ  آج ہمارے  معاشرے میں اگرکوئی بچہ  یتیم ہوجائے تو بیگانے تو دور کی بات، اس کے  اپنے ہی اس  سے منہ موڑلیتے ہیں اور پھر اس کی تربیت اور کَفالت کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ،حالانکہ ہونا تو یہ  چاہیے تھا کہ ان کو سینے لگا کران  کےسرپر دستِ شفقت پھیرا جاتا، ان کی بہتر تعلیم وپرورش کی ذمہ داری قبول کی جاتی۔یادرکھئے!یتیم بچوں سے مَحَبَّت کرنے اور ان کی کفالت کرنے کے بڑے فضائل   ہیں۔آئیے! اس ضمن میں 3 فرامینِ مصطفے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ سنتے ہیں :

1.   جب کسی قوم کے دسترخوان پر کوئی یتیم بیٹھتاہے تو شیطان ان کے دستر خوان کے قریب نہیں آتا۔(مجمع الزوائد ،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی الایتام ولارامل، رقم ۱۳۵۱۲، ج۸، ص ۲۹۴)

2.   اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک سب سے پسندیدہ گھر وہ ہے، جہاں یتیم کی عزّت کی جاتی ہو۔