Share this link via
Personality Websites!
گُمان(ظن) کی دو (2)قسمیں ہیں :ایک حُسنِ ظن اور دُوسرا سُوئے ظن(بدگمانی)۔
حُسنِ ظن کا مطلب ہے اِعْتِقَادُ الْخَیْرِ وَالصَّلاحِ فِیْ حَقِّ الْمُسْلِمِیْنَیعنی مُسَلمانوں کے حق میں بھلائی اورخیر کا یقین کرلینا۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الآداب، باب ماینہی عنہ من التہاجر۔۔۸/۷۷۹)جیسے عین جماعت کے وَقْت کسی کو مسجِد سے باہر نکلتا دیکھ کر یہ گمان کرنا کہ اس کا وضوباقی نہ رہا ہوگا یا اسے کوئی اور عُذرِ شرعی دَرپیش ہوگا۔
صدرالافاضل،حضرت علامہ مولانا مفتی سید محمد نعیم الدین مُراد آبادی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ گمان کی اقسام اور اُن کاحکم بیان کرتے ہوئے اِرشاد فرماتے ہیں:
"گمان کی کئی قِسمیں ہیں،ایک واجب ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ اچھا گمان رکھنا، ایک مُسْتَحَب وہ مومنِ صالح کے ساتھ نیک گمان رکھنا،ایک ممنوع حرام ہے،وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ بُراگمان کرنا اورمومن کے ساتھ بُرا گمان کرنا،ایک جائز وہ فاسقِ مُعلن کے ساتھ ایسا گُمان کرنا جیسے افعال اُس سے ظہور میں آتے ہوں"۔(خزائن العرفان ،پ۲۶،الحجرٰت ،تحت الآیۃ ۱۲ )
حُسنِ ظن کے مُتَعلِّق احادیثِ طیّبہ:
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami