Share this link via
Personality Websites!
بَیان کردہ آخری حدیثِ مُبارکہ کے تحت مُفسرِ شہیر،حکیمُ الاُمَّت، مُفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:مُسلمانوں سے اچھا گُمان کرنا ، ان پر بدگُمانی نہ کرنا یہ بھی اچھی عبادات میں سے ایک عبادت ہے ۔ (مرآۃ المناجیح ج۶ ص ۶۲۱)
میٹھے میٹھے اسلامی
بھائیو!یقیناً کسی مسلمان کے بارے میں حُسنِ ظن رکھنا
بھی نیکی ہے، مگر شیطان لَعین ہمیں اس سے روکنے کی پُوری کوشش کرے گا اورپلٹ پلٹ
کر وار کرے گا تا کہ ہم کسی طرح بد گمانی میں مبُتلاہوجائیں ۔ بَسا اَوقات شیطان
کسی مسلمان کے بارے میں بدگمانی پیدا کرنے کیلئے اس طرح دھوکہ دیتاہے کہ یہ
تیری ہوشیاری اور ذہانت ہےاورچونکہ تُو مومن ہے اور مومن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نُور سے دیکھتا ہے تو تُونے اپنی مومنانہ فِراست سے
حقیقت کا سراغ نکال لیاہے،حالانکہ حقیقت میں وہ اس وَقْت شَیطان کے فریب کا شکار
ہوکربدگمانی کے گُناہ میں مبُتلا ہورہا ہوتاہے۔اسی طرح فون پر کوئی اَہَم بات
کرنی ہو تو ایک دو بار جواب نہ ملنے پر تو حُسنِ ظن جَما لیا جاتا ہے، لیکن وقفے
وقفے سے چند بار کال کرنے پر بھی جب دوسری طرف سے کال ریسیو نہ ہو تو اب
بدگمانیوں، غیبتوں، تہمتوں اور دل آزاریوں کا نہ تھمنے والا ایسا سلسلہ شُروع
ہوتا ہے کہ اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ۔ایسے موقع پہ اگر کوئی حُسنِ ظن رکھنے، بد گمانیوں سے بچنے
اور صِلۂ رحمی کرنے پر مُشْتمل نیکی کی دعوت پیش کر دے تو اسے بھی بُری طرح جھاڑ
دیا جاتا ہے۔حالانکہ جب تک کوئی واضح بات سامنے نہ آجائے،ہمیں حُسنِ ظن
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami