Share this link via
Personality Websites!
پہنچنے پرہمیں اس طرح بھی ذہن بنانا چاہئےكہ شاىد میری برائیوں کی سزا آخرت كے بجائے دنىا ہى مىں دے دى گئى ہے۔اس طرح امىد ہے كہ صبر آسان ہوجائے گا۔خدا کی قسم!مرنے كے بعد ملنے والى سزا كے مُقابلے مىں دُنىا كى سزا انتہائى آسان ہے، دُنىا كى مُصىبت آدمى برداشت كر ہى لىتا ہے مگر آخرت كى مصىبت برداشت كرنا ناممکن ہے۔
لہٰذا مَصائب و آلام پر شِکوے شکایات کرنے،ہروقت لوگوں کے سامنے اپنی پریشانیوں کارونا رونے اور اپنی زبان سے کُفْریات بکنے کے بجائے ان آزمائشوں اور تکلیفوں کا سامنا کرتے ہوئے صَبْر وتَحمُّل سے کام لینا چاہئے۔یاد رکھئے !ربُّ الاَنام عَزَّوَجَلَّ كے ہر كام مىں ہزارہا حکمتیں پوشیدہ ہوتى ہىں جو ہماری عقل میں نہیں آتیں، کبھی کبھار تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ مصیبتیں نازل فرماکر اپنے بندوں کو آزماتابھی ہے اور جب وہ صبر کرتے ہیں تو اُن کے گناہوں کو مٹاتا اور دَرجات کو بلند فرماتا ہے ۔لہٰذا ہم پر جوبھی مصیبتیں آتی ہیں ہمارے ہی بھلے اور بہتری کے لئے آتی ہیں اگرچہ ہمیں اس کی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔آئیے ! مصیبت پر صبر کرنے کی فضیلت سے متعلق صبر کے تین حروف کی نسبت سے 3 فرامین ِ مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم سنتے ہیں۔
1. ’’اللہعَزَّ وَجَلَّ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے مصیبت میں مبتلا فرمادیتا ہے ۔‘‘([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami