- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- باب:ان تینوں کے فضائل
باب:ان تینوں کے فضائل
فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور ابوبکر صدیق عمر و عثمان احد پر چڑھے تو وہ ان سب پر کانپا ۱؎حضور نے اسے اپنے پاؤں سے مارا فرمایا اے احد ٹھہر جا کہ تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۲؎(بخاری)
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ فَضَرَبَهٗ بِرِجْلِهٖ فَقَالَ: « اُثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6083 ، باب:ان تینوں کے فضائل
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں تھا ۱؎کہ ایک صاحب آئے دروازہ کھولنے کو کہا،نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ان کے لیے کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو ۲؎وہ ابوبکر تھے میں نے انہیں حضور کے فرمان کی بشارت دے دی انہوں نے اللہ کا شکر کیا ۳؎پھر اور صاحب آئے انہوں نے دروازہ کھلوایا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ان کے لیے بھی کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو ۴؎میں نے کھولا تو وہ جناب عمر تھے میں نے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کی خبر دی انہوں نے خدا کا شکر کیا پھر ایک اور صاحب نے دروازہ کھلوایا مجھ سے حضور نے فرمایا کہ ان کے لیے بھی کھول دو اور انہیں بھی جنت کی بشارت دو ایک مصیبت پر جو انہیں پہنچے گی ۵؎میں نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کی خبر دی انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور بولے اللہ مددگار ہے ۶؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ لَهٗ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» فَفَتَحْتُ لَهٗ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ فَبَشَّرْتُهٗ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللّٰهَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْتَحْ لَهٗ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» . فَفَتَحْتُ لَهٗ فَإِذا هُوَ عُمَرُ فَأَخْبَرْتُهٗ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللّٰهَ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ فَقَالَ لِي: «افْتَحْ لَهٗ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلٰى بَلْوٰى تُصِيبُهُ» فَإِذَا عُثْمَانُ فَأَخْبَرْتُهٗ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللّٰهَ ثمَّ قَالَ: اَلله ُالْمُسْتَعَانُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6084 ، باب:ان تینوں کے فضائل
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی شریف میں کہا کرتے تھے ابو بکر،عمر،عثمان اللہ ان سے راضی رہے ۱؎(ترمذی)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ:أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِي الله عَنْهُم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6085 ، باب:ان تینوں کے فضائل
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آج رات ایک نیک بندے کو خواب دکھایا گیا ۱؎گویا ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ پیوستہ کیے گئے(جوڑے گئے)اور عمر ابوبکر کے ساتھ جوڑے اور عثمان عمر کے ساتھ جوڑے گئے ۲؎حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سے اٹھے تو ہم نے کہا کہ نیک بندے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۳؎رہا ان کے بعض کا بعض سے جوڑا جانا یہ وہ خلفاء دین ہیں جس دین کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو بھیجا ۴؎(ابوداؤد)
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُرِيَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ كَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ نِيطَ عُمَرُ بِأَبِي بَكْرٍ وَ نِيطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ» قَالَ جَابِرٌ: فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللّٰهِ وَأَمَّا نَوْطُ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ فَهُمْ وُلَاةُ الْأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللّٰهُ بِهٖ نَبِيَّهٗ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6086 ، باب:ان تینوں کے فضائل