باب: معراج کا بیان

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے حضرت قتادہ سے وہ حضرت انس ابن مالک سے وہ مالک ابن صعصعہ سے راوی ۱؎کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے انہیں اس رات کے متعلق خبر دی جس میں حضور کو معراج کرائی گئی۲؎جب کہ میں حطیم بسا اوقات فرمایا کہ حجر میں تھا۳؎کہ میرے پاس ایک آنے والا آیا اس نے یہاں سے یہاں تک چیرا یعنی آپ کے گلے کی گھنڈی سے آپ کے بالوں تک۴؎پھر میرا دل نکالا پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان سے بھرا تھا پھر میرا دل دھویا گیا ۵؎پھر اسے بھردیا گیا پھر لوٹا دیا گیا اور ایک روایت میں ہے پھر پیٹ دھویا گیا زمزم کے پانی سے پھر ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا ۶؎پھر میرے پاس ایک جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا سفید رنگ تھا جسے براق کہا جاتا ہے۷؎وہ اپنی انتہائی نظر پر اپنا ایک قدم رکھتا ہے تو میں اس پر سوار کیا گیا ۸؎پھر مجھے جبرئیل علیہ السلام لے چلے حتی کہ وہ دنیا کے آسمان پر پہنچے ۹؎دروازہ کھلوایا کہا گیا کون۱۰؎فرمایا جبریل،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے، فرمایا حضور محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں،کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہےکہا ہاں ۱۱؎ان کی خوش آمدید ہو وہ خوب آئے پھر دروازہ کھول دیا گیا،جب میں داخل ہوا تو وہاں جناب آدم علیہ السلام تھے۱۲؎کہا یہ تمہارے والد آدم علیہ السلام ہیں انہیں سلام کرو ۱۳؎میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا،پھر فرمایا صالح فرزند صالح نبی تم خوب تشریف لائے ۱۴؎پھر مجھے جبرئیل علیہ السلام اوپر لے گئے حتی کہ دوسرے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون بولے میں ہوں جبریل،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہیں،کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم،کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں،کہا خوش آمدید تم بہت ہی اچھا آنا آئے،پھر دروازہ کھول دیا گیا تو جب میں اندر پہنچا تو ناگہاں وہاں حضرت یحیی علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام تھے وہ دونوں خالہ زاد ہیں ۱۵؎جبریل علیہ السلام نے کہا یہ یحیی علیہ السلام ہیں یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کرو میں نے سلام کیا ۱۶؎ان دونوں نے جواب دیا پھر کہا صالح بھائی صالح نبی آپ خوب آئے،پھر جبریل علیہ السلام مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے گئے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون وہ بولے جبریل علیہ السلام ہوں،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے،کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،کہا گیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں خوش آمدید تم خوب ہی آئے پھر دروازہ کھول دیا گیا جب میں داخل ہوا تو وہاں حضرت یوسف علیہ السلام تھے ۱۷؎جبریل علیہ السلام نے کہا یہ یوسف علیہ السلام ہیں انہیں سلام کرو میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا صالح بھائی صالح نبی آپ خوب آئے ۱۸؎پھر مجھے اوپر لے گئے حتی کہ چوتھے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا گیا، کہا گیا کون ہیں فرمایا میں جبریل ہوں،کہا گیا تمھارے ساتھ کون ہے کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم،کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں کہا گیا خوش آمدید اچھا آنا آپ آئےدروازہ کھو لا گیا جب ہم اندر داخل ہوئے تو وہاں حضرت ادریس علیہ السلام تھے۱۹؎جبریل علیہ السلام نے کہا یہ ادریس علیہ السلام ہیں آپ انہیں اسلام کریں میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا کہا خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی۲۰؎پھر مجھے اوپر چڑھایا گیا حتی کہ پانچویں آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون ہے کہا میں جبریل علیہ السلام ہوں،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں بلایا گیا ہے،کہا گیا خوش آمدید آپ اچھا آنا آئے دروازہ کھولا گیا جب میں اندر گیا تو وہاں حضرت ہارون علیہ السلام تھے ۲۱؎جبریل علیہ السلام نے کہا یہ ہارون علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی۲۲؎پھر مجھے اوپر لے گئے حتی کہ چھٹے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون ہے کہامیں جبریل علیہ السلام ہوں،کہاگیا تمہارے ساتھ کون ہے کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،کہاگیا کیا انہیں بلایاگیا ہے کہا ہاں،کہاگیا خوش آمدید آپ اچھا آنا آئے دروازہ کھولا گیا میں جب اندر پہنچا تو وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے۲۳؎جبریل علیہ السلام نے کہا یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا خوش آمدید اے صالح بھائی صالح نبی جب وہاں سے آگے بڑھے تو وہ رونے لگے۲۴؎ان سے کہا گیا کیا چیز آپ کو رُلا رہی ہے فرمایا اس لیے کہ ایک فرزند ۲۵؎میرے بعد نبی بنائے گئے ان کی امت میری امت سے زیادہ جنت میں جائے گی ۲۶؎پھر مجھے ساتویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا،کہا گیا کون ہے کہا میں جبریل علیہ السلام ہوں،کہا گیا تمہارے ساتھ کون ہے،کہا حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،کہا گیا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہا ہاں تو کہا گیا خوش آمدید آپ بہت اچھا آنا آئے،پھر جب میں وہاں داخل ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں تھے ۲۷؎جبرئیل علیہ السلام نے کہا یہ آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام ہیں آپ انہیں سلام کریں ۲۸؎میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا پھر کہا خوب آئے اے صالح فرزند صالح نبی ۲۹؎پھر میں سدرۃ المنتہیٰ تک اٹھایا گیا۳۰؎تو اس کے بیر ہجر کے مٹکوں کی طرح تھے ۳۱؎اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح،جبریل علیہ السلام نے کہا یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے وہاں چار نہریں تھیں: دو نہریں تو خفیہ تھیں اور دو نہریں ظاہر۳۲؎میں نے کہا اے جبریل یہ کیا ہے عرض کیا کہ خفیہ نہریں تو جنت کی دو نہریں ہیں۳۳؎لیکن ظاہری نہریں وہ نیل اور فرات ہیں۳۴؎پھر میرے سامنے بیت المعمور لایا گیا۳۵؎پھر میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا اور ایک برتن شہد کا لایا گیا ۳۶؎میں نے دودھ قبول کیا تو جبریل علیہ السلام نے کہا یہ وہ فطرت ہے جس پر آپ اور آپ کی امت ہے ۳۷؎پھر مجھ پر ہر دن میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں پھر میں واپس ہوا تو موسیٰ علیہ السلام پر گزرا ۳۸؎انہوں نے کہا آپ کو کیا حکم دیا گیا میں نے کہا ہر دن پچاس نمازوں کا،انہوں نے کہا کہ آپ کی امت ہر دن پچاس نمازوں کی طاقت نہیں رکھے گی۳۹؎الله کی قسم میں نے آپ سے پہلے لوگوں کی آزمائش کی اور بنی اسرائیل کو تو خوب آزمایا۴۰؎لہذا آپ اپنے رب کی طرف لوٹیے اور اس سے اپنی امت کے لیے آسانی مانگیے۴۱؎چنانچہ میں واپس ہوا تو اس نے مجھ سے دس نمازیں کم کردیں پھر میں جناب موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا میں پھر رب کی طرف لوٹا اس نے مجھ سے دس معاف فرمادیں میں پھر جناب موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا انہوں نے پھر وہی کہا میں پھر لوٹا اس نے مجھے سے دس اور معاف فرمادی میں پھر جناب موسیٰ کی طر ف لوٹا انہوں نے پھر وہی کہا میں پھر لوٹا رب نے مجھ سے دس اور معاف کردیں۴۲؎پھر میں جناب موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا انہوں نے پھر وہی کہا میں پھر لوٹا تو مجھے ہر دن پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا ۴۳؎میں پھر جناب موسیٰ کی طرف لوٹا انہوں نے کہا کہ آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے میں نے کہا ہر دن پانچ نمازیں،انہوں نے کہا کہ آپ کی امت ہر دن پانچ نمازوں کی طاقت نہیں رکھتی۴۴؎میں نے آپ سے پہلے لوگوں کی آزمائش کرلی ہے اور بنی اسرائیل کو تو میں نے اچھی طرح آزمالیا ہے آپ پھر اپنے رب کی طرف لوٹیے آپ اس سے اپنی امت کے لیے کمی کا سوال کریں ۴۵؎حضور نے کہا کہ میں نے اپنے رب سے اتنے سوال کرلیے کہ اب شرم کرتا ہوں لیکن میں راضی ہوں تسلیم کرتا ہوں ۴۶؎فرمایا کہ پھر میں جب آگے بڑھا تو پکارنے والے نے پکارا کہ میں نے اپنا فریضہ جاری کردیا اور اپنے بندوں سے تخفیف کردی۴۷؎(مسلم،بخاری)

عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةٍ أُسْرِيَ بِهٖ:«بَيْنَمَا أَنَا فِي الْحَطِيمِ وَرُبَّمَا قَالَ فِي الْحِجْرِ مُضْطَجِعًا إِذْ أَتَانِي آتٍ فَشَقَّ مَا بَيْنَ هَذِهٖ إِلٰى هَذِهٖ» يَعْنِي مِنْ ثَغَرَةِ نَحْرِهٖ إِلٰى شِعْرَتِهٖ «فَاسْتَخْرَجَ قَلْبِي ثُمَّ أُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَمْلُوءٍ إِيمَانًا فَغُسِلَ قَلْبِي ثُمَّ حُشِيَ ثُمَّ أُعِيدَ» - وَفِي رِوَايَةٍ: " ثُمَّ غُسِلَ الْبَطْنُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ مُلِئَ إِيمَانًا وَحِكْمَةً ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْلِ وَفَوْقَ الْحِمَارِ أَبْيَضَ يُقَالُ لَهٗ: الْبُرَاقُ يَضَعُ خَطْوَهٗ عِنْدَ أَقْصٰى طَرْفِهٖ فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ فَانْطَلَقَ بِي جِبْرِيلُ حَتّٰى أَتَى السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ. قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مرْحَبًا بِهٖ فَنِعْمَ الْمَجِيء جَاءَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا فِيهَا آدَمُ فَقَالَ: هٰذَاأَبُوكَ آدَمُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَامَ ثُمَّ قَالَ: مرْحَبًا بِالابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتّٰى أَتَى السَّماءَ الثَّانِيَةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهٖ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفُتِحَ. فَلَمَّا خَلَصْتُ إِذَا يَحْيٰى وَعِيسٰى وَهُمَا ابْنَا خَالَةٍ. قَالَ: هٰذَايَحْيٰى وَهٰذَاعِيسٰى فَسَلِّمْ عَلَيْهِمَا فَسَلَّمْتُ فَرَدَّا ثُمَّ قَالَا: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ. ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهٖ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ إِذَا يُوسُفُ قَالَ: هٰذَايُوسُفُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ. ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتّٰى أَتَى السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهٖ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا إِدْرِيسُ فَقَالَ: هٰذَاإِدْرِيسُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ صَعِدَ بِي حَتّٰى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهٖ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَفُتِحَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا هَارُونُ قَالَ: هٰذَاهَارُونُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءَ السَّادِسَةَ فَاسْتَفْتَحَ قِيلَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: مَرْحَبًا بِهٖ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا مُوسٰى قَالَ: هٰذَامُوسٰى فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالح فَلَمَّا جَاوَزْتُ بَكٰى قِيلَ لَهٗ: مَا يُبْكِيكَ ؟ قَالَ: أَبْكِي لِأَنَّ غُلَامًا بُعِثَ بَعْدِي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهٖ أَكْثَرُ مِمَّنْ يَدْخُلُهَا مِنْ أُمَّتِي ثُمَّ صَعِدَ بِي إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ قِيلَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ: مَرْحَبًا بِهٖ فَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ فَلَمَّا خَلَصْتُ فَإِذَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: هٰذَاأَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ السَّلَامَ ثُمَّ قَالَ: مرْحَبًا بِالابْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ ثُمَّ رُفِعْتُ إِلٰى سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى فَإِذَا نَبِقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ قَالَ: هٰذَاسِدْرَةُ الْمُنْتَهٰى فَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ: نَهْرَانِ بَاطِنَانِ وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ. قُلْتُ: مَاهٰذَانِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ ثُمَّ رُفِعَ لِيَ الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ وَإِنَاءٍ مِنْ عَسَلٍ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَقَالَ: هِيَ الْفِطْرَةُ أَنْتَ عَلَيْهَا وَأُمَّتُكَ ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ فَرَجَعْتُ فَمَرَرْتُ عَلٰى مُوسٰى فَقَالَ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: أُمِرْتُ بِخَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ خَمْسِينَ صَلَاةً كُلَّ يَوْمٍ وَإِنِّي وَاللّٰهِ قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ فَارْجِعْ إِلٰى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا فَرَجَعْتُ إِلٰى مُوسٰى فَقَالَ مِثْلَهٗ فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا فَرَجَعْتُ إِلٰى مُوسٰى فَقَالَ مِثْلَهٗ فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا فَرَجَعْتُ إِلٰى مُوسٰى فَقَالَ مِثْلَهٗ فَرَجَعْتُ فَوَضَعَ عَنِّي عَشْرًا فَأُمِرْتُ بِعَشْرِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ فَرَجَعْتُ إِلٰى مُوسٰى فَقَالَ مِثْلَهٗ فَرَجَعْتُ فَأُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ فَرَجَعْتُ إِلٰى مُوسٰى فَقَالَ: بِمَا أُمِرْتَ؟ قُلْتُ: أُمِرْتُ بِخَمْسِ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تَسْتَطِيعُ خَمْسَ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَإِنِّي قَدْ جَرَّبْتُ النَّاسَ قَبْلَكَ وَعَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ فَارْجِعْ إِلٰى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ قَالَ: سَأَلْتُ رَبِّي حَتّٰى اسْتَحْيَيْتُ وَلٰكِنِّي أَرْضٰى وَأُسَلِّمُ. قَالَ: فَلَمَّا جَاوَزْتُ نَادٰى مُنَادٍ: أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5862 ، باب: معراج کا بیان

روایت ہے حضرت ثابت بنانی سے وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے راوی کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میرے پاس براق لایا گیا ۱؎وہ سفید دراز جانور ہے گدھے سے اونچا خچر سے نیچا اپنی ٹاپ اپنی نگاہ کی حد پر رکھتا ہے ۲؎میں اس پر سوار ہوگیا حتی کہ میں بیت المقدس میں آیا تو میں نے اسے اس کڑے سے باندھا جس سے حضرات انبیاء باندھا کرتے تھے فرمایا۳؎پھر میں مسجد میں داخل ہو ا تو اس میں دو رکعتیں پڑھیں ۴؎پھر میں نکلا تو میرے پاس جبریل علیہ السلام ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا لائے تو میں نے دودھ اختیار کیا ۵؎تو جبرئیل علیہ السلام بولے کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا پھر ہم کو آسمان کی طرف چڑھایا گیا اور پچھلی حدیث کے معنی بیان کیے ۶؎فرمایا کہ ہم جناب آدم علیہ السلام کے پاس تھے انہوں نے مجھے مرحبا کہی اور مجھے دعا خیر دی فرمایا پھر تیسرے آسمان میں پہنچے تو میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس تھا انہیں دیا گیا ہے آدھا حسن ۷؎انہوں نے مجھے مرحبا کہی اور میرے لیے دعا خیر کی اور جناب موسیٰ علیہ السلام کا رونا ذکر نہیں کیا ۸؎اور فرمایا کہ ساتویں آسمان پر پہنچے تو ہم جناب ابراہیم علیہ السلام کے پاس تھے جو بیت المعمور سے اپنی پیٹھ لگائے تھے ۹؎اس میں ہر دن ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو پھر کبھی وہاں لوٹ کر نہیں آتے ۱۰؎پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس لے گئے تو اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے ۱۱؎اور اس کے پھل مٹکوں کی طرح تو جب اسے الله کے حکم سے وہ نورانیت چھا گئی تو سدرۃ ایک دم بدل گیا۱۲؎الله کی مخلوق میں کوئی نہیں جو اس کی خوشنمائی بیان کرسکے۱۳؎رب نے میری طرف جو وحی کی وہ کی۱۴؎پھر مجھ پر پچاس نمازیں ہر دن و رات میں فرض فرمائیں ۱۵؎پھر میں موسیٰ علیہ السلام تک اتر کر پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا میں نے کہا کہ ہر دن و رات میں پچاس نمازیں انہوں نے کہا اپنے رب کی طرف لوٹیےاس سے ہلکا کرنے کی درخواست کیجئے کیونکہ آپ کی امت یہ طاقت نہیں رکھتی ۱۶؎میں تو بنی اسرائیل کو آزما چکا ہوں ان پر تجربہ کرلیا ہے،فرمایا پھر میں اپنے رب کی طرف لوٹا میں نے عرض کیا یارب میری امت پر تخفیف فرما تو اس نے پانچ نمازیں کم کردیں ۱۷؎پھر میں جناب موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا میں نے کہا کہ مجھ سے پانچ کم کردیں انہوں نے کہا کہ آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی آپ اپنے رب کی طرف واپس جائیں اس سے کمی کا سوال کریں، فرماتے ہیں کہ میں اپنے رب اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان دورہ کرتا رہا حتی کہ فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہر دن و رات میں پانچ نمازیں ہیں ہر نماز کا دس گناہ ثواب تو یہ پچاس نمازیں ہی ہوئیں ۱۸؎جو کوئی کسی نیکی کا ارادہ کرے پھر وہ کرے نہیں تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاوے گی ۱۹؎پھر اگر وہ یہ کر بھی لے تو اس کے لیے دس لکھوں گا۲۰؎اور جو گناہ کا ارادہ کرے پھر کرے نہیں تو اس کے لیے کچھ نہیں لکھوں گا ۲۱؎پھر اگر وہ کرلے تو اس کے لیے ایک ہی گناہ لکھا جاوے گا۲۲؎فرماتے ہیں کہ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کی طرف اترا میں نے انہیں یہ خبر دی تو انہوں نے کہا کہ اپنے رب کی طرف واپس ہوجائیے اس سے کمی کا سوال کیجئے تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف اتنا لوٹ چکا کہ اب میں اس سے شرم کرتا ہوں۲۳؎(مسلم)

وَعَنْ ثَابِتٍ البُنانيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: « أُتِيتُ بِالبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَقَعُ حَافِرُهٗ عِنْدَ مُنْتَهٰى طَرْفِهٖ فَرَكِبْتُهٗ حَتّٰى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَرَبَطْتُّهٗ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي تَرْبِطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ».قَالَ:" ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ فاختَرتُ اللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرِيلُ: اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ ". وَسَاقَ مِثْلَ مَعْنَاهُ قَالَ: «فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ فرحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ» . وَقَالَ فِي السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ: «فَإِذا أَنا بِيُوسُف إِذا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ» . وَلَمْ يَذْكُرْ بُكَاءَ مُوسٰى وَقَالَ فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ: " فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ مُسْنِدًا ظَهْرَهٗ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهٗ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ ثمَّ ذَهَبَ بِي إِلٰى السِّدْرَةِ الْمُنْتَهٰى فَإِذَا وَرَقُهَا كآذَانِ الْفِيَلَةِ، وإذَا ثَمَرُهَا كَالْقِلَالِ فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللّٰهِ مَا غَشّٰى تَغَيَّرَتْ فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللّٰهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا وَأَوْحٰى اليَّ مَا أَوْحٰى، فَفَرَضَ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَنَزَلْتُ إِلٰى مُوسٰى فَقَالَ: مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلٰى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ. قَالَ: ارْجِعْ إِلٰى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذٰلِكَ فَإِنِّي بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَّرْتُهُمْ. قَالَ: " فَرَجَعْتُ إِلٰى رَبِّي فَقُلْتُ: يَا رَبِّ خَفِّفْ عَلٰى أُمَّتِي فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا فَرَجَعْتُ إِلٰى مُوسٰى فَقُلْتُ: حَطَّ عَنِّي خَمْسًا. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذٰلِكَ فَارْجِعْ إِلٰى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ ". قَالَ: " فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي وَبَيْنَ مُوسٰى حَتّٰى قَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ فَذٰلِكَ خَمْسُونَ صَلَاةً مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهٗ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهٗ عَشْرًا وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ لَهٗ شَيْئًا فَإِنَّ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهٗ سَيِّئَةً وَاحِدَةً ". قَالَ: " فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلٰى مُوسٰى فَأَخْبَرتُهٗ فَقَالَ: ارجعْ إِلٰى رَبِّكَ فَسَلْهُ التَّخْفِيفَ " فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَقُلْتُ: قَدْ رَجَعْتُ إِلٰى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5863 ، باب: معراج کا بیان

روایت ہے ابن شہاب سے ۱؎وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے راوی فرمایا کہ جناب ابوذر رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میرے گھر کی چھت کھولی گئی جب کہ میں مکہ میں تھا ۲؎پھر جناب جبریل علیہ السلام اترے انہوں نے میرا سینہ کھولا پھر اسے آب زمزم سے دھویا ۳؎پھر سونے کا ایک طشت لائے حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا اسے میرے سینہ میں لوٹ دیا۴؎پھر اسے سی دیا ۵؎پھر میرا ہاتھ پکڑا تو مجھے آسمان کی طرف لے گئے ۶؎تو جب میں دنیاوی آسمان تک پہنچا تو جبریل علیہ السلام نے آسمان کے خزانچی سے کہا کھولو اس نے کہا کون ہے،انہوں نے کہا یہ جبرئیل علیہ السلام ہیں،کہا کیا تمہارے ساتھ کوئی ہے کہا ہاں میرے ساتھ محمد صلی الله علیہ وسلم ہیں ۷؎اس نے کہا کیا انہیں بلایا گیا ہے کہاں ہاں ۸؎جب کھولا تو ہم دنیا کے آسمان میں چڑھ گئے وہاں ایک صاحب بیٹھے تھے جن کے داہنے کچھ جماعتیں تھیں اور ان کے بائیں کچھ جماعتیں تھیں تو جب اپنے داہنے دیکھتے تو ہنستے تھے اور جب اپنے بائیں دیکھتے تو روتے تھے ۹؎انہوں نے کہا نبی صالح فرزند صالح خوب آئے،میں نے جبرئیل علیہ السلام سے کہا کہ یہ کون ہیں،انہوں نے کہا یہ آدم علیہ السلام ہیں اور یہ جماعتیں جو ان کے داہنے بائیں ہیں وہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں،داہنے والے ان میں سے جنتی ہیں اور وہ جماعتیں جو ان کے بائیں طرف ہیں وہ دوزخی لوگ ہیں ۱۰؎جب وہ اپنے داہنے دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں اور جب اپنے بائیں دیکھتے ہیں تو روتے ہیں ۱۱؎حتی کہ مجھے دوسرے آسمان تک لے گئے پھر اس کے خزانچی سے کہا کھولو ان سے خزانچی نے اس طرح کہا جو پہلے نے کہا،انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور نے ذکر کیا کہ آپ نے آسمانوں میں حضرت آدم علیہ السلام،ادریس علیہ السلام،موسیٰ علیہ السلام،عیسیٰ علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام کو پایا یہ یاد نہ رہا کہ ان کے مقامات کیسے تھے۱۲؎بجز اس کے کہ انہوں نے یہ ذکر کیا کہ انہوں نے پہلے آسمان سے آدم علیہ السلام کو اور چھٹے آسمان میں ابراہیم علیہ السلام کو پایا۱۳؎ابن شہاب نے کہا کہ مجھے ابن حزم نے خبردی۱۴؎کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوحیہ انصاری کہا کرتے تھے ۱۵؎کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھے چڑھایا گیا حتی کہ میں ایک میدان میں پہنچا ۱۶؎جس میں قلموں کی چرچراہٹ سنتا تھا۱۷؎اور ابن حزم اور انس نے فرمایا کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ پھر الله تعالٰی نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں ۱۸؎تو میں یہ لےکر واپس ہوا حتی کہ موسیٰ علیہ السلام پرگزرا ۱۹؎کہ انہوں نے کہا کہ الله تعالٰی نے آپ کے ذریعہ آپ کی امت پر کیا فرض کیا میں نے کہا پچاس نمازیں فرض کیں ۲۰؎انہوں نے کہا کہ اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے کیونکہ آپ کی امت یہ طاقت نہیں رکھتی۲۱؎انہوں نے مجھے واپس کردیا رب نے آدھی نمازیں معاف کردیں میں پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا تو میں نے کہا کہ اس کی آدھی معاف فرمادیں۲۲؎انہوں نے کہا آپ اپنے رب کی طرف واپس جائیے کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی پھر میں واپس ہوا رب نے اس کی آدھی اور معاف فرمادیں ۲۳؎میں پھر موسیٰ کی طرف لوٹا،انہوں نے کہا کہ رب کی طرف لوٹ جائیے کیونکہ آپ کی امت یہ طاقت نہیں رکھتی پھر میں واپس گیا تو رب نے فرمایا کہ نمازیں پانچ ہیں وہ حقیقت میں پچاس ہیں ہمارے ہاں فیصلہ میں تبدیلی نہیں کی جاتی ۲۴؎میں پھر جناب موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا انہوں نے کہا کہ اپنے رب کی طرف واپس جائیے میں نے کہا کہ میں اپنے رب سے شرم کرتاہوں ۲۵؎پھر مجھے لے گئے حتی کہ میں سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچا ۲۶؎اور اس پر مختلف رنگ چھا گئے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا تھے ۲۷؎پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو اس میں موتی کی عمارتیں تھیں ۲۸؎اور اس کی مٹی مشک تھی ۲۹؎(مسلم، بخاری)

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فُرِجَ عَنِّي سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، فَنَزَلَ جِبْرَئِيلُ فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهٗ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهٗ فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهٗ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي، فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا. قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ السَّمَاءِ: افْتَحْ. قَالَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ جِبْرِيلُ. قَالَ: هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، مَعِيَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ فَلَمَّا فَتَحَ عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ قَاعِدٌ عَلٰى يَمِينِهٖ أَسْوِدَةٌ وَعَلٰى يَسَارِهٖ أَسْوِدَةٌ إِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهٖ ضَحِكَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شَمَالِهٖ بَكٰى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ. قُلْتُ لِجِبْرِيلَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: هٰذَاآدَمُ وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهٖ وَعَنْ شِمَالِهٖ نِسَمُ بَنِيهِ فَأَهْلُ الْيَمِينِ مِنْهُم أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَالأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهٖ أَهْلُ النَّارِ، فَإِذَا نَظَرَعَنْ يَمِينِهٖ ضَحِكَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شَمَالِهٖ بَكٰى حَتّٰى عُرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَقَالَ لِخَازِنِهَا: افْتَحْ فَقَالَ لَهٗ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ الْأَوَّلُ " قَالَ أَنَسٌ: فَذَكَرَ أَنَّهٗ وَجَدَ فِي السَّمَاوَاتِ آدَمَ وَإِدْرِيسَ وَمُوسٰى وَعِيسٰى وَإِبْرَاهِيمَ وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ غَيْرَ أَنَّهٗ ذَكَرَ أَنَّهٗ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَيَّةِ الْأَنْصَارِيِّ كَانَا يَقُولَانِ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثُمَّ عُرَجَ بِي حَتّٰى ظَهَرْتُ لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ» وَقَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسٌ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَفَرَضَ اللّٰهُ عَلٰى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً فَرَجَعْتُ بِذٰلِكَ حَتّٰى مَرَرْتُ عَلٰى مُوسٰى. فَقَالَ: مَا فَرْضُ اللّٰهُ لَكَ عَلٰى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: فَرَضَ خَمْسِينَ صَلَاةً. قَالَ: فَارْجِعْ إِلٰى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ، فَرَاجَعَنِي فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلٰى مُوسٰى فَقُلْتُ: وَضَعَ شَطْرَهَا فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذٰلِكَ فَرَجَعْتُ فَرَاجَعْتُ فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ: ارْجِعْ إِلٰى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذٰلِكَ فَرَاجَعْتُهٗ فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ فَرَجَعْتُ إِلٰى مُوسٰى فَقَالَ: اِرْجِعْ رَبَّكَ. فَقُلْتُ: اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتّٰى انْتَهٰى إِلٰى سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى وَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ؟ ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5864 ، باب: معراج کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله سے ۱؎فرمایا جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو معراج کرائی گئی تو آپ کو سدرۃ المنتہیٰ لے جایا گیا یہ چھٹے آسمان میں ہے ۲؎جو چیزیں زمین سے اوپر اٹھائی جاتی ہیں وہ وہاں تک ہی پہنچتی ہیں پھر وہاں سے لے لی جاتی ہیں اور جو چیزیں اوپر سے اتاری جاتی ہیں وہ وہاں تک ہی پہنچتی ہیں پھر وہاں سے لے لی جاتی ہیں ۳؎فرمایا کہ اچانک سدرہ پر چھاگئی جو چھاگئی فرمایا وہ سونے کے پتنگے تھے۴؎پھر فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو تین چیزیں دی گئیں آپ کو پانچ نمازیں دی گئیں اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات دی گئیں ۵؎اور آپ کی امت میں سے جو الله کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں ان کے گناہ بخشے گئے ۶؎(مسلم)

وَعَنْ عَبدِ اللّٰهِ قَالَ: لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتُهِيَ بِهٖ إِلٰى سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ إِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُعْرَجُ بِهٖ مِنَ الْأَرْضِ فَيُقْبَضُ مِنْهَا وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُهْبَطُ بِهٖ مِنْ فَوْقِهَا فَيُقْبَضُ مِنْهَا قَالَ:إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى. قَالَ: فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ: فَأُعْطِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا: أُعْطِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَغُفِرَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللّٰهِ مِنْ أُمَّتِهِ شَيْئًا الْمُقْحَمَاتُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5865 ، باب: معراج کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ میں نے اپنے کو حطیم میں دیکھا ۱؎قریش مجھ سے میرے سفر معراج کے متعلق سوالات کر رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی ایسی چیزوں کے متعلق سوالات کیے جو مجھے یاد نہ رہی تھیں ۲؎تو میں اتنا غمگین ہوا جتنا کبھی نہ ہوا تھا ۳؎تو الله نے میرے سامنے اسے کردیا میں اسے دیکھ رہا تھا وہ کسی چیز کے متعلق مجھ سے نہ پوچھتے تھے مگر میں انہیں بتا دیتا تھا۴؎اور میں نے اپنے کونبیوں کی جماعت میں دیکھا ۵؎تو موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے وہ درمیانہ قد گھونگریلے بال والے ہیں گویا وہ شنوءہ کے لوگوں میں سے ہیں ۶؎اور عیسیٰ علیہ السلام کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ۷؎ان سے قریبًا ہم شکل عروہ ابن مسعود ثقفی ہیں ۸؎اورا براہیم علیہ السلام کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ۹؎سب میں زیادہ ان کے مشابہ تمہارے صاحب یعنی میں ہوں۱۰؎پھر نماز کا وقت ہوگیا تو میں نے انکی امامت کی ۱۱؎پھر جب نماز سے میں فارغ ہوگیا تو مجھ سے کسی کہنے والے نے کہا اے محمد یہ آگ کے خزانچی مالک ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے ان کی طرف توجہ کی تو انہوں نے مجھے سلام کرنے سے ابتداء کی۱۲؎(مسلم)
اور یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحَجْرِ وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَايَ فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أَثْبَتُهَا فَكُرِبْتُ كَرْبًا مَا كُرِبْتُ مِثْلَهٗ فَرَفَعَهُ اللّٰهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مَا يَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا نَبَّأْتُهُمْ وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَإِذَا مُوسٰى قَائِمٌ يُصَلِّي. فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ كَأَنَّهٗ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَإِذَا عِيسٰى قَائِمٌ يُصَلِّي أَقْرَبُ النَّاسِ بِهٖ شِبَهًا عُرْوَةُ بنُ مَسْعُودٍ الثَّقفيُّ فإِذا إِبْرَاهِيمُ قَائِمٌ يُصَلِّي أَشْبَهُ النَّاسِ بِهٖ صَاحِبُكُمْ - يَعْنِي نَفْسَهٗ - فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ لِي قَائِلٌ: يَا مُحَمَّدُ هٰذَامَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَبَدَأَنِي بِالسَّلَامِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وَهٰذَاالْبَابُ خَالٍ عَنِ: الْفَصْلِ الثَّانِي

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5866 ، باب: معراج کا بیان

روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جب قریش نے مجھے جھٹلایا ۱؎تو میں حطیم میں کھڑا ہوگیا الله نے مجھ پر بیت المقدس ظاہر فرمادیا تو میں انہیں وہاں کی خبر دینے لگا حالانکہ میں اسے دیکھ رہاتھا ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنْ جَابِرٍ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَمَّا كَذَّبَنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَّى اللّٰهُ لِيَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهٖ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5867 ، باب: معراج کا بیان