- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- مقررہ سزاؤں کا بیان
- باب:حدود میں سفارش کا بیان
باب:حدود میں سفارش کا بیان
مقررہ سزاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ قریش کو اس مخزومی عورت کی حالت نے غم میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی ۱؎انہوں نے مشورہ کیا کہ اس کے بارے میں رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے کون عرض کرے تو بولے کہ اس پر کون جرأت کرسکتا ہے سواء اسامہ ابن زید کے جو رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کے پیارے ہیں ۲؎چنانچہ حضور سے اسامہ نے عرض کیا ۳؎تو فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کیا تم اﷲتعالٰی کی حدود میں سے ایک حد میں سفارش کرتے ہو ۴؎پھر قیام فرمایا خطبہ دیا پھر فرمایا تم سے پہلے والے صرف اس وجہ سے ہلاک کیے گئے ۵؎کہ ان میں جب کوئی عزت والا چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے ۶؎اور اﷲکی قسم ۷؎اگر محمد مصطفی کی دختر فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۸؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے فرماتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگ لیتی اور اس کا انکار کر دیتی تھی ۹؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو اس کے گھر والے اسامہ کے پاس آئے ان سے کچھ کہا سنا تو انہوں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم سے ان کے متعلق عرض کیا پھر گزشتہ حدیث کی مثل ذکر کیا ۱۰؎
عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا:مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللّٰهِ؟ " ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ثُمَّ قَالَ: "إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللّٰهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَتْ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا فَأَتَى أَهْلُهَا أُسَامَةَ، فَكَلَّمُوهُ فَكَلَّمَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3610 ، باب:حدود میں سفارش کا بیان
روایت ہے حضرت عبداﷲابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جس کی سفارش اﷲکی حدوں میں سے کسی حد کے لیے آڑ بن جائے تو اس نے اﷲتعالٰی کا مقابلہ کیا ۱؎اور جو باطل چیز میں جانتے ہوئے جھگڑے وہ اﷲکی ناراضی میں رہے گا حتی کہ اس سے نکل جائے گا ۲؎اور جوکسی مسلمان میں برائی بیان کرے جو اس میں نہیں ہے تو اﷲاسے کچ لہو میں رکھے گا ۳؎حتی کہ اپنے کہے سے نکل جائے۴؎(احمد،ابوداؤد)اور بیہقی کی شعب الایمان کی روایت ہے کہ جو کسی جھگڑے میں مددکرے نہ جانتا ہو کہ وہ حق ہے یا باطل تو وہ اﷲکی ناراضی میں رہے گا حتی کہ نکل جائے ۵؎
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللّٰهِ فَقَدَ ضَادَّ اللَّهَ، وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللّٰهِ تَعَالَى حَتَّى يَنْزِعَ، وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللّٰهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ، وَفِي رِوَايَةِ لِلْبَيْهَقِيِّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ": "مَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ لَا يَدْرِي أَحَقٌّ أَمْ بَاطِلٌ فَهُوَ فِي سَخَطِ اللّٰهِ حَتَّى يَنْزِعَ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3611 ، باب:حدود میں سفارش کا بیان
روایت ہے حضرت ابو امیہ مخزومی ۱؎سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے صریحی اقرار کر لیا تھا اور اس کے پاس سامان پایا نہ گیا ۲؎تو اس سے فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں تیرے متعلق خیال نہیں کرتا کہ تو نے چوری کی ۳؎ہو وہ بولا ہاں حضور نے دو یا تین بار اس سے فرمایا وہ ہر بار اقرار ہی کرتا رہا تو حکم دیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا ۴؎اور اسے لایا گیا تو اس سے رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اﷲسے معافی مانگ اور توبہ کر،بولا میں اﷲسے معافی مانگتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے تین بار فرمایا الٰہی اس کی توبہ قبول فرمالے ۵؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ، دارمی)میں نے چاروں اصول اور جامع اصول شعب الایمان اور معالم السنن میں یوں ہی پایا ۶؎بروایت ابو امیہ
وَعَقْ أَبِي أمُيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ قَدِ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا، وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَا أَخَالُكَ سَرَقْتَ"، قَالَ: بَلَى فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ يَعْتَرِفُ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ، وَجِيءَ بِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ وَتُبْ إِلَيْهِ" فَقَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ" ثَلَاثًا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ، هَكَذَا وَجَدْتُ فِي الأُصُولِ الأَرْبَعَةِ وَ"جَامِعِ الأُصُولِ" وَ"شُعَبِ الإِيمَانِ" وَ"مَعَالِم السُّنَنِ" عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3612 ، باب:حدود میں سفارش کا بیان
اور مصابیح کے نسخوں میں ابو رمثہ سے ہے رے اور تین نقطی ث سے بجائے ہمزہ اور ی کے ۱؎
وَفِي نُسَخِ "الْمَصَابِيحِ" عَنْ أَبِي رِمْثَةَ بِالرَّاءِ وَالثَّاءِ الْمُثَلَّثَةِ بَدَلَ الْهَمْزَةِ وَالْيَاءِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3613 ، باب:حدود میں سفارش کا بیان