- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- باب :وداعی حج کا قصہ
باب :وداعی حج کا قصہ
کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت جابر ابن عبداللّٰه سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نو برس مدینہ پاک میں مقیم رہے کہ حج نہ کیا ۱؎پھر دسویں سال لوگوں میں حج کا اعلان کیا گیا کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم حج کو تشریف لے جانے والے ہیں چنانچہ بہت ہی لوگ مدینہ پاک میں آگئے ۲؎ہم آپ کے ہمراہ نکلے ۳؎حتی کہ جب ذوالحلیفہ میں پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس کے ہاں محمد ابن ابوبکر صدیق پیدا ہوئے ۴؎ان بی بی نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ اب میں کیا کروں ۵؎فرمایا نہالو اور کوئی کپڑا باندھ لو اور احرام باندھ لو ۶؎پھر رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مسجد میں نماز ادا کی پھر قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے ۷؎حتی کہ جب اونٹنی آپ کو لے کر میدان میں سیدھی کھڑی ہوئی تو حضور نے کلمہ توحید بلند آواز سے پکارا ۸؎حاضر ہوں الٰہی میں حاضر ہوں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں ۹؎بے شک تعریف نعمت ملک تیر ے ہیں تیرا کوئی شریک نہیں حضرت جابر کہتے ہیں کہ ہم صرف حج ہی کی نیت سے تھے عمرہ کوجانتے بھی نہ تھے۱۰؎حتی کہ ہم جب کعبہ شریف میں حضور انور کے ساتھ پہنچے ۱۱؎تو حضور نے رکن کو بوسہ دیا پھر سات پھیرے طواف کیا جس میں تین چکروں میں رمل فرمایا اور چار میں معمولی چال چلے۱۲؎پھر مقام ابراہیم پرتشریف لائے تو یہ آیت تلاوت کی کہ مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ پھر دو رکعتیں اس طرح پڑھیں کہ مقام کو اپنے اور بیت اللّٰه کے درمیان کرلیا ۱۳؎ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں ر کعتوں میں قل ھو اللّٰه احد اور قل یا ایہا الکافرون پڑھیں ۱۴؎پھر رکن اسود کی طرف لوٹے اسے چوما پھر دروازے سے صفا پہاڑ کی طرف تشریف لے گئے جب صفا سے قریب ہوئے تو یہ آیت تلاوت کی کہ صفا و مروہ اللّٰه کی دینی نشانیوں میں سے ہیں ہم اس سے ابتداء کریں گے جس سے رب نے ابتداء کی چنانچہ آپ نے صفا سے سعی شروع کی ۱۵؎اس پر چڑھے حتی کہ کعبہ معظمہ کو دیکھ لیا تو کعبہ کو منہ کیا اللّٰه کی توحید و تکبیر بیان کی ۱۶؎اور فرمایا اللّٰه کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اسی کا ملک ہے اسی کی تعریف ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے ۱۷؎اللّٰه اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے اپنا وعدہ پورا کردیا اپنے بندے کی مدد کی اس اکیلے نے احزاب کو بھگایا۱۸؎پھر ان ذکروں کے درمیان دعا مانگی ۱۹؎تین بار یہ فرمایا ۲۰؎پھر اترے پھر مروہ کی طرف چلے حتی کہ بطن وادی میں آپ کے قدم شریف برابر سیدھے ہوگئے ۲۱؎پھر دوڑے حتی کہ جب آپ کے قدم چڑھنے لگے تو معمولی چال چلے ۲۲؎حتی کہ مروہ پہنچے پھر مروہ پر وہ ہی کیا جیسا صفا پر کیا تھا ۲۳؎حتی کہ جب مروہ پر آخری چکر ہوا تو آپ نے آواز دی حالانکہ آپ مروہ پر تھے اور لوگ آپ سے نیچے تو فرمایا اگر ہم اس کام کا پہلے سے خیال کرتے جس کا بعد میں خیال آیا تو ہم ہدی نہ لاتے اور اسے عمرہ قرار دیتے ۲۴؎لہذا تم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول دے اور اسے عمرہ بنالے ۲۵؎تب حضرت سراقہ ابن مالک بن جعشم کھڑے ہو کر بولے یارسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کیا یہ حکم ہمارے اس ہی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ۲۶؎تو رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل فرمائیں اور دوبارہ فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہوگیا یہ حکم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے ۲۷؎جناب علی یمن سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ہدی کے اونٹ لے کر آئے ۲۸؎تو ان سے حضور نے پوچھا کہ جب تم نے حج کی نیت کی تو کیا کہا تھا عرض کیا میں نے کہا تھا الٰہی میں اس کا احرام باندھتا ہوں جس کا احرام تیرے رسول نے باندھا ۲۹؎فرمایا میرے ساتھ تو ہدی ہے لہذا تم حلال نہ ہونا۳۰؎راوی فرماتے ہیں کہ مجموعہ ان ہدیوں کا جو جناب علی یمن سے لائے اور جو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم لائے کل سو تھا ۳۱؎فرماتے ہیں پھر تمام لوگ حلال ہوگئے اور بال کٹوالیے ۳۲؎سوائے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے اور ان حضرات کے جن کے ساتھ ہدی جانور تھا ۳۳؎پھر جب آٹھویں بقرعید ہوئی تو لوگوں نے منی کا رخ کیا تب حج کا احرام باندھا۳۴؎نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سوار ہوئے تو منی میں ظہر،عصر، مغرب،عشاء اور فجر پڑھی ۳۵؎پھر تھوڑا ٹھہرے حتی کہ سورج نکل آئے اور حضور نے حکم دیا تھا تو نمرہ میں حضور کے لیے اونی خیمہ لگادیا گیا تھا۳۶؎چنانچہ رسول اللّٰه چلتے رہے قریش کو اس میں شک و تردد ہی نہ تھا کہ آپ مشعر حرام کے پاس قیام کریں گے ٹھہر جائیں گے ۳۷؎جیسے اسلام سے پہلے قریش کر تے تھے ۳۸؎مگر رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم وہاں سے آگے بڑھ گئے حتی کہ عرفہ پہنچ گئے تو آپ نے مقام نمرہ میں خیمہ لگا ہوا پایا وہاں ہی اتر پڑے ۳۹؎حتی کہ سورج ڈھل گیا تو اونٹنی قصواء کا حکم دیا اسے کجاوا کس دیا گیا آپ بطن وادی میں تشریف لائے ۴۰؎لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ تمہارے خون تمہارے آپس کے مال تم پر یوں ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی اس مہینہ اور اس شہر میں حرمت ۴۱؎خبردار رہو زمانہ جاہلیت کی تمام رسمیں میرے قدم کے نیچے روند دی گئیں ۴۲؎اور جاہلیت کے زمانہ کے خون ختم کردیئے گئے ۴۳؎میں اپنے خونوں میں سے پہلا خون ختم کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ ابن حارثہ کا خون ہے۴۴؎یہ بنی سعد میں شیر خوار تھے تو انہیں قوم ہذیل نے قتل کردیا تھا۴۵؎اور جاہلیت کے زمانہ کے سود ختم ہیں میں اپنے سودوں میں سے پہلا سود ختم کرتاہوں وہ عباس ابن عبدالمطلب کا سود ہے وہ سارا ہی ختم ۴۶؎عورتوں کے معاملہ میں اللّٰه سے ڈرو کہ تم نے انہیں اللّٰه تعالٰی کی امان میں لے لیا ہے اور کلمہ الہیہ سے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ۴۷؎تمہارے ان پر یہ حقوق ہیں کہ وہ تمہارے بستروں کو ان سے پامال نہ کرائیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو ۴۸؎پھر اگر وہ عورتیں ایسا کریں تو تم انہیں غیر مہلک مار مارو ۴۹؎اور عورتوں کی تم پر بھلائی سے ان کی روزی اور بھلائی سے ان کا کپڑا ہے ۵۰؎میں تم میں وہ چیز چھوڑتا ہوں کہ اس کے ہوتے تم کبھی گمراہ نہ ہو گے جب تک تم اسے تھامے رہے یعنی قرآن کریم ۵۱؎اور تم سے میرے متعلق پوچھا جائے گا تو تم کیا کہو گے،سب بولے ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے تبلیغ فرمادی اور امانت ادا کردی اور خیر خواہی فرمائی ۵۲؎تو آپ نے اپنے کلمہ کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں کی طرف جھکائی فرمایا خدایا گواہ ہوجا خدایا گواہ ہوجا (تین بار)۵۳؎پھر حضرت بلال نے اذان دی پھر تکبیر کہی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے نماز ظہر پڑھی پھر تکبیر کہی تو عصر پڑھ لی ان دو نمازوں کے درمیان کچھ نہ پڑھا ۵۴؎پھر سوار ہوئے حتی کہ عرفات کے جائے قیام پرتشریف لائے تو اپنی قصواء کا پیٹ بڑے پتھروں کی طرف کردیا اور حبل مشاۃ کو اپنے سامنے لیا اور قبلہ کو منہ کیا ۵۵؎پھر وہاں اتنا ٹھہرے رہے کہ سورج ڈوب گیا اور کچھ زردی غائب ہوگئی تا آنکہ سورج کی ٹکیہ پوری چھپ گئی۵۶؎اور حضرت اسامہ کو ردیف بنایا اور روانہ ہوگئے حتی کہ مزدلفہ پہنچ گئے ۵۷؎پھر وہاں ایک اذان اور دو تکبیروں سے نماز مغرب و عشاء پڑھی درمیان میں نوافل کچھ نہ پڑھے ۵۸؎پھر کچھ لیٹ گئے ۵۹؎حتی کہ فجر طلوع ہوگئی تو سویرا چمکتے ہی اذان و تکبیر کے ساتھ فجر پڑھی ۶۰؎پھر قصواء پر سوار ہولیے حتی کہ مشعر پہاڑ کے پاس تشریف لائے پھر قبلہ کو منہ کیا اور رب سے دعا مانگی تکبیر وتہلیل و توحید کہتے رہے وہاں ٹھہرے رہے حتی کہ خوب اجیالا ہوگیا ۶۱؎تو سورج نکلنے سے پہلے روانہ ہوگئے اور حضرت فضل ابن عباس کو اپنے پیچھے سوار کرلیا ۶۲؎حتی کہ بطن وادی میں آئے تو اپنی اونٹنی کو کچھ حرکت دی۶۳؎پھر درمیانی راستے پر پڑ گئے جو بڑے جمرے پر نکلتا ہے ۶۴؎حتی کہ اس جمرہ پر پہنچے جو درخت کے پاس ہے ۶۵؎تو اسے سات کنکر مارے جن میں سے ہر کنکر کے ساتھ تکبیر کہتے تھے جو کنکرٹھیکری جیسے تھے ۶۶؎بطن وادی سے رمی کی ۶۷؎پھر قربانی گاہ کی طرف لوٹے تو تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے قربانی کئے پھر حضرت علی کو مرحمت فرمائے تو بقیہ انہوں نے قربانی کئے ۶۸؎اور حضور نے انہیں اپنی ہدی میں شریک کر لیا ۶۹؎پھر حکم دیا تو ہر اونٹ کی ایک بوٹی لے کر ہانڈی میں ڈالی اور پکائی گئی تو ان دونوں صاحبوں نے وہ گوشت کھایا اس کا شوربا پیا ۷۰؎پھر رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سوار ہوئے اور بیت اللّٰه شریف چلے تو نماز ظہر مکہ میں پڑھی ۷۱؎پھر بنی عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے جو زمزم پر پانی کھینچ رہے تھے فرمایا اے بنی عبدالمطلب کھینچے جاؤ ۷۲؎اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ سب لوگ تمہارے پاس کھینچنے میں تم پر غلبہ کرلیں گے تو میں تمہارے ساتھ پانی کھینچتا۷۳؎لوگوں نے حضور کو ڈول پیش کیا آپ نے اس سے پیا ۷۴؎(مسلم)۷۵؎
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ بِالمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ فِي الْعَاشِرَةِ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ فَخَرَجْنَا مَعَهٗ حَتّٰى إِذَا أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: «اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي» فَصَلّٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتّٰى إِذَا اسْتَوَتْ بِهٖ نَاقَتُهٗ عَلَى البَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ «لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» . قَالَ جَابِرٌ: لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ حَتّٰى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهٗ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَطَافَ سَبْعًا فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشٰى أَرْبَعًا ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلٰى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَقَرَأَ: (وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلّٰى)فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ الْبَيْتِ وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهٗ قَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ: (قُلْ هوَ اللّٰهُ أَحَدٌ و (قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ) ثُمَّ رَجَعَ إِلٰى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهٗ ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلٰى الصَّفَا فَلَمَّا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ: (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰهِ)أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللّٰه بِهٖ فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتّٰى رَاٰى الْبَيْتَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَوَحَّدَ اللّٰهَ وَكَبَّرَهٗ وَقَالَ: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ أَنْجَزَ وَعْدَهٗ وَنَصَرَ عَبْدَهٗ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهٗ» . ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذٰلِكَ قَالَ مِثْلَ هٰذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ نَزَلَ وَمَشٰى إِلَى الْمَرْوَةِ حَتّٰى انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ سَعٰى حَتّٰى إِذَا صَعِدْنَا مَشٰى حَتّٰى أَتَى الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَى المَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا حَتّٰى إِذَا كَانَ آخِرُ طَوَافٍ عَلَى المَرْوَةِ نَادٰى وَهُوَ عَلَى المَرْوَةِ وَالنَّاسُ تَحْتَهٗ فَقَالَ: «لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقِ الهَدْيَ وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ كَانَ مِنْكُم لَيْسَ مَعَهٗ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً» . فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَلِعَامِنَا هٰذَا أَمْ لِأَبَدٍ؟ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهٗ وَاحِدَةً فِي الْأُخْرٰى وَقَالَ: «دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ مَرَّتَيْنِ لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ» . وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهٗ: «مَاذَا قُلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ؟» قَالَ: قُلْتُ: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ، قَالَ: «فَإِنَّ مَعِي الْهَدْيَ فَلَا تَحِلَّ» . قَالَ: فَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهٖ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتٰى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً قَالَ: فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَمَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ تَوَجَّهُوا إِلٰى مِنًى فَأَهَلُّوا بِالحَجِّ وَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتّٰى طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ تُضْرَبُ لَهٗ بِنَمِرَةَ فَسَارَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهٗ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأجَازَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى أَتٰى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهٗ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِهَا حَتّٰى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالقَصْوَاءِ فَرُحِلَتْ لَهٗ فَأَتٰى بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ: «إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هٰذَا فِي شَهْرِكُمْ هٰذَا فِي بَلَدِكُمْ هٰذَا أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَكَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَهٗ هُذَيْلٌ وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ مِنْ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهٗ مَوْضُوعٌ كُلُّهٗ فَاتَّقُوا اللّٰهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللّٰه وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللّٰهِ وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهٗ فَإِنْ فَعَلْنَ ذٰلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالمَعْرُوفِ وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهٗ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهٖ كِتَابَ اللّٰهِ وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟» قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ. فَقَالَ بِإِصْبَعِهٖ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلٰى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلٰى النَّاسِ: «اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلّٰى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلّٰى الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ رَكِبَ حَتّٰى أَتَى الْمَوْقِفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ القَصْوَاءِ إِلٰى الصَّخَرَاتِ وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتّٰى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا حَتّٰى غَابَ الْقُرْصُ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ وَدَفَعَ حَتّٰى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلّٰى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعَشَاءَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتّٰى طَلَعَ الْفَجْرُ فَصَلّٰى الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتّٰى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَاهُ وَكَبَّرَهٗ وَهَلَّلَهٗ وَوَحَّدَهٗ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتّٰى أَسْفَرَ جِدًّا فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ حَتّٰى أَتٰى بَطْنَ مُحَسِّرٍ فَحَرَّكَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطٰى الَّتِي تَخْرُجُ عَلَى الجَمْرَةِ الْكُبْرٰى حَتّٰى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ رَمٰى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بُدْنَةً بِيَدِهٖ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهٗ فِي هَدْيِهٖ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبُضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ فَصَلّٰى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ فَأَتٰى عَلٰى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَسْقُونَ عَلٰى زَمْزَمَ فَقَالَ: «اَنْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَنَّكُمُ النَّاسُ عَلٰى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ» . فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2555 ، باب :وداعی حج کا قصہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ۱؎ہم نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں روانہ ہوئے تو ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا ۲؎ہم جب مکہ آئے تو رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی نہ لایا ہو وہ حلال ہوجائے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی لایا ہو وہ عمرہ کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے۳؎پھر حلال نہ ہو حتی کہ ان دونوں سے حلال ہو اور ایک روایت میں یوں ہے کہ پھر حلال نہ ہو حتی کہ ہدی کی قربانی کرلے۴؎اور جس نے حج کا احرام باندھا ہو وہ اپنا حج پورا کرے ۵؎فرماتی ہیں کہ میں کپڑوں سے ہوگئی حالانکہ میں نے بیت اللّٰه کا طواف نہ کیا تھا نہ صفا اور مروہ کی سعی تو میں کپڑوں سے ہی رہی،حتی کہ عرفہ کا دن آگیا ۶؎اور میں نے صرف عمرہ کا ہی احرام باندھا ہوا تھا تو مجھے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ میں اپنے بال کھول دوں اور کنگھی کرلوں اور حج کا احرام باندھ لوں عمرہ چھوڑ دوں ۷؎میں نے ایسا ہی کیا حتی کہ میں نے اپنا حج پورا کرلیا ۸؎میرے ساتھ عبدالرحمان ابن ابوبکر صدیق کو بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے چھوٹے ہوئے عمرہ کی جگہ مقام تنعیم سے عمرہ کروں ۹؎فرماتی ہیں کہ جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا انہوں نے بیت اللّٰه کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر حلال ہوگئے ۱۰؎پھر منٰی سے لوٹنے کے بعد ایک طواف کیا ۱۱؎لیکن جنہوں نے حج وعمرہ جمع کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۱۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحْلِلْ وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدٰى فَلْيُهِلَّ بِالحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَلَا يَحِلَّ حَتّٰى يَحِلَّ بِنَحْرِ هَدْيِهٖ وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهٗ» . قَالَتْ: فَحِضْتُ وَلَمْ أَطُفْ بِالبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتّٰى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلَّا بِعُمْرَةٍ فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِالحَجِّ وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ فَفَعَلْتُ حَتّٰى قَضَيْتُ حَجِّي بَعَثَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مَكَانَ عُمْرَتِي مِنَ التَّنْعِيمِ قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالعُمْرَةِ بِالبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثمَّ طَاْفُوْا بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2556 ، باب :وداعی حج کا قصہ
روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے وداعیہ حج میں حج و عمرہ کا تمتع کیا ۱؎تو اپنے ساتھ ذوالحلیفہ سے ہدی لے گئے تو ابتداء یوں فرمائی کہ پہلے عمرہ کا پھرحج کا احرام باندھا ۲؎لوگوں نے بھی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ حج و عمرہ کا تمتع کیا ۳؎بعض لوگ تو ہدی لے گئے تھے اور بعض نہ لے گئے تھے تو جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم تشریف لائے تو لوگوں سے فرمایا کہ تم سے جو ہدی لایا ہو وہ کسی حرام شدہ چیز سے حلال نہ ہو ۴؎تا آنکہ حج پورا کرلے اور جو ہدی نہ لایا ہو وہ کعبہ کا طواف کرے اور صفا مروہ میں دوڑے اور بال کٹوائے حلال ہوجائے ۵؎پھر حج کا احرام باندھے اور قربانی دے جو قربانی نہ پائے وہ تین روزے زمانہ حج میں رکھے اور سات روزے گھر لوٹتے وقت ۶؎پھر جب حضور انور مکہ آئے تو طواف کیا سب سے پہلے سنگ اسود چوما پھرتین چکروں میں رمل فرمایا اور چار میں عام رفتار سے چلے ۷؎پھر جب طواف کعبہ پورا کرچکے تو مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا پھر لوٹے تو صفا پر آئے صفا مروہ کا سات بار طواف کیاپھر آپ کسی حرام شدہ چیز سے حلال نہ ہوئے ۸؎حتی کہ حج پورا فرمالیا اور قربانی کے ہدی ذبح کردیئے اور منٰی سے چلے بیت اللّٰه کا طواف کیا پھر تمام حرام شدہ چیزوں سے حلال ہوگئے ۹؎اور حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے سے کام تمام ہدی لانے والے لوگوں نے کئے ۱۰؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ فَأَهَلَّ بِالعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالحَجِّ فَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدٰى وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنَّاسِ: «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدٰى فَإِنَّهٗ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتّٰى يَقْضِيَ حَجَّهٗ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدٰى فَلْيَطُفْ بِالبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالحَجِّ وَلْيُهْدِ، فَمَنْ لَمْ يَجدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلٰى أَهْلِهٖ » فَطَافَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشٰى أَرْبَعًا فَرَكَعَ حِينَ قَضٰى طَوَافَهٗ بِالبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتٰى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتّٰى قَضٰى حَجَّهٗ وَنَحَرَ هَدْيَهٗ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2557 ، باب :وداعی حج کا قصہ
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے یہ وہ عمرہ ہے جس سے ہم نے تمتع کرلیا ۱؎تو جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ پورا پورا حلال ہوجائے ۲؎کیونکہ اب قیامت تک کو عمرہ حج میں داخل ہوگیا ۳؎(مسلم)یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هٰذِهٖ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ الْهَدْيُ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهٗ فَإِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌوَهٰذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِي
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2558 ، باب :وداعی حج کا قصہ
روایت ہے حضرت عطاء سے فرماتے ہیں میں نے اپنے ساتھی لوگوں کی جماعت میں حضرت جابر بن عبداللّٰه کو سنا فرماتے تھے ۱؎کہ ہم محمد صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے صحابہ نے خالص حج کے لیے احرام باندھا ۲؎عطاء کہتے ہیں کہ حضرت جابر نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم چاربقرعید کی تاریخ کی صبح مکہ معظمہ پہنچے تو ہم کو کھل جانے کا حکم دیا عطا کہتے ہیں کہ فرمایا حلال ہوجاؤ،عورتوں سے صحبت کرو ۳؎عطا کہتے ہیں صحبت ان پر واجب نہ کی لیکن ان کے لیے عورتیں حلال فرمادیں ۴؎ہم نے سوچا کہ جب ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے تو ہم کو بیویوں کے پاس جانے کی اجازت دے دی تو کیا ہم عرفہ کو اس حال میں جائیں کہ ہمارے ذکر منی ٹپکاتے ہوں ۵؎راوی کہتے ہیں حضرت جابر اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے گویا میں ان کا ہاتھ ہلتا دیکھ رہا ہوں ۶؎فرماتے ہیں تو ہم میں نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے فرمایا تم جانتے ہو کہ میں تم میں سب سے زیادہ اللّٰه سے ڈرنے والا سب سے زیادہ سچا اور نیک اعمال ہوں ۷؎اگر میری ہدی نہ ہوتی تو جیسے تم حلال ہورہے ہو میں بھی حلال ہوجاتا اور جو بات بعد میں کھلی اگر پہلے سے ہم جانتے تو ہدی لاتے ہی نہیں ۸؎لہذا حلال ہوجاؤ چنانچہ ہم حلال ہوگئے ہم نے آپ کا حکم سنا اور بجا لائے ۹؎عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت جابر نے کہا پھر حضرت علی اپنے دارالعمالہ سے آئے ۱۰؎حضور انور نے پوچھا کون سا احرام باندھا عرض کیا وہ جو اللّٰه کے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے باندھا حضور نے فر مایا ہدی ذبح کرو اور احرام میں ٹھہرو حضرت علی ہدی لائے تھے ۱۱؎حضرت سراقہ ابن مالک ابن جعشم نے عرض کیا یارسول اللّٰه کیا یہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے فرمایا ہمیشہ کے لیے ۱۲؎(مسلم)
عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰهِ فِي نَاسٍ مَعِي قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالحَجِّ خَالِصًا وَحْدَهٗ قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَأَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ: «حِلُّوا وَأَصِيبُوا النِّسَاءَ» . قَالَ عَطَاءٌ: وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ وَلٰكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ فَقُلْنَا لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نُفْضِيَ إِلٰى نِسَائِنَا فَنَأْتِيَ عَرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاكِيْرُنَا الْمَنِيَّ. قَالَ: يَقُولُ جَابِرٌ بِيَدِهٖ كأَنِّي أَنْظُرُ إِلٰى قَوْلِهٖ بِيَدِهٖ يُحَرِّكُهَا، قَالَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا، قَالَ: «قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلّٰهِ وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ وَلَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ كَمَا تُحِلُّوْا وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ فَحَلُّوا» فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهٖ فَقَالَ: بِمَ أَهْلَلْتَ؟ قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهٖ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا» قَالَ: وَأَهْدٰى لَهٗ عَلِيٌّ هَدْيًا فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ؟ قَالَ: "لِأَبَدٍ".رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2559 ، باب :وداعی حج کا قصہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب بقرعید کے چار پانچ دن گزر گئے تو مکہ معظمہ میں داخل ہوئے تو میرے پاس غصہ کی حالت میں تشریف لائے میں نے عرض کیا یارسول اللّٰه آپ کو کس نے رنجیدہ کیا خدا اسے دوزخ میں ڈالے ۱؎فرمایا کیا تمہیں خبر نہیں کہ ہم نے لوگوں کو ایک حکم دیا تو وہ اس میں تردد کرتے ہیں ۲؎اور اگر ہم پہلے سے وہ جانتے جو بعد میں جانا تو ہم اپنے ساتھ ہدی نہ لاتے حتی کہ یہاں سے ہی قربانی خریدلیتے پھر جیسے یہ حلال ہورہے ہیں ہم بھی حلال ہو جاتے ۳؎(مسلم)
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَوْ خَمْسٍ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَدْخَلَهُ اللّٰهُ النَّارَ. قَالَ: «أَوَ مَا شَعُرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُوْنَ وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتّٰى أَشْتَرِيَهٗ ثُمَّ أَحِلَّ كَمَا حَلُّو » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2560 ، باب :وداعی حج کا قصہ