باب : خوف کی نماز

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت سالم ابن عبد الله ابن عمر سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کیا ۱∞؎ہم دشمن کے مقابل کھڑے ہوئے اور انکے سامنے صفیں بنائیں تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کھڑے ہوئے ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور دوسری جماعت دشمن کے مقابل رہی۲؎رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ رکوع کیا اور دوسجدے کیئے پھر یہ لوگ اس جماعت کی جگہ سے چلے گئے جس نے نماز نہ پڑھی تھی وہ ادھر آگئے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھادی اور دو سجدےکرلیئے پھر آپ نے سلام پھیر دیا پھر ان میں سے ہر ایک کھڑا ہوا اور اپنی ایک رکعت پڑھ لی ۳؎اور دوسجدے کر لیئے ۴؎حضرت نافع نے یونہی روایت کی یہ زیادہ کیا کہ اگر خوف اس سے بھی زیادہ ہو تو غازی پیدل اپنے قدموں پر کھڑے کھڑے یا سوار نماز پڑھ لیں قبلے کو منہ ہو یا نہ ہو ۵؎نافع کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ حضرت ابن عمر نے یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ہی روایت کی ۶؎(بخاری)

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ فَصَافَفْنَا لَهُمْ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَنَا فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهٗ وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَی العَدُوِّ وَرَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهٗ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفُوا مَكَانَ الطَّائِفَةِ الَّتِيْ لَمْ تُصَلِّ فَجَاؤُوْا فَرَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بهم رَكْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فَرَكَعَ لِنِفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَرَوٰى نَافِعٌ نَحْوَهٗ وَزَادَ: فَإِن كَانَ خوف هُوَ أَشَدُّ مِنْ ذٰلِكَ صَلَّوْا رِجَالًا قِيَامًا عَلیٰ أَقْدَامِهِمْ أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا قَالَ نَافِعٌ: لَا أُرٰى ابْنَ عُمَرَ ذَكَرَ ذٰلِكَ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1420 ، باب : خوف کی نماز

روایت ہے حضرت یزید ابن رومان سے وہ صالح ابن خوات سے راوی ۱∞؎وہ ان سے راوی جنہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ذات الرقاع کے دن نماز خوف پڑھی ۲؎کہ ایک ٹولہ آپ کے ساتھ صف آراء ہوا اور دوسرا ٹولہ دشمن کے مقابل رہا آپ نے اپنے ساتھ والے ٹولے کو ایک رکعت پڑھائی پھر یوں ہی کھڑے رہے انہوں نے اپنی نماز پوری کرلی پھر چلے گئے ۳؎اور دشمن کے مقابل صف بستہ ہوگئے پھر دوسرا ٹولہ آیا آپ نے انہیں رکعت پڑھائی جو آپ کی نماز سے باقی تھی پھر آپ یوں ہی بیٹھے رہے ان صاحبوں نے اپنی نماز پوری کرلی پھر حضور نے ان سب کے ساتھ سلام پھیرا ۴؎(مسلم،بخاری)بخاری نے دوسری اسناد سے قاسم سے انہوں نے صالح ابن خوات سے انہوں نے سہل ابن ابی حثمہ سے انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی۔

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ عَمَّنْ صَلّٰى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ: أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهٗ وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلّٰى بِالَّتِي مَعَهٗ رَكْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرٰى فَصَلّٰى بِهِمْ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهٖ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتمُّوا لأَنْفُسِهِمْ ثمَّ سَلَّمَ بِهِمْ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَأَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ بِطَرِيقٍ آخَرَ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1421 ، باب : خوف کی نماز

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ گئے حتی کہ جب ذات الرقاع میں پہنچے فرماتے ہیں کہ جب ہم کبھی کسی سایہ دار درخت پر پہنچتے تھے تو وہ درخت حضور صلی الله علیہ وسلم کے لیئے چھوڑ دیتے تھے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ کفار کا ایک شخص آیا اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹکی ہوئی تھی تو اسنے حضور صلی الله علیہ وسلم کی تلوار سونت لی ۲؎اور نبی صلی الله علیہ وسلم سے کہنے لگا کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں،فرمایا نہیں وہ بولا مجھ سے آپ کو کون بچائے گا فرمایا مجھے تجھ سے الله بچائے گا۳؎فرماتے ہیں کہ اسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ نے دھمکایا تو اس نے تلوار میان میں کرکے لٹکا دی۴؎فرماتے ہیں کہ نماز کی اذان ہوئی تو آپ نے ایک ٹولے کو دو رکعتیں پڑھادیں وہ پیچھے ہٹ گئے اور دوسرے ٹولے کو دو رکعتیں پڑھادیں تو حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئی اور قوم کی دو،دو رکعتیں ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى إِذْ كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلیٰ شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِيْنَ وَسَيْفُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرَطَهٗ فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَخَافُنِي؟ قَالَ: “لَا” . قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: “اللهُ يَمْنَعُنِي مِنْك” . قَالَ: فَتَهَدَّدَهٗ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهٗ قَالَ: فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلّٰى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَأَخَّرُوا وَ صَلّٰى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرٰى رَكْعَتَيْنِ قَالَ: فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1422 ، باب : خوف کی نماز

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں ہم کو نبی صلی الله علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی ہم نے حضور کے پیچھے دو صفیں بنائیں دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا ۱∞؎تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے تکیبرکہی ہم سب نے تکبیرکہی پھر حضور نے رکوع کیا اور ہم سب نے رکوع کیا پھر حضورنے رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور ہم سب نے اٹھایا پھر آپ اور وہ صف جو آپ سےمتصل تھی سجدہ میں گئے اور پچھلی صف دشمن کے مقابل کھڑی رہی۲؎تو جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے سجدہ پوراکرلیا اور آپ سےمتصل صف بھی کھڑی ہوگئی توپچھلی صف سجدہ میں گرگئی پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے پھر پچھلی صف آگے ہوگئی اور اگلی صف پیچھے چلی گئی پھرحضور انورصلی الله علیہ وسلم نے اور ہم سب نے رکوع کیا پھرحضور نے اور ہم سب نے رکوع سے سر اٹھایا پھرحضور اور وہ صف جو آپ سے متصل تھی اور جو رکعت اولیٰ میں پچھلی صف تھی سجدہ میں گئے ا ور پچھلی دشمن کے مقابل کھڑی رہی۳؎پھرجب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اور آپ سےمتصل صف نےسجدہ کرلیا پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اور ہم سب نے اکٹھا سلام پھیرا ۴؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: صَلّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَفَفْنَا خَلْفَهٗ صَفَّيْنِ وَالْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَكَبَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ الرُّكُوْعِ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَقَامَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ ثُمَّ قَامُوا ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الْمُقَدَّمُ ثُمَّ رَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ الرُّكُوْعِ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُود وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ الَّذِي كَانَ مُؤَخَّرًا فِي الرَّكْعَةِ الْأُولٰى وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدو فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ فَسَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1423 ، باب : خوف کی نماز

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم لوگوں کو بطن نخلہ میں نماز خوف پڑھاتے تھے ۱∞؎تو آپ نے ایک ٹولہ کو دو رکعتیں پڑھائی پھر سلام پھیر دیا،پھر دوسرا ٹولہ آیا تو انہیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا ۲؎(شرح سنہ)

عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الظُّهْرِ فِي الْخَوْفِ بِبَطْنِ نَخْلٍ فَصَلّٰى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ طَائِفَةٌ أُخْرٰى فَصَلّٰى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ. رَوَاهُ فِي “شرح السّنة”

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1424 ، باب : خوف کی نماز

روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ضجنان وعسفان کے درمیان اتر ے ۱∞؎تو مشرکین بولےکہ ان کی ایک نماز ہے جو انہیں اپنے باپ بیٹوں سےزیادہ پیاری ہےیعنی عصرتو اپنی طاقت جمع کرلو اوران پر ایک دم ٹوٹ پڑو ۲؎ادھرحضرت جبرئیل نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے اور عرض کیا کہ اپنے صحابہ کو دو گروہوں میں بانٹ دیں انہیں اسی طرح نماز پڑھائیں کہ دوسرا ٹولہ ان کے پیچھے رہے جواپنا بچاؤ اور ہتھیار لیئے رہیں۳؎ان سب کی ایک ایک رکعت ہوگی اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی دو رکعتیں۴؎(ترمذی،نسائی)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بَيْنَ ضَجْنَانَ وَعُسْفَانَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لِهَؤُلَاءِ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ وَهِيَ الْعَصْرُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ فَتَمِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً وَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهٗ أَنْ يُقَسِّمَ أَصْحَابَهٗ شَطْرَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِهِمْ وَتَقُومَ طَائِفَةٌ أُخْرٰى وَرَاءَهُمْ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ فَتَكُونَ لَهُمْ رَكْعَةٌ وَلِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1425 ، باب : خوف کی نماز