- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب : عتیرہ کابیان
باب : عتیرہ کابیان
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا نہ فرع ہے نہ عتیرہ ۱∞؎فرماتے ہیں کہ فرع وہ پہلا بچہ تھا جانور کا جو ان کے ہاں پیدا ہوتا جسے اپنے بتوں کے لیے ذبح کرتےتھے اورعتیرہ رجب میں تھا ۲؎(مسلم، بخاری)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ” . قَالَ: وَالْفَرْعُ: أَوَّلُ نَتَاجٍ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ كَانُوا يَذْبَحُونَهٗ لِطَوَاغِيتِهمْ. وَالْعَتِيرَةُ: فِي رَجَبٍ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1477 ، باب : عتیرہ کابیان
روایت ہےحضرت مخنف بن سلیم سےفرماتےہیں کہ ہم رسول الله کے ساتھ عرفہ میں ٹھہرے تھے کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا اے لوگوں ہرگھر والے پر ہر سال ایک قربانی ہے اور ایک عتیرہ فرمایا کیا جانتے ہوعتیرہ کیا ہے یہ وہی ہے جسے تم رجبیہ کہتے ہو ۱∞؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)اورترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے،اسناد ضعیف ہے۲؎اور ابو داؤدنے فرمایا کہ عتیرہ منسوخ ہے۔
عَنْ مُخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَسَمِعْتُهٗ يَقُولُ: “يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلیٰ كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةً وَعَتِيرَةً هَلْ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ؟ هِيَ الَّتِي تُسَمُّونَهَا الرَّجَبِيَّةَ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ وَابْن ماجه وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ضَعِيفُ الْإِسْنَادِ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَالْعَتِيرَة مَنْسُوخَةٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1478 ، باب : عتیرہ کابیان
روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھے بقرعید کے دن عید منانے کاحکم ملاجسے الله نے اس امت کے لیے مقرر کیا ۱∞؎ایک شخص نے آپ سے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم فرمایئے تو اگر میں عاریۃ کا مادہ جانور ہی پاؤں تو کیا اس کی قربانی کردوں فرمایا نہیں۲؎لیکن اپنے بال اور ناخن کتراؤ مونچھیں کٹاؤ زیر ناف کے بال صاف کرو تمہاری یہی مکمل قربانی ہے۳؎(ابوداؤد،نسائی)
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحٰى عِيدًا جَعَلَهُ اللهُ لِهٰذِهِ الْأُمَّةِ” . قَالَ لَهٗ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثٰى أَفَأُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ: “لَا وَلَكِنْ خُذْ مِنْ شَعْرِكَ وَأَظْفَارِكَ وَتَقُصُّ مِنْ شَارِبِكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ فَذٰلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللهِ “ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1479 ، باب : عتیرہ کابیان