باب : مستحاضہ کاباب

پاکی کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرماتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابوحبیش حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۱؎اوربولیں کہ یارسول الله!میں استحاضے والی عورت ہوں کہ پاک ہی نہیں ہوتی تو کیا نمازچھوڑدوں فرمایانہیں یہ تو رگ ہے حیض نہیں ۲؎جب تمہارا حیض آیا کرے تو نماز چھوڑدیا کرو اورجب چلاجائے تو خون دھوڈالاکرو پھرنمازپڑھ لیاکرو۳؎(مسلم وبخاری)

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا- قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِيْ حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَتْ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنِّيْ امْرَأةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ: "لَا، إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِحَيْضٍ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلَاةَ،وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِيْ عَنْكِ الدَّمَ ثمَّ صَلِّيْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 557 ، باب : مستحاضہ کاباب

روایت ہے عروہ ابن زبیر سے وہ فاطمہ بنت ابی حبیش سے راوی کہ وہ مستحاضہ ہوجاتی تھیں ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حیض کا خون ہوتووہ کالاخون ہوتاہے جوپہچان لیاجاتاہے ۱؎تو جب یہ ہوتونمازسے رک جاؤ اورجب دوسرا ہوتو وضوکرو اور نمازپڑھو کہ وہ تورگ ہے۲؎(ابوداؤد،نسائی)

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِيْ حُبَيْشٍ: أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضِ فَإِنَّهُ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ، فَإِذَا كَانَ ذٰلِكَ فَأَمْسِكِيْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِذَا كَانَ الآخَرُ فتوَضَّئِيْ وَصَلِّيْ، فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 558 ، باب : مستحاضہ کاباب

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خون گراتی تھی ۱؎اس کے متعلق حضرت ام سلمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا۲؎فرمایا کہ وہ رات دن مہینے کے گن لے جن میں اس بیماری کے لگنے سے پہلے حیض آتا تھا مہینے میں اتنے دن نماز چھوڑ دے پھرجب یہ دن گزرجائیں تو غسل کرے اور کپڑے کا لنگوٹ باندھے پھر نماز پڑھتی رہے۳؎(مالک،ابوداؤد،دارمی)نسائی نے اس کے معنی کی روایت کی۔

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهْرِيْقُ الدَّمَ عَلٰى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَقَالَ: "لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِيْ وَالأَيَّامِ الَّتِيْ كَانَتْ تَحِيْضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيْبَهَا الَّذِيْ أَصَابَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذٰلِكَ مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذٰلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ لِتُصَلِّ". رَوَاهُ مَالكٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ والدَّارِمِيُّ، وَرَوَى النَّسَائِيُّ مَعْنَاهُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 559 ، باب : مستحاضہ کاباب

روایت ہے حضرت عدی ابن ثابت سے ۱؎وہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے راوی يحيىابن معین کہتے ہیں کہ عدی کے دادا کانام دینارہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے استحاضہ والی کے لیئے فرمایا کہ وہ اپنے حیض کے زمانہ میں جن میں اسے حیض آتا تھانمازچھوڑدیا کرے پھرنہائے اورہر نمازکے وقت وضوکرے ۲؎اور روزہ رکھے اورنماز پڑھے۳؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ-قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِيْنٍ: جَدُّ عَدِيٍّ اسْمُهٗ دِيْنَارٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيْ الْمُسْتَحَاضَةِ:"تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا الَّتِيْ كَانَتْ تَحِيْضُ فِيْهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَتَصُوْمُ، وَتُصَلِّيْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 560 ، باب : مستحاضہ کاباب

روایت ہے حضرت حمنہ بنت جحش سے ۱؎فرماتی ہیں کہ مجھے بہت سخت استحاضہ آتاتھا۲؎میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسئلہ پوچھنے اوریہ خبردینے حاضرہوئی میں نے حضورکو اپنی بہن زینب بنت جحش کے گھر پایا۳؎میں نے عرض کیا یارسول الله مجھے بہت سخت استحاضہ آتا ہے آپ اس بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں مجھے تو اس نے روزہ نماز سے روک دیاہے۴؎فرمایا میں تمہارے واسطے گدی تجویز کرتا ہوں کہ یہ خون چوس لے گی ۵؎عرض کیا وہ تو اس سے زیادہ ہے فرمایا تو لنگوٹ باندھو۶؎عرض کیا وہ اس سے بھی زیادہ ہے فرمایا تو کپڑا رکھ لو ۷؎عرض کیا وہ خون اس سے بھی زیادہ ہے میں تو خون ڈالتی بہاتی ہوں۸؎تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم کو دوباتوں کا حکم دیتا ہوں ان میں جو کرلوگی وہ دوسرے سے کفایت کرے گا اگر دونوں کرسکو تو تم جانو۹؎فرمایا یہ بیماری شیطان کے چوکھوں ہی سے ایک چوکھ ہے۱۰؎تم چھ یا سات دن حیض کے شمار کرلیا کرو رب کے علم میں ۱۱؎پھرنہالیاکرو،پھر جب یہ سمجھو کہ تم خوب پاک اور صاف ہوگئیں تو تئیس یاچوبیس دن ورات نمازیں پڑھو، روزے رکھو۱۲؎کہ یہ تمہیں کافی ہوگا،ہرمہینہ یوں ہی کرلیا کرو جیسے عمومًاعورتیں اپنے حیض وطہرکے اوقات میں ناپاک وپاک رہتی ہیں ۱۳؎اور اگرتم اس پرطاقت رکھو کہ ظہردیر سے اور عصرجلدی پڑھوتو ایک غسل کرو اور دو نمازیں ظہرو عصرجمع کرلیاکرو اورمغرب دیرسے عشاءجلدی پڑھوتو غسل کرو اور دو نمازیں جمع کرلوتو ایسا کرو اورفجرکے ساتھ غسل کروتو ایساکرلیاکرو۱۴؎اور روزے رکھو اگر اس پرقادرہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دونوں کاموں میں مجھے یہ زیادہ پسند ہے ۱۵؎(احمد،ابوداؤد،ترمذی)

وَعَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حِيْضَةً كَثِيْرَةً شَدِيْدَةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَسْتَفْتِيْهِ وَأُخْبِرُهٗ، فَوَجَدْتُهٗ فِيْ بَيْتِ أُخْتِيْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنِّيْ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيْرَةً شَدِيدَةً فَمَا تَأْمُرُنِيْ فِيْهَا؟ قَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ. قَالَ: "أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ". قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذٰلِكَ . قَالَ: "فَتَلَجَّمِيْ"، قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذٰلِكَ . قَالَ: "فَاتَّخِذِيْ ثَوْبًا" قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذٰلِكَ ، إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا. فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ، أَيَّهُمَا صَنَعْتِ أَجَزَأَ عَنْكِ مِنَ الآخَرِ، وَإِنْ قَوِيْتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ" قَالَ لَهَا: "إِنَّمَا هٰذِهٖ، رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ،فتحَيِّضِيْ سِتَّةَ أَيَّامٍ أو سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِيْ عِلْمِ اللّٰهِ،ثُمَّ اغْتَسِلِيْ حَتّٰى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَاتِ فَصَلِّيْ ثَلَاثًا وَعِشْرِيْنَ لَيْلَةً أَوْ أَرْبَعًا وَعِشْرِيْنَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا، وَصُومِيْ، فَإِنَّ ذَلِك يُجْزِئُكِ، وَكَذٰلِكَ فَافْعَلِيْ كُلَّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيْضُ النِّسَاءُ، وَكَمَا يَطْهُرْنَ مِيْقَاتَ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ، وَإنْ قَوِيْتِ عَلٰى أَنْ تُؤَخِّرِيْنَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِيْنَ الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلِيْنَ وَتَجْمَعِيْنَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ: الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَتُؤَخِّرِيْنَ الْمَغْرِبَ، وَتُعَجِّلِيْنَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ تَغْتَسِلِيْنَ وَتَجْمَعِيْنَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فَافْعَلِيْ، وَتَغْتَسِلِيْنَ مَعَ الْفَجْرِ فَافْعَلِيْ،وَصُومِيْ إِنْ قَدَرْتِ عَلٰى ذٰلِكَ "، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-:"وَهَذَا أَعْجَبُ الأَمْرَيْنِ إِلَيَّ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 561 ، باب : مستحاضہ کاباب

روایت ہے حضرت اسماء بنت عمیس سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے عرض کیایارسول الله فاطمہ بنت ابی حبیش اتنی مدت سے استحاضہ میں مبتلا ہیں ۲؎کہ نماز نہ پڑھ سکیں۔رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسبحان ﷲ۳؎یہ تو شیطان کی طرف سے ہے۴؎وہ لگن میں بیٹھ جایاکریں ۵؎جب زردی پانی پر دیکھ لیں ۶؎تو ظہر و عصر کے لیئے ایک غسل کرلیاکریں اور مغرب وعشاءکے لیئے ایک غسل اورفجرکے لیئے ایک غسل۷؎اوران کے درمیان وضوکرتی رہیں ۸؎اسے ابوداؤدنے روایت کیا۔

عَن أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِيْ حُبَيْشٍ اسْتُحِيْضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ تُصَلِّ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "سُبْحَانَ اللّٰهِ!إِنَّ هٰذَا مِنَ الشَّيْطَانِ، لِتَجْلِسَ فِيْ مِرْكَنٍ، فَإِذَا رَأَتْ صُفَارَةً فَوْقَ الْمَاءِ فَلْتَغْتَسِلْ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلْ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَوَضَّأُ فِيْمَا بَيْنَ ذٰلِكَ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 562 ، باب : مستحاضہ کاباب

اور فرمایا کہ مجاہد حضرت ابن عباس سے راوی ہیں کہ جب ان پر غسل بھاری پڑا تو انہیں دونمازیں جمع کرنے کا حکم دیا٩؎

وَقَالَ:رَوَى مُجَاهِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: لَمَّا اشْتَدَّ عَلَيْهَا الْغُسْلُ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 563 ، باب : مستحاضہ کاباب