باب : مسنون غسل کا باب

پاکی کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیئے آئے توغسل کرلیاکرے ۱؎(مسلم،بخاری)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 537 ، باب : مسنون غسل کا باب

روایت ہے حضرت ابوسعیدخدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پرواجب ہے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلٰى كُلِّ مُحْتَلِمٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 538 ، باب : مسنون غسل کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے لازم ہے ہرمسلمان پر کہ ہر سات دن میں ایک دن غسل کرے جس میں سر وجسم دھوئے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "حَقٌّ عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَغْتَسِلَ فِيْ كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا، يَغْسِلُ فِيْهِ رَأسَهٗ وَجَسَدهٗ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 539 ، باب : مسنون غسل کا باب

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو جمعہ کے دن وضو کرے تو خیراور اچھا کیا اورجونہائے تونہانا بہت اچھا ہے ۱؎(احمد،ابوداؤد،ترمذی، نسائی،دارمی)

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنَعِمَتْ، وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ"رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ والدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 540 ، باب : مسنون غسل کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جومیت کوغسل دے وہ خودبھی غسل کرے ۱؎(ابن ماجہ)احمدوترمذی نے یہ بھی زیادہ کیا کہ جومیت کو اٹھائے وہ وضو کرے ۲؎

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ. وَزَادَ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ: "وَمَنْ حَمَلَهٗ فَليَتَوَضَّأْ"

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 541 ، باب : مسنون غسل کا باب

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چارچیزوں سے غسل کرتے تھےجنابت(ناپاکی)سے اورجمعہ کے دن اورسنگھی لگوانے سے اور میت کو نہلانے سے ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَائِشَةَ --رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا- أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنَ الْجَنَابَةِ، وَيَوْمَ الْجُمُعَة، وَمِنَ الْحَجَامَةِ، وَمِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 542 ، باب : مسنون غسل کا باب

روایت ہے قیس ابن عاصم سے ۱؎کہ وہ مسلمان ہوئے تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ پانی اوربیری سے غسل کریں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ: أَنَّهُ أَسْلَمَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 543 ، باب : مسنون غسل کا باب

روایت ہے حضرت عکرمہ سے فرماتے ہیں ۱؎کہ کچھ عراقی لوگ آئے ۲؎اور بولے کہ اے ابن عباس کیا آپ جمعہ کے دن کا غسل واجب سمجھتے ہیں فرمایا نہیں،لیکن یہ بہت پاکی ہے اورغسل کرنے والے کے لیئے اچھا ہے اور جوغسل نہ کرے اس پر ضروری نہیں ۳؎میں تمہیں بتاتا ہوں کہ غسل شروع کیسے ہوا۔ لوگ مشقت میں تھے کہ اون پہنتے اور اپنی پیٹھ پرمزدوریاں کرتے تھے ان کی مسجد تنگ تھی جس کی چھت نیچے تھی جو صرف چھپر(خس پوش)تھی حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم ایک گرم دن میں تشریف لائے اور لوگ اسی اون میں پسینہ پسینہ تھے کہ ان سے بو پھیل گئی جس کی وجہ سے بعض نے بعض سے تکلیف پائی ۴؎تو جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بو پائی ۵؎تو فرمایا اے لوگو جب یہ دن ہواکرے تونہالیاکرو،اور چاہیئے کہ ہرایک اپنا بہترین تیل و خوشبو مل لیا کرے ۶؎حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ پھر الله نے مال دیا۷؎اورلوگوں نے اون کے علاوہ اچھے لباس پہنے اور کام کاج سے چھوٹ گئے ۸؎ان کی مسجد فراخ ہوگئی ۹؎اور پسینہ سے جو بعض کو بعض سے تکلیف پہنچتی تھی وہ جاتی رہی۔(ابوداؤد)

عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: إِنَّ ناسًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ جَاؤوا فَقَالُوا: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَتَرَى الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبًا؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهٗ أَطْهَرُ وَخَيْرٌ لِمَنِ اغْتَسَلَ، وَمَنْ لَمْ يَغْتَسِلْ فَلَيْسَ عَلَيْهِ بِوَاجِبٍ. وَسَأُخْبِرُكُمْ كَيْفَ بَدْءُ الْغُسْلِ: كانَ النَّاسُ مَجْهُودِيْنَ يَلْبَسُوْنَ الصُّوفَ، وَيَعْمَلُونَ عَلٰى ظُهُورِهِمْ، وَكَانَ مَسْجِدُهُمْ ضَيِّقًا مُقَارِبَ السَّقْفِ، إِنَّمَا هُوَ عَرِيْشٌ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ يَوْمٍ حَارٍّ، وَعَرِقَ النَّاسُ فِيْ ذٰلِكَ الصُّوفِ، حَتّٰى ثَارَتْ مِنْهُمْ رِيَاحٌ، آذٰى بِذٰلِكَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا. فَلَمَّا وَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- تِلْكَ الرِّيَاحَ قَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمُ فَاغْتَسِلُوْا،وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ أَفْضَلَ مَا يَجِدُ مِنْ دُهْنِهٖ وَطِيْبِهٖ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ثُمَّ جَاءَ اللّٰهُ بِالْخَيْرِ وَلَبِسُوا غَيْرَ الصُّوفِ وَكُفُوا الْعَمَلَ، وَوُسِّعَ مَسْجِدُهُمُ، وَذَهَبَ بَعْضُ الَّذِيْ كَانَ يُؤْذِيْ بَعْضُهُمْ بَعْضًا مِنَ الْعَرَقِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 544 ، باب : مسنون غسل کا باب