30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلکہ اسے اس بات کا یقین ہونا چاہئے کہ اللہ تَعَالٰی کی جانب سے بندے کو جو زیادہ رزق ملتا ہے وہ ان مقامات سے آتا ہے جن کے بارے میں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔
ارشادِ خداوندی ہے :
وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲)وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ (الطلاق : ۶۵؍۲۔۳)
ترجمہ کنزالایمان : اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں سے اس کا گمان نہ ہو
تو جس دروازے سے اسے رزق کا انتظار تھا اگر وہ بند ہوجائے تو اس سے اس کے دل میں اضطراب اور پریشانی نہیں آنی چاہئے۔
رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : اللہ تَعَالٰی اپنے مومن بندے کو وہاں سے رزق دیتا ہے جس کے بارے میں اس کا گمان نہیں ہوتا۔ (کنز العمال)
حضرت سفیان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اللہ سے ڈرو تم کسی متقی کو محتاج نہیں دیکھو گے یعنی اللہ تَعَالٰی کسی متقی کو یوں نہیں چھوڑتا کہ اس کی ضرورتیں پوری نہ ہوں بلکہ اللہ تَعَالٰی مسلمانوں کے دلوں میں ڈالتا ہے کہ وہ اس تک اس کا رزق پہنچائیں ۔
حضرت مُفَضَّل ضبی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں میں نے ایک دیہاتی سے کہا تم کہاں سے کھاتے پیتے ہو؟ اس نے کہا حاجیوں کی نذر سے، میں نے کہا جب وہ چلے جاتے ہیں تو پھر کہاں سے کھاتے ہو؟ اس پر وہ رو پڑا اور کہنے لگا اگر ہم یوں زندگی گزارتے کہ ہمیں معلوم ہوتا تو ہم زندہ نہ رہتے۔
حضرت ابو حازم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں نے دنیا کو دو چیزوں کی صورت میں پایا ایک وہ جو میرے لئے ہے تو میں اس کے وقت سے پہلے اس کے لئے جلدی نہیں کرتا اگرچہ میں اسے آسمانوں اور زمین کی قوت سے طلب کروں اور دوسری چیز وہ ہے جو میرے غیر کے لئے ہے وہ مجھے پہلے بھی نہیں ملی اور آئندہ بھی نہیں ملے گی دوسروں کی چیز کو مجھ سے اسی ذات نے روکا ہے جس نے میری چیز کو ان سے روکا ہے تو میں ان دو باتوں میں اپنی زندگی کیوں تباہ کروں ۔
تو معرفت کی جہت سے حرص اور لالچ کا علاج یہی ہے اور اسے حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ شیطان کا ڈرانا اور محتاجی کا خوف دلانا ختم ہوجائے۔
(۳)اس بات کی پہچان حاصل ہونی چاہئے کہ قناعت میں دوسروں سے بے نیازی کی عزت حاصل ہوتی ہے اور لالچ اور حرص کی صورت میں ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب آدمی کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے تو وہ قناعت کی طرف مائل ہوتا ہے اور اس کا جذبہ پیدا ہوتا ہے کیونکہ حرص کی صورت میں مشقت برداشت کرنا پڑتی ہے اور لالچ، ذلت سے خالی نہیں ہوتی جب کہ قناعت میں خواہش اور زوائد سے صبر کی تکلیف برداشت کرنا ہوتی ہے اوریہ وہ تکلیف ہے جس پر صرف اللہ تَعَالٰی ہی مطلع ہوتا ہے اور اس میں آخرت کا ثواب بھی ہے۔ جب کہ لالچ اور حرص ایسی چیزیں ہیں کہ جن کی طرف لوگوں کی نظریں مائل ہوتی ہیں یعنی حریص اور لالچی شخص کی حرص و طمع لوگوں سے پوشیدہ نہیں رہتی اور اس کا وبال اور گناہ الگ ہے۔ عزت نفس چلی جاتی ہے اور حق کی اتباع کی طاقت بھی نہیں رہتی کیونکہ جو شخص زیادہ حرص اور لالچ کرتا ہے وہ لوگوں کا زیادہ محتاج ہوتا ہے لہٰذا وہ لوگوں کو حق کی طرف بلا نہیں سکتا اور وہ منافقت سے کام لیتا ہے ایسے آدمی کا دین ہلاک ہوجاتا ہے اور جو آدمی اپنے نفس کی عزت کو پیٹ کی خواہش پر ترجیح نہیں دیتا اس کی عقل بہت کمزور ہے اور ایمان ناقص ہے۔
رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :
عِزُّ الْمُؤْمِنِ اسْتِغْنَاؤُہٗ عَنِ النَّاسِ۔
مومن کی عزت لوگوں سے بے نیاز رہنا ہے۔
قناعت میں آزادی بھی ہے اور عزت بھی، اسی لئے کہا گیا ہے جس سے کچھ لینا چاہتا ہے اس سے بے نیاز رہ اس کی مثل ہوجائے گا جس سے کوئی حاجت طلب کرے گا اس کا اسیر ہوجائے گا اور جس پر چاہے احسان کر اس کا امیر ہوجائے گا۔
(۴)یہود و نصاریٰ کی عیش پرستی، ذلیل ورسوا قسم کے لوگوں بیوقوف کُردوں (کُردایک قبیلہ ہے) اُجڈ دیہاتیوں اور ایسے لوگوں کی حالت کو دیکھ جن کا نہ کوئی دین ہے اور نہ عقل، پھر انبیاء کرام اور اولیاء کرام کے احوال ملاحظہ کر خلفاء راشدین اور باقی صحابہ کرام کے حالات زندگی دیکھ تابعین کو دیکھ اور پھر ان کی باتیں غور سے سن کر ان کے حالات کا مطالعہ کر اور اس کے بعد اپنی عقل کو اختیار دے کہ وہ ذلیل و رسوا قسم کے لوگوں کی پیروی کو پسند کرتی ہے یا ان لوگوں کی اقتدا چاہتی ہے جو اللہ تَعَالٰی کی مخلوق میں سب سے زیادہ معزز ہیں تاکہ معیشت کی تنگی اور تھوڑے رزق پر قناعت آسان ہوجائے اگر پیٹ کو ہی زیادہ بھرنا ہے تو گدھا زیادہ کھاتا ہے اگر جماع کی فروانی چاہتا ہے تو اس سے خنزیر کا رتبہ زیادہ ہوگا اگر لباس اور سواریوں کی زینت مطلوب ہے تو کئی یہودیوں کو زیادہ زینت حاصل ہے اور اگر تھوڑے پر قناعت اور راضی رہے تو اس صورت میں صرف انبیاء کرام اور اولیاء کرام کے ساتھ شریک ہوگا۔
(۵)مال جمع کرنے کا جو خطرہ ہے اسے سمجھنا چاہئے جیسا کہ ہم نے اس کی آفات کے ذکر میں بیان کیا ہے۔ اس میں چوری لُوٹ کھسوٹ اور ضائع ہونے کا خطرہ رہتا ہے اور جب ہاتھ خالی ہوتا ہے تو امن اور فراغت ہوتی ہے ہم نے مال کی آفات کے سلسلے میں جو کچھ ذکر کیا ہے ان سب پر غور کرنا چاہئے اس کے علاوہ پانچ سو سال تک جنت سے دُور رہے گا اور جب وہ بقدرِ کفایت پر قناعت نہیں کرتا تو اغنیاء کے گروہ میں شامل ہوتا ہے اور فقراء کی فہرست سے نکل جاتا ہے اور یہ غور و فکر اس طرح پوری ہوگی کہ دنیا کے معاملے میں ہمیشہ اپنے سے نیچے کے لوگوں کی طرف دیکھے اوپر والوں کی طرف نہ دیکھے کیوں کہ شیطان ہمیشہ اس کی نظر کو اوپر والوں کی طرف پھیرتا ہے اور کہتا ہے کہ طلبِ مال میں کوتاہی کیوں کرتے ہو حالانکہ مال دار لوگوں کو اچھے اچھے کھانے اور عمدہ لباس حاصل ہیں اور دین کے معاملے میں شیطان اس کی نگاہ کو اپنے سے نیچے والوں کی طرف پھیرتا ہے اور کہتا ہے کہ اپنے نفس کو کیوں مشقت اور تنگی میں ڈالتے ہو اور اللہ تَعَالٰی سے ڈرتے رہتے ہو حالانکہ فلاں شخص تجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے اور وہ اللہ تَعَالٰی سے نہیں ڈرتا تمام لوگ عیش و عشرت میں مشغول ہیں تم ان سے کہاں ممتاز ہونا چاہتے ہو۔
حضرت ابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : مجھے میرے خلیل (نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے وصیت فرمائی ہے کہ میں (دنیا کے معاملے میں ) اپنے سے نیچے درجے والے کو دیکھوں اوپر والے کو نہیں ۔ (مجمع الزوائد، کتاب الوصایا) حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع