دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

جگہ منتقل کر چکے تھے، کہنے لگا، بہت خوب آپ نے اس طاقت کا مظاہرہ کیا جس کا مجھے گمان بھی نہ تھا، سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، پھر اس شخص کو سفر پر جانا پڑگیا تو آپ علیہ السلام سے عرض کی، میں آپ کو امانتدار سمجھتا ہوں آپ میرے پیچھے میرے گھر اور مال کے نگہبان رہیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، آپ مجھے کوئی کام کہہ جائیے، تو اس نے عرض کی مجھے یہ پسند نہیں کہ آپ کو مشقت میں ڈالوں تو آپ  علیہ السلام نے فرمایا، مجھ پر کوئی مشقّت نہ ہوگی آپ کہئے، تو اس نے کہا میرے آنے تک میرے گھر     

لَیْسَ یَشُقُّ عَلَيَّ۔ قَالَ :  فَاضْرِبْ مِنَ اللَّبِنِ لِبَیْتِيْ حَتّٰی أَقْدُمَ عَلَیْکَ۔ قَالَ :  فَمَرَّ الرَّجُلُ لِسَفَرِہِ قَالَ :  فَرَجَعَ الرَّجُلُ وَقَدْ شَیَّدَ بِنَائَہُ قَالَ :  أَسْأَلُکَ بِوَجْہِ اللّٰہِ مَا سَبَبُکَ وَمَا أَمْرُکَ؟ قَالَ :  سَأَلْتَنِيْ بِوَجْہِ اللّٰہِ وَوَجْہُ اللّٰہِ أَوْقَعَنِيْ فِيْ ھٰذِہِ الْعُبُوْدِیَّۃِ، فَقَالَ الْخَضِرُ  سَأُخْبِرُکَ مَنْ أَنَا أَنَا الْخَضِرُ الَّذِیْ سَمِعْتَ بِہِ سَأَلَنِیْ مِسْکِیْنٌ صَدَقَۃً فَلَمْ یَکُنْ عِنْدِیْ شَیْئٌ أُعْطِیْہِ فَسَأَلَنِيْ بِوَجْہِ اللّٰہِ فَأَمْکَنْتُہُ مِنْ رَقَبَتِيْ فَبَاعَنِيْ وَأُخْبِرُکَ أَنَّہُ مَنْ سُئِلَ بِوَجْہِ اللّٰہِ فَرَدَّ سَائِلَہُ وَھُوَ یَقْدِرُ  وَقَفَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ جِـلْدَۃً،

کے لیے اینٹیں بنا یئے، سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں ، پھر وہ شخص سفر پر چلا گیا جب لوٹا تو آپ اس کے گھر کی تعمیر مکمل کر چکے تھے تو اس نے خضر علیہ السلام سے عرض کی، خدا کے لیے مجھے بتایئے کہ آپ کا کیا معاملہ ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، آپ نے مجھ سے خدا کا واسطہ دے کر سُوال کیا ہے حالانکہ اسی واسطہ دینے نے مجھے اس غلامی میں ڈالا، حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا میں آپ کو بتا دیتاہوں کہ میں کون ہوں ، میں ہی خضر ہوں کہ جس کے متعلق آپ نے سن رکھا ہے (ایک روز)مجھ سے ایک مسکین نے صدقہ مانگا اسے دینے کے لیے اُس وقت میرے پاس کوئی چیز نہ تھی، پھر اس نے مجھ سے  اللہ  کے نام پر مانگا تو میں نے اُسے اپنی ذات پر اختیار دے دیا، تو اس نے مجھے بیچ دیا اور میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ جس شخص سے  اللہ  کے نام کا سوال ہو اور وہ مانگنے والے کو تہی دست  لوٹادے حالانکہ وہ دینے کی استطاعت بھی رکھتا ہو تو قیامت کے دن لرزتا ہوا یوں کھڑا ہو گا کہ اس کے بدن   

وَلَا لَحْمَ لَہُ یَتَقَعْقَعُ، فَقَالَ الرَّجُلُ :  آمَنْتُ بِاللّٰہِ، شَقَّقْتُ عَلَیْکَ یَا نَبِيَّ اللّٰہِ وَلَمْ أَعْلَمْ۔ قَالَ :  لَا بَأْسَ أَحْسَنْتَ وَأَتْقَنْتَ، فَقَالَ الرَّجُلُ :  بِأَبِيْ أَنْتَ وَأُمِّيْ یَا نَبِيَّ اللّٰہِ احْکُمْ فِيْ أَھْلِيْ بِمَا شِئْتَ، أَوِ اخْتُرْ فَأُخَلِّيَ سَبِیْلَکَ۔ قَالَ :  أَحِبُّ أَنْ تُخَلِّيَ سَبِیْلِيْ فَأَعْبُدَ رَبِّيْ فَخَلّٰی سَبِیْلَہُ، فَقَالَ الْخَضِرُ :  الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَوْثَقَنِيْ فِي الْعُبُودِیَّۃِ، ثُمَّ نَجَّانِيْ مِنْھَا‘‘۔[1]؎

پرگوشت نہ ہوگا صرف کھال ہوگی، تو اس شخص نے عرض کی میں  اللہ  پر ایمان لایامیں نے لاعلمی میں آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو مشقت میں مبتلا کردیا، آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کوئی بات نہیں تم نے اچھا معاملہ کیا اور مجھ پر اعتماد کیاتو خریدار نے عرض کی، آپ پر میرے ماں باپ قربان اے  اللہ  کے نبی!میرے اہل کے بارے میں جیسا آپ چاہیں حکم فرمائیں یاچاہیں تو آپ کو آزاد کردوں تو خضر علیہ السلام نے فرمایا، مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ آپ مجھے آزاد کردیں تاکہ میں اپنے رب کی بندگی کرتا رہوں تو اُس شخص نے انہیں آزاد کردیا تو خضر علیہ السلام نے فرمایا :  تمام خوبیاں  اللہ  کے لئے جس نے مجھے اس غلامی میں ثابت قدم رکھا پھر مجھے اس سے نجات عطا فرمائی۔   

مانگنے میں اصرار کرنا                                 

     مانگنے میں اصرار کرنا بہت قبیح فعل ہے کہ نہ صرف مانگنے والے کی عزت کم ہوتی چلی جاتی ہے بلکہ یہ امر دینے سے انکار والے پر بھی گراں گزرتا ہے۔ مانگنے والے کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ رازق برحق  اللہ   تَعَالٰی  ہے دیگر اسباب تو اُسی کے پیدا کردہ ہیں ، چنانچہ :

عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِيْ سُفْیَانَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُقَالَ :  قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  ’’لَا تُلْحِفُوْا فِي الْمَسْأَلَۃِ، فَوَاللّٰہِ لَا یَسْأَلُنِيْ أَحَدٌ مِّنْکُمْ شَیْئاً فَتُخْرِجُ لَہُ مَسْأَلَتُہُ مِنِّيْ شَیْئاً، وَأَنَا لَہُ کَارِہٌ، فَیُبَارَکُ لَہُ فِیْمَا أَعْطَیْتُہُ‘‘۔[2]؎

حضرت معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں ، رسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، مانگنے میں زاری (ضد) نہ کرو  اللہ  کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا کہ میرے ناچاہتے ہوئے تم میں سے کوئی مجھ سے کچھ مانگ کر لے جائے اور پھر اس میں برکت دی جائے۔

        حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’یعنی سوال پر اڑ نہ جاؤ کہ سامنے والا دینا نہ چاہے اور تم بغیر لئے ٹلنا نہ چاہو، مانگنا ایک عیب ہے اور اس پر اڑنا دس گنا عیب، رب  تَعَالٰی  فرماتا ہے: (لَا یَسْــٴَـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًاؕ    )‘‘۔ (البقرۃ : ۲/۲۷۳) ترجمہ :  لوگوں سے سوال نہیں کرتے کہ گڑگڑانا پڑے (کنزالایمان)۔   

         ’’حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ذکر تو اپنا فرمایا مگر قانون کلی فرمایا کہ جو بھکاری بھی ضد یا اڑ سے بھیک وصول کرے، دینے والا دینا نہ چاہے، تو اس سے بھیک میں سخت بے برکتی ہوگی، امام غِزالی فرماتے ہیں جو فقیر یہ جانتے ہوئے بھیک لے کہ دینے والا شخص شرم و ندامت کی وجہ سے دے رہا ہے اس کا دل دینے کو نہ چاہتا تھا، تو یہ مال بھکاری کے لئے حرام ہے، خیال رہے کہ بھکاری کی ضد اور ہے چندہ کرنے والوں کا لحاظ کچھ اور، ضد حرام ہے لحاظ کا یہ حکم نہیں ، آج مسجدوں مدرسوں کے چندوں میں عموماً دیکھا گیا ہے کہ شہر کا بڑا معزز مالدار آدمی زیادہ وصول کرسکتا ہے، پھر اپنے لئے مانگنے اور دینی کاموں کے لئے چندہ کرنے کے احکام میں فرق ہے‘‘۔[3]؎

        ایک دوسری حدیث شریف :

 



2     (المعجم الکبیر للطبراني، الحدیث : ۷۵۳۰، ج۸، ص۱۱۳)

 (الترغیب والترہیب، کتاب الصدقات، ترہیب السائل أن یسأل۔۔۔الخ، الحدیث۶، ج۱، ص۳۱۱)

 

1     (سنن الدارمي، کتاب الزکاۃ، باب التشدید علی۔۔۔الخ، الحدیث :  ۱۶۴۴ ص۴۸۰)

$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن