دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

رکھوں گا، اور جو  سوال سے بچنا چاہے  أَعْطَی اللّٰہُ أَحَداً عَطَائً ھُوَ خَیْرٌ لَّہُ، وَأَوْسَعُ مِنَ الصَّبْرِ‘‘۔[1]؎

 اللہ  اُسے بچائے گا اور جو غنی بننا چاہے  اللہ  اُسے غنی کر دیگا اور جو صبر چاہے  اللہ   تَعَالٰی  اُسے صبر عطا کریگا اور  اللہ  نے صبر سے بہتر اور وسیع عطا کسی کو نہ دی۔

        اس حدیث کی شرح میں حکیم الامت رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : وہ حضرات مانگتے رہے اور حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَدیتے رہے انہیں سب کچھ دے کر مسئلہ بتایا، اس میں تبلیغ بھی ہے اور سخاوت مطلقہ کا اظہار بھی معلوم ہوا کہ بلا ضرورت مانگنے والوں کو دینا حرام نہیں اگرچہ انہیں مانگنا ممنوع ہے خیال رہے کہ جس کو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کچھ خوش ہوکر دیا ہے وہ بہت عرصہ تک ختم نہ ہوا، چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو تھوڑے تھوڑے جو عطا فرمائے تھے جو اُن بزرگوں نے سالہا سال کھائے اور کھلائے، پھر جب تولے تو اتنے ہی تھے مگر تولنے سے ختم ہوگئے، حضرت طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ہاں ساڑھے چار سَیْر جَو کی روٹی پر سینکڑوں آدمیوں کی دعوت فرمائی۔

        حکیم الامت رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید فرماتے ہیں : یہ حدیث اس حدیث قدسی کی شرح ہے  أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ یعنی رب  تَعَالٰی  فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے قریب رہتا ہوں اس کا ظہور آخرت میں تو ہوگا ہی کہ اگر بندہ معافی کی امّید کرتا ہوا مرجائے تو اِنْ شَآءَ اللہ  اُسے معافی ہی ملے گی، اکثر دنیا میں بھی ہوجاتا ہے کہ جو قرض نہ لینے نہ مانگنے کا خدا کے بھروسے پر پورا ارادہ کرلے تو  اللہ   تَعَالٰی  اسے ان سے بچا ہی لیتا ہے اور جو یہ کوشش کرے کہ دنیا والوں سے لاپرواہ رہوں تو بہت حد تک  اللہ   تَعَالٰی  اُسے لاپرواہ ہی رکھتا ہے، مگر یہ فقط زبانی دعویٰ نہ ہو عملی کوشش بھی ہو کہ کمانے میں مشغول رہے، خرچ درمیانہ رکھے، گُل چھرّے نہ اُڑائے  اللہ  رسول سچّے ہیں ان کے وعدے حق، غلطی ہم کرجاتے ہیں ۔

        ’’جو صبر چاہے  اللہ   تَعَالٰی  اُسے صبر عطا کریگا‘‘اس کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : رب  تَعَالٰی  کی عطاؤں میں سے بہترین اور بہت گنجائش والی عطا صبر ہے کہ رب  تَعَالٰی  نے اس کا ذکر نماز سے پہلے فرمایا :   (اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ ) ((البقرۃ : ۲/۱۵۳) ترجمہ :  صبر اور نماز سے مدد چاہو (کنزالایمان)) اور صابر کے ساتھ  اللہ  ہوتا ہے، نیز صبر کے ذریعہ انسان بڑی بڑی مشقتیں برداشت کرلیتاہے اور بڑے بڑے درجے حاصل کرلیتا ہے، رب  تَعَالٰی  نے ایوب علیہ السلام کے بارے میں فرمایا :   (اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًاؕ  ) (ص : ۴۴) ہم نے انہیں بندئہ صابر پایا، صبر ہی کی برکت سے حضرت حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسیّد الشہداء ہوئے۔[2]؎

        اور غِنَاء کثرتِ مال کا نام نہیں بلکہ اصل غِنَاء تو دل کی تونگری ہے، چنانچہ :   

عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ :  ’’لَیْسَ الْغِنٰی عَنْ کَثْرَۃِ الْعَرَضِ، وَلٰکِنَّ الْغِنٰی غِنَی النَّفْسِ‘‘۔[3]؎

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں :  سید المبلغین، رحمۃللعالمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  امیری زیادہ مال و اسباب سے نہیں بلکہ امیری دل کی غنا سے ہے۔

        حکیم الامت رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں : دل کی غنا سے مراد قناعت وصبر، رضا بر قضا ہے۔ حریص مالدار فقیر ہے قناعت والا غریب امیر ہے،  شعر

توانگری نہ بمال است نزد اہل کمال    ٭   کہ مال تَا لَبِ گور است بعد ازاں اعمال

(یعنی اہلِ کمال کے ہاں تونگری وخوشحالی مال سے نہیں کہ مال تو قبر کے کنارے تک ہے اس کے بعد تو اعمال ہیں )ہوسکتا ہے کہ غنی نفس سے مراد کمالات روحانیہ ہوں کہ اس کی برکت سے دولت مند اس کے دروازہ کی خاک چاٹتے ہیں دیکھ لو داتا گنج بخش اور خواجہ اجمیری کے آستانےرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا۔ حضرت علی فرماتے ہیں ،  شعر   

رضینا قسمۃ الجبّار فینا   ٭     لنا علم وللجھال مالٗ     

فإنّ المال یفني عن قریب   ٭     وإنّ العلم باقٍ لا یزالٗ  [4]؎

(ہم اپنے درمیان رب  تَعَالٰی  کی تقسیم پر راضی ہیں ، کہ ہمارے لئے علم ہے اورجاہلوں کے لئے مال، بے شک مال جلد فناء ہوجائے گا اور بے شک علم باقی رہے گا زائل نہ ہوگا)

        حدیث شریف میں ہے :

 



4     (سنن الدارمي، کتاب الزکاۃ، باب في الاستعفاف عن المسألۃ، الحدیث : ۱۶۵۲، ص۴۸۱)

(صحیح البخاري، کتاب الزکاۃ، باب الاستعفاف عن المسألۃ، الحدیث : ۱۴۶۹، ج۱، ص۳۶۱)

(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب فضل التعفف والصبر، الحدیث : ۱۰۵۳، ص۳۷۶)

(سنن أبي داود، کتاب الزکاۃ، باب في الاستعفاف، الحدیث : ۱۶۴۴، ج۲، ص۲۰۲)

(سنن الترمذي، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في الصبر، الحدیث : ۲۰۲۴، ج۳، ص۱۲۳)

(سنن النسائي، کتاب  الزکاۃ، باب الاستعفاف عن المسألۃ، الحدیث :  ۲۵۸۷، ص۱۰۰)

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہ، الحدیث : ۱۸۴۴، ج۱، ص۳۵۰)

1    (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج ۳، ص۵۹۔۶۰)

2     (صحیح البخاري، کتاب الرقاق، باب الغنی غنی النفس، الحدیث : ۶۴۴۶، ج۴، ص۱۹۷)

(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب لیس الغنی عن کثرۃ العرض، الحدیث : ۱۰۵۱، ص۳۷۵)

(سنن الترمذي، کتاب الزھد، باب ما جاء أن الغنی غنی النفس، الحدیث : ۲۳۷۳، ج۳، ص۳۱۸)

(سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب القناعۃ، الحدیث : ۴۱۳۷، ج۴، ص۴۸۲)

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الرقاق، الفصل الأول، الحدیث : ۵۱۷۰، ج۲، ص۲۴۴)

3     (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ الصابیح، ج ۷، ص۱۱۔۱۲)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن