30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر فرمایا : اے قبیصہ! تین شخصوں کے سواء کسی کو مانگنا جائز نہیں ایک وہ جو کسی قرض کا ضامن ہوگیا ہو اُسے مانگنا جائز ہے حتی کہ بقدرِ قرض پالے پھر باز رہے، ایک وہ جس پر آفت آجائے جو اُس کا مال برباد کردے اُسے مانگنا حلال ہے حتی کہ زندگانی کا قیام پائے یا فرمایا کہ زندگی کی درستی پائے، اور ایک وہ جسے فاقہ پہنچ جائے حتی کہ اس کی قوم کے تین عقلمند شخص گواہی دیں کہ فلاں کوفاقہ پہنچا ہے تو اُسے مانگنا حلال ہے حتی کہ زندگی کا قیام یافرمایا : زندگی کی درستی پائے، اے قبیصہ! ان تین باتوں کے سواء مانگنا حرام ہے کہ مانگنے والا حرام کھاتا ہے۔
’’قرض کا ضامن بن گیاتھا‘‘اس کی وضاحت کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس ضمانت کی صورت یہ ہوتی ہے کہ دو قومیں دیت یا دوسرے قرض کی وجہ سے آپس میں لڑنے لگیں ، کوئی اُن میں صلح کرانے اور دفع شر کے لئے مقروض کا قرض یا مقتول کی دیت اپنے ذمہ لے لے یعنی دفع فساد یا صلح کرانے کے لئے مال کا ضامن بن جانا یا اپنے ذمہ لے لینا۔
’’ٹھہرو حتی کہ صدقہ آجائے‘‘اس کے تحت حکیم الامت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : صدقہ سے مراد ظاہری جانوروں کی پیداوار کی زکوٰۃ ہے جو حکومت اسلامیہ وصول کرتی تھی یا مال باطنی یعنی سونے چاندی وغیرہ کی زکوٰۃ جو غنی صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمحضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں حاضر کرتے تھے تاکہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہی خیرات کردیں اور حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی برکت سے خیرات قبول ہو یعنی اے قبیصہ! اتنا توقف کرو کہ زکوٰۃ وصول ہوجائے تو اس سے تمہارا زرِ ضمانت ادا کردیا جائیگا۔
’’بقدر قرض پالے پھر باز رہے‘‘اس کے تحت فرماتے ہیں : اس سے معلوم ہوا کہ ایسا ضامن اگرچہ مالدار بھی ہو تو صدقہ مانگ سکتا ہے کیونکہ یہ مانگنا اپنے لئے نہیں بلکہ اُس مقروض فقیر کے لئے ہے جو فقیر ہے جس کا یہ ضامن ہے، رب تَعَالٰی نے زکوٰۃ کے مصارف میں غارمین (مقروضوں ) کا بھی ذکر فرمایا ہے وہ یہ ہی مقروض ہیں ۔[1]؎
ایک اور حدیث شریف میں سُوال سے اجتناب کی تعلیم فرمائی گئی، چنانچہ :
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’اِسْتَغْنُوْا عَنِ النَّاسِ، وَلَوْ بِشُوْصِ السِّوَاکِ‘‘۔[2]؎
حضرت عبد اللہ بن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے فرماتے ہیں : تاجداررسالت، شہنشاہ نبوت، مخزنِ جودوسخاوت، پیکر عظمت و شرافت، محبوب ر ب العزت، محسن انسانیتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : لوگوں سے مانگنے سے احتراز کرو اگرچہ مسواک ہی کیوں نہ ہو۔
حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : بے شک لالچ فقر ہے اور (لوگوں سے) ناامیدی، مالداری ہے جو شخص لوگوں کے پاس موجود چیزوں سے ناامید ہوجائے تو وہ لوگوں سے بے نیازہوجاتا ہے۔ کسی دانا سے پوچھا گیا کہ مالداری کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا : تیرا خواہش کم کرنا اور جو کچھ موجود ہو اسی پرراضی رہنا مالداری ہے۔[3]؎
باصرارمانگنے والے کو اللہ تَعَالٰی ناپسند فرماتا ہے (نعوذ ب اللہ من ذلک)، چنانچہ :
عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰی یَأْمَنَ جَارُہُ بَوَائِقَہُ
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک اس کا ہمسایہ اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو
وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ، فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْراً أَوْ لِیَسْکُتْ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْغَنِيَّ الْحَلِیْمَ الْمُتَعَفِّفَ، وَیَبْغَضُ الْبَذِيَّ الْفَاجِرَ السَّائِلَ الْمُلِحَّ‘‘۔ رواہ البزار۔[4]؎
اور جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کا احترام کرے اور جو اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے، بے شک اللہ تَعَالٰی سوال سے بچنے والے غنی بردبار کو پسند فرماتا ہے اور بدگو فاجر باصرار مانگنے والے کوناپسند فرماتا ہے۔
کسی دانا سے پوچھا گیا کہ سمجھدار کے لئے زیادہ خوشی کا باعث کیا چیز ہے اور غم دور کرنے میں کون سی چیز زیادہ معاون ثابت ہوسکتی ہے؟ انہوں نے جواب دیا : اس کے لئے زیادہ خوشی کا باعث وہ نیک اعمال ہیں جو اس نے آگے بھیجے ہوں اور اس کا غم اسی وقت دور ہوسکتا ہے جب وہ اللہ تَعَالٰی کے فیصلے پر راضی ہو۔[5]؎
جہنم میں داخل ہونے والے پہلے تین اشخاص میں فاجر فقیر بھی شامل ہے :
عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں ، آقائے مظلوم، سرورمعصوم، حسن اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : مجھ پر وہ تین
ثَلَاثَۃٍ یَّدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ، وَأَوَّلُ ثَلَاثَۃٍ یَدْخُلُوْنَ النَّارَ، فَأَمَّا أَوَّلُ الثَّلَاثَۃِ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃِ : فَالشَّھِیْدُ، وَعَبْدٌ مَمْلُوْکٌ أَدّٰی حَقَّ اللّٰہِ وَنَصَحَ لِسَیِّدِہِ، وَفَقِیْرٌ مُتَعَفِّفٌ ذُوْ عِیَالٍ، وَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَۃٍ یَدْخُلُوْنَ النَّارَ فَسُلْطَانٌ مُسَلِّطٌ وَذُوْ ثَرْوَۃٍ مِنَ الْمَالِ لَمْ یُعْطِ حَقَّ مَالِہِ وَفَقِیْرٌ فَجُوْرٌ‘‘۔[6]؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع