دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

قدرت میں محمد کی جان ہے تین باتیں ہیں جن پر میں قسم کھاسکتا ہوں ، صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا تو صدقہ دیا کرو اور بندہ  اللہ  کی رضا کی خاطر ظلم کو درگزرنہیں کرتا مگر اللہ   تَعَالٰی  بروزِ قیامت اُسے عزّت عطا فرمائے گا اور بندہ  سوال کا دروازہ نہ کھولے گا مگر اللہ   تَعَالٰی  اس پر فقیری کا دروازہ کھول دے گا۔   

        حضرت عبد  اللہ  بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :  جب تم میں سے کوئی شخص اپنی ضرورت طلب کرے تو نرمی سے طلب کرے اور کسی کے پاس جاکر یہ نہ کہے کہ تم ایسے ہو تم ایسے ہو کہ اس کی پیٹھ توڑ دے (یعنی تعریف میں مبالغہ کرتا جائے) کیوں کہ رزق تو اتنا ہی ملے گا جو اس کے نصیب میں ہے۔

         بنو امیہ میں سے کسی نے حضرت ابو حازم رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ  کو خط لکھا اور قسم دے کر کہا جو حاجات ہوں مجھے بتائیں حضرت ابو حازم رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواباً لکھا :  میں نے اپنی حاجات اپنے مولا عَزَّ وَجَلَّ  کے ہاں پیش کردی ہیں تو وہ جو کچھ دے گا قبول کروں گا اور جو کچھ مجھ سے روک رکھے گا اس پر صبر کروں گا۔[1]؎

        مانگنے والا حقیقتاً آگ طلب کرتا ہے، چنانچہ :

عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ :  قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ :  یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ لَقَدْ سَمِعْتُ فُلَاناً وَفُلَاناً یُحْسِنَانِ الثَّنَائَ یَذْکُرَانِ أَنَّکَ أَعْطَیْتَھُمَا دِیْنَارَیْنِ۔ قَالَ :  فَقَالَ النَّبِيُّ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :

حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی :  یارسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میں نے فلاں ، فلاں کو سنا وہ بہت اچھی تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے انہیں دو دینار عطا فرمائے۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی کریم رء وف الرحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا :     

            ’’وَاللّٰہِ لٰکِنَّ فُلَاناً مَا ھُوَ کَذٰلِکَ لَقَدْ أَعْطَیْتُہُ مَا بَیْنَ عَشْرَۃٍ إِلٰی مِائَۃٍ فَمَا یَقُوْلُ ذٰلِکَ أَمَا وَاللّٰہِ إِنَّ أَحَدَکُمْ لَیُخْرِجُ مَسْأَلَتَہُ مِنْ عِنْدِيْ یَتَأَ بَّطُھَا‘‘ یَعْنِيْ تَکُوْنُ تَحْتَ إِبْطِہِ نَاراً، فَقَالَ :  قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ :  یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِمَ تُعْطِیْھَا إِیَّاھُمْ؟ قَالَ : ’’فَمَا أَصْنَعُ؟ یَأْبَوْنَ إِلَّا ذٰلِکَ، وَیَأْبَی اللّٰہُ لِيَ الْبُخْلَ‘‘۔[2]؎

 اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! فلاں کا معاملہ تو ایسا نہیں ، میں نے تو اسے دس سے سوکے درمیان دیئے ہیں وہ ایسا کیوں کہتا ہے؟  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! تم میں سے کوئی مجھ سے اپنی مطلوبہ شے بغل میں دبائے لے جاتا ہے، یعنی اس کی بغل کے نیچے آگ ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں :  حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی :  یارسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! تو پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَانہیں کیوں عطا کرتے ہیں ؟آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا :  میں کیا کروں ؟ وہ اس کے بغیر راضی نہیں اور  اللہ   تَعَالٰی  میرے لیے بخل کو ناپسند فرماتا ہے۔

        صاحبِ نزہۃ المجالس فرماتے ہیں کہ میں نے تفسیر علائی میں سورئہ یس شریف کی تفسیر میں دیکھا کہ ایک مرتبہ عیسیٰ علیہ السلام ایک گاؤں سے گزرے تو وہاں والوں کو راستوں میں مردہ حالت میں پایا تو آپ نے  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سے ان کے متعلق پوچھا ،  اللہ   تَعَالٰی  نے انہیں وحی فرمائی کہ جب رات ہو تو ان کو پکارئیے گا یہ آپ کو جواب دیں گے۔جب رات ہوئی تو آپ علیہ السلام نے انہیں پکارا ، ان میں سے ایک بولا : لبیک اے روح  اللہ ! حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا :  تمہارا کیا معاملہ ہے؟ اس نے جواب  دیا :  ہم دن عافیت میں گزارتے تھے اور راتیں خواہشات میں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا :  کیوں ؟ اس نے جواب دیا :  اس لئے کہ ہم دنیا سے یوں محبت کرتے تھے جیسے بچہ ماں سے محبت کرتا ہے جب کوئی دنیاوی اچھائی پاتے تو بہت خوش ہوتے اور جب کوئی مصیبت پڑتی تو روتے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا :  تمہارے ساتھیوں کو کیا ہوا وہ کیوں جواب نہیں دیتے؟ عرض کی :  انہیں عذاب کے فرشتے آگ کی لگامیں ڈالے ہوئے ہیں ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا :  تو تم کیسے ان کے درمیان جواب دے رہے ہو؟ عرض کی :  میں ان میں سے نہیں میں تو بس ان پر عذاب نازل ہوتے وقت ان کے درمیان سے گزر رہا تھا تو وہ عذاب مجھ پر بھی آپہنچا اور میں جہنم کے کنارے ایک بال سے لٹکا ہوا ہوں پس میں نہیں جانتا کہ میں اس سے نجات پاؤں گا یا نہیں ۔[3]؎

        تین قسم کے لوگوں کا سوال کرناجائز ہے۔ چنانچہ :

عَنْ أَبِيْ بِشْرٍ قُبَیْصَۃَ بْنِ الْمُخَارِقِرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ :  تَحَمَّلْتُ حَمَالَۃً، فَأَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُہُ فِیْھَا فَقَالَ :  ’’أَقِمْ حَتّٰی تَأْتِیَنَا الصَّدَقَۃُ فَنَأْمُرَ لَکَ بِھَا‘‘

حضرت ابو بشر قبیصہ بن مخارق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں :  میں ایک قرض کا ضامن بن گیا تھا، تو خاتم المرسلین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراج السالکین، محبوب رب العٰلمین، جناب صادق و امینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں اس کے لئے کچھ مانگنے کو حاضر ہوا، تو حضور نے فرمایا :  ٹھہرو حتی کہ صدقہ آجائے تو ہم اُس کا تمہارے لئے حکم دے دیں گے

ثُمَّ قَالَ :  ’’یَا قُبَیْصَۃُ، إِنَّ الْمَسْأَلَۃَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَہٍ :  رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَۃً فَحَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتّٰی یُصِیْبَھَا ثُمَّ یُمْسِکَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْہُ جَائِحَۃٌ اِجْتَاحَتْ مَالَہُ فَحَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتّٰی یُصِیْبَ قِوَاماً مِنْ عَیْشٍ۔ أَوْ قَالَ۔ سِدَاداً مِنْ عَیْشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْہُ فَاقَۃٌ حَتّٰی یَقُوْلَ ثَلَاثَۃٌ مِنْ ذَوِي الْحِجٰی مِنْ قَوْمِہِ :  لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَاناً فَاقَۃٌ، فَحَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتّٰی یُصِیْبَ قِوَاماً مِنْ عَیْشٍ۔ أَوْ قَالَ۔ سِدَاداً مِنْ عَیْشٍ، فَمَا سِوَاھُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَۃِ یَا قُبَیْصَۃُ سُحْتٌ یَأْکُلُھَا صَاحِبُھَا سُحْتاً‘‘۔[4]؎

 



5     (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، الآثار، ج۳، ص۳۲۰)

1    (الترغیب والترھیب، کتاب الصدقات، فصل، الترھیب من المسألۃ وتحریمھا مع الغنی، الحدیث : ۲۸، ج۱، ص۳۰۰)

2     (نزھۃ المجالس، باب الزھد والقناعۃ والتوکل، ج۲، ص۲۴)

3     (سنن الدارمي، کتاب الزکاۃ، باب من تحل لہ الصدقۃ، الحدیث : ۱۶۸۴، ص۴۹۳)

(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب من تحل لہ المسألۃ، الحدیث : ۱۰۴۴، ص۳۷۳)

(سنن أبي داود، کتاب الزکاۃ، باب ما تجوز فیہ المسألۃ، الحدیث : ۱۶۴۰، ج۲، ص۱۹۸۔۱۹۹)

(سنن النسائي، کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ لمن تحمل بحمالۃ، الحدیث : ۲۵۸۰، ج۳، الجزئ۵، ص۹۳)

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہ، الحدیث : ۱۸۳۷، ج۱، ص۳۴۹)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن