دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

والے مارے گئے، کیونکہ چلّو میں برکت تھی اور اس میں محض کثرت۔

        ’’جو کھائے اور سیر نہ ہو‘‘اس کی وضاحت میں مفتی صاحب فرماتے ہیں :  جوع البقر بیماری والا کھانے سے سیر نہیں ہوتا اور استسقاء والا پانی سے، ان دونوں کی یہ بھُوک اور پیاس کبھی ہلاکت کا باعث ہوجاتی ہے، حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مال کی ہوس کو جوع البقر قرار دیا۔

        مزید فرماتے ہیں : اوپر والے ہاتھ سے مراد دینے والا اور نیچے والے سے مانگ کر لینے والا، خواہ دینے والا نذرانہ کے طور پر نیچا ہاتھ کرکے ہی دے اور لینے والا اوپر ہاتھ کرکے ہی اُٹھائے، مگر پھر بھی دینے والا ہی اونچا ہے، یہاں دینے اور لینے سے مراد بھیک دینا اور لینا ہے اولاد کا ماں باپ کو دینا، مرید صادق کا اپنے شیخ کامل کی خدمت میں کچھ پیش کرنا، انصار کا حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں نذرانے پیش کرنا اس حکم سے علیحدہ ہیں ، اگر ہماری کھالوں کے جوتے بنیں اوررشتۂ جان کے تسمے اور حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاسے استعمال فرمالیں تو ان کے حق کا کروڑواں حصہ ادا نہ ہو اس حدیث سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ غنا فقر سے بہتر ہے، اور غنی شاکر، فقیر صابر سے افضل، مگر حق یہ ہے کہ فقیر صابر غنی شاکر سے افضل ہے، ہماری اس تقریر سے یہ حدیث غنی کے افضل ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی کیونکہ یہاں بھکاری فقیر کا ذکر ہے نہ کہ صابر کا بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ یہاں اوپر والے ہاتھ سے فقیر صابر مراد ہے اور نیچے والے سے بھکاری، تب تو سُبحٰنَ اللہ بہت لطف کی بات ہے۔ 

        مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں : ’’بَعْد‘‘کے معنی ’’سوا‘‘ بہت ہی مناسب ہیں جو شیخ نے اختیار کئے یعنی آپ سے تو جیتے جی قبر میں حشر میں مانگتا ہی رہوں گا کیوں نہ مانگوں میں بھکاری آپ داتا، رب  تَعَالٰی  فرماتا ہے :   (وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ) ((النساء : ۴/۶۴) ترجمہ :  اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں (کنزالایمان)) اور فرماتا ہے :   (وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْؕ  ) ((الضحی : ۹۳/۱۰) ترجمہ :  اور منگتا کو نہ جھڑکو (کنزالایمان)) آپ سے مانگنے میں ہماری عزّت ہے، ہاں آپ کے سواء کسی سے نہ مانگوں گا،  شعر

اُن کے در کی بھیک چھوڑیں سروری کے واسطے

اُن کے در کی بھیک اچھی سروری اچھی نہیں

کل قیامت میں ساری مخلوق حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے شفاعت وغیرہ کی بھیک مانگے گی، حضرت حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ وعدہ ایسا پورا کیا کہ اگر گھوڑے سے آپ کا کوڑا گر جاتا تو خود اُتر کرلیتے کسی سے مانگتے نہیں ۔[1]؎

        سُوال سے گریز کرنے پر جنّت کی بشارت ہے، چنانچہ :   

عَنْ ثَوْبَانَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ :  قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  ’’مَنْ یَکْفُلْ لِيْ أَنْ لَّا یَسْأَلَ النَّاسَ شَیْئاً أَتَکَفَّلْ لَہُ بِالْجَنَّۃِ‘‘فَقُلْتُ :  أَنَا فَکَانَ لَا یَسْأَلُ أَحَداً شَیْئاً۔[2]؎

حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں :  حضورپاک، صاحب لولاک سیاح افلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  جو مجھے اس کی ضمانت دے کہ لوگوں سے کچھ نہ مانگے گا تو میں اُس کے لئے جنت کا ضامن ہوں تومیں نے کہا :   میں ! چنانچہ وہ کسی سے کچھ نہیں مانگا کرتے تھے۔

        مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : یعنی جو مجھ سے بھیک نہ مانگنے کا عہد کرے تو میں اُس کی چار چیزوں کا ذمہ دار ہوتا ہوں ، زندگی تقویٰ پر، موت ایمان پر، کامیابی قبر میں ، چھٹکارا حشر میں ؛کیونکہ جنت ان چار چیزوں کے بعد نصیب ہوگی اس سے معلوم ہوا کہ  اللہ   تَعَالٰی  نے اپنے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اپنی جنت کا مالک و مختار بنایا ہے کیونکہ بغیر اختیار ضمانت کیسی، یہ بھی معلوم ہوا کہ سوال سے بچنے والے کو حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاپنی امان میں لے لیتے ہیں پھر اس پر نہ شیطان کا داؤ چلے، نہ نفس امارہ قابو پائے، جسے وہ اپنے دامن میں چھپالیں اُس کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا تصرف اور حضور علیہ السلام کی امن و امان عالم میں قیامت تک جاری ہے، کیونکہ حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی یہ ضمانت صرف صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے لئے نہیں تا قیامت ہر سوال سے بچنے والے مومن کے لئے ہے۔  شعر   

ڈھونڈا ہی کریں صدرِ قیامت کے سپاہی

وہ کس کو ملے جو ترے دامن میں چھپا ہو

یہاں شیخ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ انبیائے کرام کی یہ ضمانتیں باذنِ الٰہی ہیں اور برحق ہیں حتی کہ ایک پیغمبر کا نام ہی ذی الکفل ہے کیونکہ وہ اپنی اُمّت کے لئے جنت کے کفیل ہوگئے تھے۔

        مزید فرماتے ہیں :  سب سے پہلے اس حدیث پر خود حضرت ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایسا عمل کیا کہ وفات تک کسی سے کچھ نہ مانگا، معلوم ہوا کہ علم پر عالم خود عمل کرے۔[3]؎

        سوال کا انجام فقر ہے چنانچہ :

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ :  ’’ثَلَاثٌ وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بَیَدِہِ إِنْ کُنْتُ لَحَالِفاً عَلَیْھِنَّ :  لَا یَنْقُصُ مَالٌ مِنْ صَدَقَۃٍ فَتَصَدَّقُوْا، وَلَا یَعْفُوْ عَبْدٌ عَنْ مَظْلَمَۃٍ یَبْتَغِيْ بِھَا وَجْہَ اللّٰہِ إِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ بِھَا عِزّاً، وَلَا یَفْتَحُ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَۃٍ إِلَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ بَابَ فَقْرٍ۔[4]؎

حضرت عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضۂ



1     (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج ۳، ص۵۷۔۵۸)

2     (سنن أبي داود، کتاب الزکاۃ، باب کراہیۃ المسألۃ، الحدیث : ۱۶۴۳، ج۲، ص۲۰۱)

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہ، الحدیث۱۸۵۷، ج۱، ص۳۵۳)

3     (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج ۳، ص۶۸)

4       (المسند للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد الرحمان بن عوف، الحدیث : ۱۶۷۴، ج۱، ص۵۱۵)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن