دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

عَنْ أَبِيْ ذَرٍّرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ :  أَوْصَانِيْ خَلِیْلِيْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ :  حُبِّ الْمَسَاکِیْنِ، وَأَنْ أَدْنُوَ مِنْھُمْ، وَأَنْ أَنْظُرَ إِلٰی مَنْ ھُوَ أَسْفَلُ مِنِّيْ، وَلَا أَنْظُرَ إِلٰی مَنْ فَوْقِيْ، وَأَنْ أَصِلَ رَحِمِيْ وَإِنْ جَفَانِيْ،

حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں :  مجھے میرے خلیل صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے سات باتوں کی وصیت فرمائی ہے، مسکینوں سے محبت کی اوریہ کہ ان سے قریب ہوجاؤں ، اپنے سے کم تر کو دیکھوں اور اپنے سے برتر کو نہ دیکھوں ، اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کروں اگرچہ وہ مجھ سے بے وفائی  وَأَنْ أُکْثِرَ مِنْ :  لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، وَأَنْ أَتَکَلَّمَ بِمُرِّ الْحَقِ لَا تَأْخُذَنِيْ فِي اللّٰہِ لَوْمَۃُ لَائِمٍ، وَأَنْ لَّا أَسْأَلَ النَّاسَ شَیْئاً۔[1]؎

 کریں ، اور کثرت سے  لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ پڑھوں ، حق بات کہوں اور اللہ   تَعَالٰی  کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کروں ، لوگوں سے کچھ نہ مانگوں ۔

        حضرت عبد  اللہ  بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کعب احبار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے پوچھا کہ علماء کے دلوں سے علم کو کونسی چیز لے جاتی ہے جبکہ وہ اسے سمجھ بھی لیتے ہیں اور یاد بھی کرلیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا :  نفس کی حرص اور حاجات کی طلب۔

        ایک شخص نے حضرت فُضَیْل رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ  سے حضرت کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے اس قول کی وضاحت پوچھی تو انہوں نے فرمایا :  جب آدمی کسی چیز کی لالچ کرتا ہے تو اسے طلب کرتا ہے یوں وہ اپنا دین کھو بیٹھتا ہے جہاں تک حرص کا تعلق ہے تو نفس کی حرص کبھی اس چیز کی طرف جاتی ہے اور کبھی اُس چیز کی طرف حتی کہ وہ کسی بھی چیز کے ہاتھوں سے نکل جانے کو پسندنہیں کرتا اور بعض اوقات تمہیں کسی شخص سے غرض ہوتی ہے اور اس سے کوئی کام ہوتا ہے پھر جب وہ تمہارا  کام پورا کردیتا ہے تو تمہاری نکیل اس کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے وہ جہاں چاہتا ہے تمہیں لے جاتا ہے وہ تم پر قادر ہوتا ہے اور تم اس کے سامنے جھکتے ہو اور دنیا کی محبت کے باعث جب تم اس کے پاس سے گزرتے ہو تو اسے سلام کرتے ہو جب وہ بیمار ہوتا ہے تو اس کی عیادت کرتے ہو تم اسے رضائے خداوندی کی خاطر سلام نہیں کرتے اور نہ ہی عیادت سے رضائے الٰہی مقصود ہوتی ہے پس اگر تمہیں اس سے کوئی کام نہ ہوتا تو تمہارے لئے اچھا تھا پھر حضرت فضیل رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے فرمایا کہ یہ بات فلاں فلاں کی سو باتوں سے بہتر ہے۔[2]؎   

    سوال کی مذمّت میں وارد ایک اور حدیث شریف :

عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ :  سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِيْ، ثُمَّ سَأَلْتُہُ فَأَعْطَانِيْ، ثُمَّ سَأَلْتُہُ فَأَعْطَانِيْ، ثُمَّ قَالَ :  ’’یَا حَکِیْمُ، ھٰذَا الْمَالُ خَضِرٌ حُلْوٌ، فَمَنْ أَخَذَہُ بِسَخَاوَۃِ نَفْسٍ بُوْرِکَ لَہُ فِیْہِ، وَمَنْ أَخَذَہُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ یُبَارَکْ لَہُ فِیْہِ، وَکَانَ کَالَّذِيْ یَأْکُلُ وَلَا یَشْبَعُ، وَالْیَدُ العُلْیَا خَیْرٌ مِّنَ الْیَدِ السُّفْلٰی‘‘۔ قَالَ حَکِیْمٌ فَقُلْتُ :  یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَالَّذِيْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَداً بَعْدَکَ شَیْئاً حَتّٰی أُفَارِقَ الدُّنْیَا، فَکَانَ أَبُوْ بَکْرٍرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ یَدْعُوْ حَکِیْماً لِیُعْطِیْہِ الْعَطَائَ، فَیَأْبٰی أَنْ یَّقْبَلَ مِنْہُ شَیْئاً، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ

حضرت حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں :  میں نے رسول  اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے مانگا حضور نے دیا میں نے پھر مانگا حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مجھے اور دیا میں نے پھر مانگا حضور نے پھر دیا، پھر مجھ سے فرمایا :  اے حکیم! یہ مال خوش نما خوش ذائقہ ہے جو اسے دلی لاپرواہی سے لے گا اس کیلئے اس میں برکت ہوگی اور جو اسے نفسانی طمع سے لے گا اس کیلئے اس میں برکت نہ ہوگی اور وہ اس کی طرح ہوگا جو کھائے اور سیر نہ ہو، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، حضرت حکیم فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی :  یارسول  اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا کہ میں آپ کے سوا کسی سے کچھ نہ مانگوں گا حتی کہ دنیا چھوڑ دوں ۔حضرتِ ابو بکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُآپ کو (اپنے دورِ خلافت میں ) عطیہ   

دَعَاہُ لِیُعْطِیَہُ فَأَبٰی أَنْ یَّقْبَلَہُ، فَقَالَ :  یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ :  أُشْھِدُکُمْ عَلٰی حَکِیْمٍ أَنِّيْ أَعْرِضُ عَلَیْہِ حَقَّہُ الَّذِيْ قَسَمَ اللّٰہُ لَہُ فِيْ ھٰذَا الْفَيْئِ، فَیَأْبٰی أَنْ یَّأْخُذَہُ، وَلَمْ یَرْزَأْ حَکِیْمٌ أَحَداً مِنَ النَّاسِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی تُوُفِّيَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ۔[3]؎

دینے کے لئے بلاتے تو آپ کچھ بھی  قبول کرنے سے انکار کرتے پھر عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے(اپنے دور خلافت میں ) آپ کو عطیہ دینے کے لئیبلایا تو آپ نے لینے سے انکار کردیا۔  حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا :  اے مسلمانوں کی جماعت! میں تمہیں حکیم کے بارے میں گواہ بناتا ہوں کہ میں ا ن کو ان کا وہ حق پیش کرتا ہوں جو  اللہ   تَعَالٰی  نے غنیمت سے ان کا حصہ مقرر فرمایا ہے تو آپ اسے لینے سے انکار کرتے ہیں ۔حضرت حکیم نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعد کسی سے کچھ نہ مانگا حتی کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُدنیا سے رخصت ہوگئے۔

        حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں لوگ مانگنے کو عیب نہ سمجھتے تھے بلا ضرورت بھی دست سوال دراز کرتے تھے، نو مسلم حضرات اسی عادت کے مطابق اولاً مانگتے تھے، نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاکثر انہیں دے کر سوال سے منع فرماتے تھے۔   

        مزید فرماتے ہیں کہ لاپرواہی سے مراد طمع اور ہوس کا مقابل ہے، یعنی جو مال لے تو لیکن صبر و قناعت کے ساتھ کہ ناجائز کی طرف نظر نہ اُٹھائے اور جائز مال کی بھی ہوس نہ ہو تو اگرچہ اس کے پاس مال تھوڑا ہو مگر برکت ہوگی، کیونکہ اس میں  اللہ  رسول کی رضا شامل ہوگی، خیال رہے کہ مال کی زیادتی اور ہے، برکت کچھ اور، زیادتی مال کبھی ہلاک کردیتی ہے مگر برکت مال دین و دنیا میں رب  تَعَالٰی  کی رحمت ہوتی ہے برکت والا تھوڑا پانی پیاس بجھادیتا ہے، بہت سا پانی ڈبو دیتا ہے دیکھو طالوت کے جن ساتھیوں نے نہر سے ایک چُلّو پانی پر قناعت کی، وہ کامیاب رہے اور بہت سا پینے



3     (المصنف لابن أبي شیبۃ، کتاب الزھد، ما ذکر عن نبیناصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم في الزھد، الحدیث : ۳۴۳۳۹، ج۷، ص۱۰۲)

1       (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، الآثار، ج۳، ص۳۲۱۔۳۲۲)

2     (صحیح البخاري، کتاب الزکاۃ، باب الاستعفاف عن المسألۃ، الحدیث : ۱۴۷۲، ج۱، ص۳۶۲)

(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب بیان أن الید العلیا خیر من الیدالسفلی۔۔۔إلخ، الحدیث : ۱۰۳۵، ص۳۷۱)

(سنن الترمذي، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، ۲۹باب، الحدیث : ۲۴۶۳، ج۳، ص۳۶۶)

(سنن النسائي، کتاب الزکاۃ، باب مسألۃ الرجل في أمر لابد لہ منہ، الحدیث : ۲۶۰۱، ج۳، الجزئ۵، ص۱۰۶)

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہ، الحدیث : ۱۸۴۲، ج۱، ص۳۵۰)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن