30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے، فرماتے ہیں : خاتم المرسلین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراج السالکین، محبوب رب العٰلمین، جناب صادق و امینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : جو لوگوں سے مانگے حالانکہ اسکے پاس اتنا ہے جو اسے بے پرواہ کردے تو قیامت میں اس طرح آئیگا کہ اسکے سوال اس کے چہرے میں کُھرچن یا خارش یا زخم ہونگے، عرض کیا گیا : یارسول اللہ ! قدرِ غنا کیا ہے؟ فرمایا : پچاس درہم یا اس قیمت کا سونا۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : یعنی اس کے پاس روز مرہ کی ضروریات کھانا کپڑا ہے اور کوئی خاص ضرورت درپیش نہیں ۔
مزید فرماتے ہیں : ظاہر یہ ہے کہ تینوں ہی الفاظ اَوْ کے ساتھ حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہی کے ہیں ، راوی کا شک نہیں اور ان تینوں کے الگ الگ معنی ہیں ، ہر دوسرے لفظ میں پہلے سے ترقی زیادہ ہے، جیسا کہ ہم نے ترجمہ میں ظاہر کردیا، چونکہ بے ضرورت بھکاری تین قسم کے تھے معمولی کبھی کبھی مانگ لینے والے، اور ہمیشہ کے بھکاری، ضدی ہٹ دھرم بھکاری، اسی لئے ان کے چہروں کے آثار بھی تین طرح کے ہوئے جیسی بھیک ویسا اُس کا اثر لہٰذا اَوْ تقسیم کے لئے ہے شک کے لئے نہیں ۔
خیال رہے کہ جس نصاب سے سوال حرام ہوتا ہے اُس کی مقداریں مختلف آئی ہیں ، یہاں تو پچاس درہم یعنی قریباً ساڑھے بارہ روپے ارشاد ہوئے، [1]؎ دوسری روایت میں ایک اوقیہ ارشاد ہوا یعنی چالیس درہم، تیسری روایت میں دن رات کا کھانا ارشاد ہوا، لہٰذا بعض شارحین نے ان دونوں حدیثوں کو دن رات کے کھانے والی حدیث سے منسوخ مانا، لیکن چونکہ ہر شخص کی حاجت مختلف ہوتی ہے، بڑے کنبے والے کا روزانہ خرچ زیادہ ہوتا ہے درمیانی کنبے والے کا درمیانہ اور اکیلے آدمی کا خرچہ بھی بہت معمولی، سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے یہ تین ارشاد تین قسم کے لوگوں کے لحاظ سے ہیں ، جیسا موقعہ اور جیسا مسئلہ پوچھنے والا ویسا حضور انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا جواب، حکیم کی ہر بات حکمت سے ہوتی ہے، لہٰذا حدیث میں تعارض نہیں ، اور ممکن ہے کہ حرمت سوال کا حکم تدریجاً آہستگی سے وارد ہوا ہو، اولاً پچاس درہم والوں کو روکا گیا ہو، پھر چالیس والوں کو آخر میں دن رات کے کھانے پر قدرت رکھنے والے کو، جیسے شراب کا حال ہوا، کیونکہ اہل عرب سوال کے عادی تھے، ایکدم سوال چھوڑ نہ سکتے تھے اس لئے یہ ترتیب برتی گئی۔[2]؎
اپنی حاجات عام لوگوں کے بجائے رب تَعَالٰی کی بارگاہ میں عرض کرنے سے اللہ تَعَالٰی جلد غِنَاء عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ :
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’مَنْ أَصَابَتْہُ فَاقَۃٌ فَأَنْزَلَھَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُہُ۔ وَمَنْ أَنْزَلَھَا بِاللّٰہِ، أَوْشَکَ اللّٰہُ لَہُ بِالْغِنٰی، إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ، أَوْ غِنًی آجِلٍ‘‘۔[3]؎
حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے، فرماتے ہیں : تاجداررسالت، شہنشاہ نبوت، مخزنِ جودو سخاوت، پیکر عظمت و شرافت، محبوب ر ب العزت محسن انسانیتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : جسے فاقہ پہنچا اور اس نے لوگوں کے سامنے بیان کیا تو اس کا فاقہ بند نہ کیا جائے گا اوراگراس نے اللہ سے عرض کی تو اللہ جلد اسے بے نیاز کردیگا خواہ جلدموت سے یا آئندہ غنا سے۔
اس حدیث کی شرح میں حکیم الامت فرماتے ہیں : یعنی اپنی غریبی کی شکایت لوگوں سے کرتا پھرے اور بے صبری ظاہر کرے اور لوگوں کو اپنا حاجت روا جان کر ان سے مانگنا شروع کردے تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ اُسے مانگنے کی عادت پڑجائے گی، جس میں برکت نہ ہوگی اور ہمیشہ فقیر ہی رہے گا۔
آپ مزید فرماتے ہیں : جو اپنا فاقہ لوگوں سے چھپائے رب تَعَالٰی کی بارگاہ میں دعائیں مانگے اور حلال پیشہ میں کوشش کرے تو رب تَعَالٰی اُسے مانگنے کی ضرورت ڈالے گا ہی نہیں ، اگر اس کے نصیب میں دولت مندی نہیں ہے تو اُسے ایمان پر موت نصیب کرکے جنت کی نعمتیں عطا فرمائیگا اور اگر دولت مندی نصیب میں ہے تو وہ جلدی نہ سہی دیر سے ہی عطا فرمادے گا کہ اسکی کمائی میں برکت دیگا۔ [4]؎
زیادتی ٔمال کی حرص میں بھیک مانگنا حقیقتاً جہنم کے انگارے جمع کرنا ہے، چنانچہ :
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’مَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِیُثْرِيَ مَالَہُ، فَإِنَّمَا ھِيَ رَضْفٌ مِّنَ النَّارِ مُلْھَبَۃٌ فَمَنْ شَائَ فَلْیُقِلَّ، وَمَنْ شَائَ فَلْیُکْثِرْ‘‘۔[5]؎
حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں : سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : جو شخص لوگوں سے سوال کرے اس لئے کہ اپنے مال کو بڑھائے تووہ جہنم کا گرم پتھر ہے، اب اسے اختیار ہے چاہے کم مانگے یا زیادہ ۔
قناعت کی عظمت اور سوال کی مذمّت میں ایک اور حدیث شریف :
عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : جَائَ مَالٌ مِنَ الْبَحْرَیْنِ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَبَّاسَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فَحَفَنَ لَہُ، ثُمَّ
1 یہ تخمینہ سیدی حکیم الأمت کے زمانے کا ہے قاری پچاس درہم کا تخمینہ 13.125 تولہ چاندی کی قیمت سے اعتبار کرے۔ (مؤلف)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع