30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شخص پیش کئے گئے جو پہلے جنت میں جائیں گے اور وہ تین بھی جو پہلے جہنم میں جائیں گے۔وہ تین جو پہلے جنت میں جائیں گے ان میں ایک شہید ہے، دوسرا وہ غلام جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حق ادا کرے اور اپنے آقا کے لئے مخلص ہو اور وہ محتاج عیال دارجو سوال سے پرہیز کرے اوروہ تین جو پہلے جہنم میں جائیں گے ان میں ایک زبردستی مسلط حاکم ہے دوسرا ایسا صاحبِ ثروت جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہ کرے اور تیسرا فاجر فقیر۔
کسی دانا نے فرمایا کہ میں نے سب سے زیادہ غمگین حاسدوں کو پایا اور سب سے خوشحال اس شخص کو پایا جو زیادہ قناعت کرتا ہے اور خواہشات والی چیزوں پر صبر کرتا ہے۔ جو شخص تارک الدنیا ہو اس کی زندگی آسانی سے گزرتی ہے اور جو عالِم زیادہ کوتاہی کرتا ہے اسے ندامت زیادہ ہوتی ہے۔[1]؎
ایک اور حدیث شریف :
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ، وَذَکَرَ الصَّدَقَۃَ، وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَۃِ : ’’اَلْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِّنَ الْیَدِ السُّفْلٰی، وَالْعُلْیَا ھِيَ الْمُنْفِقَۃُ، وَالسُّفْلٰی ھِيَ السَّائِلَۃُ‘‘۔[2]؎
حضرت عبد اللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے، کہ نبی مکرم، نورمجسم، رسول اکرم، شہنشا ہ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ منبر پر تشریف فرما تھے، صدقہ کااور مانگنے سے باز رہنے کا ذکر فرمارہے تھے یہ فرمایاکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔
حضرت عبد الواحد بن زید رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں ایک راہب کے پاس سے گزرا تو میں نے پوچھا : آپ کہاں سے کھاتے ہیں ؟ اس نے کہا : مہربان خبر رکھنے والے ( اللہ تَعَالٰی ) کی گندم کے ڈھیر سے کھاتا ہوں جس نے چکی یعنی میرے دانتبنائے ہیں وہی پسا ہوا دے دیتا ہے۔ وہ قادر خبر رکھنے والا پاک ہے۔[3]؎
ایک اور حدیث شریف :
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’الْأَیْدِي ثَلَاثَۃُ أَیْدٍ فَیَدُ اللّٰہِ الْعُلْیَا وَیَدُ الْمُعْطِي الَّتِيْ تَلِیْھَا وَیَدُ السَّائِلِ أَسْفَلُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَاسْتَعِفُّوْا مِنَ السُّؤَالِ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَمَنْ أَعْطَاہُ اللّٰہُ خَیْراً فَلْیُرَ عَلَیْہِ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ، وَارْتَضِخْ مِنَ الْفَضْلِ، وَلَا تُلَامُ عَلَی کَفَافٍ وَلَا تَعْجِزْ عَنْ نَفْسِکَ‘‘۔[4]؎
حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں : شہنشاہ مدینہ، قرارقلب و سینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ہاتھ تین ہیں ایک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ہاتھ ہے جو سب سے اوپر ہے ، اور دوسرا دینے والے کا ہاتھ ہے جو اس کے نزدیک ہے اور تیسرا مانگنے والے کا ہاتھ ہے جو قیامت تک سب سے نیچے ہے لہذا جس قدر ممکن ہو سوال کرنے سے بچو اور جسے اللہ تَعَالٰی کوئی نعمت عطا کرے تو چاہیے کہ وہ اس پر نظر بھی آئے اور (خرچ کرنے میں ) ان سے شروع کر جو تیری پرورش میں ہیں اور اپنی ضرورت سے زائد مال میں سے صدقہ کر، بقدر ضرورت روکنے پر ملامت نہیں اور خود کو محروم نہ رکھو۔
ایک اور حدیث شریف :
عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
حضرت حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں : نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو برصلی وَسَلَّمَ : ’’الْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ، وَخَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَھْرِ غِنًی، وَمَنْ یَسْتَعْفِفْ یُعِفُّہُ اللّٰہُ، وَمَنْ یَسْتَغْنِ یُغْنِہِ اللّٰہُ‘‘۔[5]؎
اللہ تَعَالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور ان سے ابتداء کر جو تیری پرورش میں ہیں اور اچھا صدقہ وہ ہے جس کے بعدتونگری باقی رہے اور جو سوال سے بچنا چاہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے بچا لے گا اور جو غنی بننا چاہے اللہ اسے غنی کردے گا۔
سوال کی مذمت میں ایک اور حدیث شریف :
عَنِ أَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ أُنَاساً مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاھُمْ، ثُمَّ سَأَلُوْہُ فَأَعْطَاھُمْ، ثُمَّ سَأَلُوْہُ فَأَعْطَاھُمْ، حَتّٰی إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَہُ قَالَ : ’’مَا یَکُوْنُ عِنْدِيْ مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَہُ عَنْکُمْ، وَمَنِ اسْتَعَفَّ یُعِفَّہُ اللّٰہُ، وَمَنْ یَّسْتَغْنِ یُغْنِہِ اللّٰہُ، وَمَنْ یَّتَصَبَّرْ یُصَبِّرْہُ اللّٰہُ، وَمَا
حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ کچھ انصاری لوگوں نے حضور پاک، صاحب لولاک، سیاح افلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے سوال کیاحضور نے انہیں دیا انہوں نے پھر مانگاحضور نے عطافرمایا پھر انہوں نے مانگا حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے عطا فرمایا حتی کہ وہ مال جو آپ کے پاس تھا ختم ہوگیا، آپ نے فرمایا : جو کچھ مال میرے پاس ہوگا وہ تم سے ہرگز بچا نہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع