30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس حدیث کے دو معنی ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ جو عامل زکوٰۃ وصول کرنے میں زیادتی کرے کہ یا زیادہ لے یا بہترین مال لے، وہ ایسا ہی گنہگار ہے جیسے زکوٰۃ نہ دینے والا، یا جو مالک زکوٰۃ دینے میں زیادتی کرے کہ یا تو کم دینے کی کوشش کرے یا ناقص یا ٹال مٹول کرے وہ ایسا ہی گنہگار ہے جیسے زکوٰۃ نہ دینے والا، علماء فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ خوش دلی سے دو، اسےعبادت سمجھو ٹیکس نہ سمجھو، مستحق کو دو، جان بوجھ کر غیر مستحق کو نہ دو، دے کر احسان نہ جتاؤ اگر اپنے عزیز فقیر کو دی ہے تو اسے طعنہ نہ دو بلکہ اس کا ذکر کبھی بھی نہ کرو کہ ان سے صدقہ باطل ہوجاتا ہے، ربّ تَعَالٰی فرماتا ہے : (لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ ) ((البقرۃ : ۲/۲۶۴) ترجمہ : اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر (کنزالایمان)) اور یہ سب حد سے بڑھنے میں داخل ہیں ۔[1]؎
مسجد سے محبت کی فضیلت
حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُروایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان الفت نشان ہے : ’’جومسجد سے الفت (محبت) رکھتا ہے اللہ تَعَالٰی اس سے الفت رکھتاہے۔‘‘
(طبرانی اوسط، حدیث۲۳۷۹)
حضرت علامہ عبدالرؤف مناوی علیہ رحمۃ اللہ القوی اس کی شرح میں لکھتے ہیں : ’’مسجد سے الفت، رضائے الٰہی کیلئے اس میں اعتکاف، نماز، ذکر اللہ ، اور شرعی مسائل سیکھنے سکھانے کیلئے بیٹھے رہنے کی عادت بناناہے۔ اور اللہ تَعَالٰی کا اس بندے سے محبت کرنا اس طرح ہے کہ اللہ تَعَالٰی اس کو اپنے سایۂ رحمت میں جگہ عطا فرماتا اوراس کو اپنی حفاظت میں داخل فرماتا ہے۔‘‘ (فیض القدیر، ج۶، ص۱۰۷)
سلطان مدینہ، قرار قلب و سینہ، فیض گنجینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان با قرینہ ہے : ’’مسجدوں کو بچوں اور پاگلوں اور خرید و فروخت اور جھگڑے اور آواز بلند کرنے اور حدود قائم کرنے اور تلوار کھینچنے سے بچاؤ۔‘‘ (ابن ماجہ، ج۱، ص۴۵۱حدیث۷۵۰)
قناعت کی عظمت اور سوال کی مذمّت
امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں : جان لو کہ فقر قابلِ تعریف ہے لیکن فقیر کو چاہئے کہ وہ قناعت کرنے والا، لوگوں سے لالچ نہ رکھنے والا، ان کے اموال پر نظرنہ رکھنے والا ہو اور نہ ہی مال کمانے پر حریص ہو کہ چاہے جس طرح بھی حاصل ہو۔ یہ اُسی وقت ممکن ہے جبکہ وہ کھانے، پہننے اور رہنے میں بقدرِ ضرورت پر قناعت کرے۔[2]؎
حدیث شریف میں ہے :
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’لَا تَزَالُ الْمَسْأَلَۃُ بِأَحَدِکُمْ حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ تَعَالٰی، وَلَیْسَ فِيْ وَجْھِہِ مُزْعَۃُ لَحْمٍ‘‘۔[3]؎
حضرت عبد اللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہنور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو برصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : آدمی سوال کرتارہے گا یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا کوئی ٹکڑا نہ ہوگا۔
اسی طرح ایک حدیث شریف میں سوال یعنی مانگنے کو سائل کے چہرے پر خراشوں کا سبب فرمایا گیا ہے، چنانچہ :
عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’إِنَّ الْمَسَائِلَ کُدُوْحٌ یَکْدَحُ بِھَا الرَّجُلُ وَجْھَہُ، فَمَنْ شَائَ أَبْقٰی عَلٰی وَجْھِہِ، وَمَنْ شَائَ تَرَکَ إِلَّا أَنْ یَّسْأَلَ ذَا سُلْطَانٍ، أَوْ فِيْ أَمْرٍ لَا یَجِدُ مِنْہُ بُدّاً‘‘۔[4]؎
حضرت سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : بے شک سوالات خراشیں ہیں کہ آدمی سوال کرکے اپنے منہ کو نوچتا ہے تو جو چاہے اپنے چہرہ پر اسے باقی رکھے اور جو چاہے چھوڑدے مگر یہ کہ آدمی صاحبِ سلطنت سے اپنا حق مانگے یا اُس صورت میں مانگے کہ اس کے سوا چارئہ کار نہ ہو۔
ایک اور حدیث شریف میں ہے :
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : ’’الْمَسأَلَۃُ کُدُوْحٌ فِيْ وَجْہِ صَاحِبِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَمَنْ شَائَ فالْیَسْتَبْقِ عَلٰی وَجْھِہِ‘‘۔[5]؎ الحدیث۔
حضرت عبد اللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو فرماتے سُنا : مانگنا بروزِ قیامت منگتے کے چہرے پر خراشیں ثابت ہوگا، تو جو چاہے اپنے چہرہ پر اسے باقی رکھے۔
مانگنے والے کا چہرہ بھی بگڑ جاتا ہے، چنانچہ :
عَنْ مَسْعُوْدِ بْنِ عَمْرٍورَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ’’لَا یَزَالُ الْعَبْدُ یَسْأَلُ وَھُوَ غَنِيٌّ حَتّٰی یَخْلَقَ وَجْھُہُ فَمَا یَکُوْنُ لَہُ عِنْدَ اللّٰہِ وَجْہٌ‘‘۔[6]؎
1 (إحیاء علوم الدین، کتاب ذم البخل وذم حب المال، بیان ذم الحرص والطمع ومدح القناعۃ والیأس مما في أیدي الناس، ج۳، ص۳۱۸)
2 (صحیح البخاري، کتاب الزکاۃ، باب من سأل الناسَ تکثّراً، الحدیث : ۱۴۷۴، ج۱، ص۳۶۳)
(صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب کراھۃ المسألۃ للناس، الحدیث : ۱۰۴۰، ص۳۷۲)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع