30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہسرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے انہیں صدقات کی وصولیابی کے لئے بھیجا تو فرمایا : اے ابو ولید! اللہ سے ڈر، قیامت کے دن یوں نہ آنا کہ تم بلبلاتا ہوا اونٹ یا چیختی ہوئی گائے یا ممیاتی ہوئی بکری اٹھائے ہوئے ہو، انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ معاملہ ایساہی ہے؟ فرمایا : ہاں ! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ، عرض کی : توقسم ہے اس ذاتِ پاک کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں کبھی کسی چیز کا عامل نہ بنوں گا۔
ایک اور حدیث شریف :
عَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَیْرَۃَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : ’’مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ مِنْکُمْ عَلٰی عَمَلٍ فَکَتَمَنَا مِخْیَطاً فَمَا فَوْقَہُ کَانَ غُلُوْلاً یَأْتِيْ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘‘۔ فَقَامَ إِلَیْہِرَجُلٌ أَسْوَدُ مِنَ الْأَنْصَارِ کَأَنِّيْ أَنْظُرُ إِلَیْہِ، فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِقْبَلْ عَنِّيْ عَمَلَکَ قَالَ : ’’وَمَا لَکَ‘‘؟ قَالَ : سَمِعْتُکَ تَقُوْلُ کَذَا وَکَذَا۔ قَالَ : ’’وَأَنَا أَقُوْلُ الْآنَ : مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ مِنْکُمْ عَلٰی عَمَلٍ فَلْیَجِئُ بِقَلِیْلِہِ وَکَثِیْرِہِ، فَمَا أُوْتِيَ مِنْہُ أَخَذَ وَمَا نُھِيَ عَنْہُ انْتَھٰی‘‘۔[1]؎
حضرت عدی بن عمیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں : آقائے مظلوم، سرورمعصوم، حسن اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : ہم تم میں سے جسے کسی کام پر عامل بنائیں پھر وہ ہم سے سُوئی یا اس سے بھی کمتر چیز چھپالے تو یہ خیانت ہے، جسے قیامت کے دن لائیگا۔تو آپ کی بارگاہ میں ایک حبشی انصاری شخص کھڑے ہوئے راوی کہتے ہیں : گویا کہ میں اُن کی جانب دیکھ رہا ہوں اورعرض کرنے لگے : یارسول اللہ !آپ مجھ سے اپنا کام واپس قبول فرما لیجئے ، نبی مکرم، نورمجسم، رسول اکرم، شہنشا ہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : کیا ہوا؟ عرض کی : میں نے آپ کواس اس طرح فرماتے سُنا۔آپ نے فرمایا : میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ جسے ہم کسی کام پرعامل بنائیں تو وہ قلیل وکثیر ہماری بارگاہ میں لے کر حاضر ہو اورپھر اس میں سے جو اسے دیا جائے وہ لے اور جس سے منع کیا جائے اس سے باز رہے۔
اس حدیث کی شرح میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : یعنی خیانت چھوٹی ہو یا بڑی قیامت میں سزا اور رسوائی کا باعث ہے خصوصاً جو خیانت زکوٰۃ وغیرہ میں کی جائے کیونکہ یہ عبادت میں خیانت ہے اور اس میں اللہ کا حق مارنا ہے اور فقیروں کو اُن کے حق سے محروم کرنا، رب تَعَالٰی فرماتا ہے :
(وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ ) ((آل عمران : ۳/۱۶۱)
ترجمہ : اور جو چھپا رکھے وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی چیز لے کر آئے گا (کنزالایمان)) ۔[2]؎
ایک اور حدیث شریف :
عَنْ أَبِيْ حُمَیْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُقَالَ : اِسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلاً مِنَ الْأَزْدِ یُقَالُ لَہُ اِبْنُ اللُّتْبِیَّۃِ عَلَی الصَّدَقَۃِ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ : ھٰذَا لَکُمْ وَھٰذَا أُھْدِيَ لِيْ۔ فَخَطَبَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ : ’’أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّيْ أَسْتَعْمِلُ رِجَالًا مِنْکُمْ عَلَی أُمُوْرٍ مِمَّا وَلَّانِيَ اللّٰہُ فَیَأْتِيْ أَحَدُہُمْ
حضرت ابو حمید ساعدی سے مروی ہے، فرماتے ہیں : شہنشاہ مدینہ، قرارقلب و سینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو جنہیں ابن لتبیہ کہا جاتا تھا صدقہ پر عامل بنایا، جب وہ واپس آئے تو بولے : یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیۃً دیا گیا، تب نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خطبہ دیا اللہ کی حمد وثناء کی پھر فرمایا : حمد وثناء کے بعد سنو! کہ ہم تم میں سے بعض کو ان چیزوں پر عامل بناتے
فَیَقُوْلُ : ھٰذَا لَکُمْ، وَھٰذِہِ ہَدْیَۃٌ أُھْدِیَتْ لِيْ، فَہََلَّا جَلَسَ فِيْ بَیْتِ أَبِیْہِ أَوْ بَیْتِ أُمِّہِ فَیَنْظُرُ أَیُہْدَی لَہُ أَمْ لَا ؟ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَا یَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْہُ شَیْئًا إِلَّا جَائَ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَحْمِلُہُ عَلیٰ رَقَبَتِہِ إِنْ کَانَ بَعِیْرًا لَہُ رُغَائٌ أَوْ بَقَرًا لَہُ خُوَارٌ أَوْ شَاۃً تَیْعَرُ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی رَأَیْنَا عُفْرَتَیْ إِبْطَیْہِ ثُمَّ قَالَ اَللّٰہُمَّ ہَلْ بَلَّغْتُ اَللّٰہُمَّ ہَلْ بَلَّغْتُ‘‘۔[3]؎
ہیں جن کا اللہ تَعَالٰی نے ہمیں والی بنایا تو ان میں سے بعض آکر کہتے ہیں کہ یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیہ نذرانہ دیا گیا تو وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہ بیٹھ رہا؟ پھر دیکھتا کہ اُسے نذرانہ ملتا ہے یا نہیں ، اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کوئی شخص اس میں سے کچھ نہ لے گا مگر قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے لائے گا اگر اُونٹ ہے تو وہ بلبلاتا ہوگایا گائے ہے تو وہ چیختی ہوگی یا بکری کہ ممیاتی ہوگی۔ پھر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے ہاتھ اُٹھائے حتی کہ ہم نے حضور کی بغلوں کی سفیدی دیکھی پھر عرض کیا الٰہی!کیا میں نے تبلیغ کردی اے مولیٰ کیا میں نے تبلیغ کردی۔
’’یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے‘‘اس کے تحت حکیم الامت فرماتے ہیں : یعنی ان کے پاس وصول کردہ زکوٰۃ سے زیادہ مال تھا جو زکوٰۃ دینے والوں نے انہیں بطور ہدیہ علاوہ زکوٰۃ دیا تھا، یہ ان صحابی کی انتہائی دیانتداری ہے کہ اس ہدیہ کو گھر نہ رکھ گئے سب کچھ بارگاہ شریف میں پیش کردیا اور اصل واقعہ بیان کردیا۔
’’اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا پھر دیکھتا اُسے نذرانہ ملتا ہے یا نہیں ‘‘ اس کے تحت حکیم الامت فرماتے ہیں : یعنی یہ نذرانہ نہیں ہے بلکہ رشوت ہے کہ اس کے ذریعہ صاحب نصاب
1 (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب تحریم ھدایا العمّال، الحدیث : ۱۸۳۳، ص۷۳۵)
(مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، الفصل الأول، الحدیث : ۱۷۸۰، ج۱، ص۳۳۸)
3 (صحیح البخاري، کتاب الھبۃ وفضلھا والتحریض علیھا، باب من لم یقبل الھدیۃ لعلۃ، الحدیث : ۲۵۹۷، ج۲، ص۱۵۴۔۱۵۵)
(صحیح مسلم، کتاب الإمارۃ، باب تحریم ھدایا العمال، الحدیث : ۱۸۳۲، ص۷۳۴۔۷۳۵)
(سنن أبي داود، کتاب الخراج والإمارۃ والفيئ، باب في ہدایا العمال، الحدیث : ۲۹۴۶، ج۳، ص۲۳۹)
(مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، الفصل الأول، الحدیث : ۱۷۷۹، ج۱، ص۳۳۸)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع