دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ )‘‘ [1]؎ ((البقرۃ : ۲/۲۷۶) ترجمہ :   اللہ  ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو (کنزالایمان))۔

        حرام مال سے چاہے کتنا ہی صدقہ خیرات کرلے بے سود ہے اور بجائے موجبِ ثواب کے باعثِ وبال ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے :     

عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُقَالَ :  قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم :  ’’مَنْ جَمَعَ مَالاً حَرَاماً، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِہِ لَمْ یَکُنْ لَہُ فِیْہِ أَجْرٌ، وَکَانَ إِصْرُہُ عَلَیْہِ‘‘۔[2]؎

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں :  حضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  جو حرام مال جمع کرے پھر اس سے صدقہ دے تو اس میں اس کے لئے کوئی اجر نہیں اور اس کا وبال اسی پر ہوگا۔

        مال حرام سے صدقہ کرنے کے بارے میں اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا شاہ احمدرضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاویٰ رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں :

        فتاویٰ ظہیریہ میں ہے :

        رجل دفع الی فقیر من المال الحرام شیئا یرجوا بہ الثواب یکفر( کسی شخص نے فقیر کو حرام مال میں سے کچھ دیا اور اس پر ثواب کی امید رکھی تو کافر ہو جائے گا۔)

          اقول وباللّٰہ التوفیق، (میں  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی توفیق سے کہتا ہوں ) تحقیق مقام یہ ہے کہ اگر اس نے اس مالِ حرام کو اپنی ملک خاص جان کر بطور تبرع تصدق کیاجیسے مسلمان اپنے پاکیزہ مال کو بہ نیت نفل وتطوع تقربا الی  اللہ صدقہ کرتا اور اس پر اپنے رب کریم سے امید ِثواب رکھتا ہے کہ بے ایجابِ شرع اس نے اپنی خوشی سے اپنے پاک مال کا حصہ اپنے رب کی رضا کے لیے صرف کیا، جب تو یہ تصرف حکمِ شرع سے جدااور یہ خیال شرع مطہر کے خلاف ہے ، اور اس پر ہرگز اس کے لیے ثواب نہیں اسی کی بعض صورتوں میں فقہاء نے حکم تکفیر کیا ، اور اگر یوں نہ تھا بلکہ اس مال کو خبیث و ناپاک ہی جانا اور اپنے گناہ پر نادم ہو کر تائب ہوا اور بحکم شرع اپنے تصرف میں لانا ناجائز سمجھا اور اپنے نفس کو اس میں تصرف سے روکا اور ازاں جا کہ اس کے ارباب معلوم نہ رہے بجاآوری حکم شرع کے لیے اسے تصدق کیا اور اسی بجا آوری فرمان پر امیدوار ثواب ہوا تو بے شک اس میں اصلاً حرج نہیں بلکہ اسی کا اسے شرعا حکم تھا اور اس تصدق پر اگرچہ ثواب صدقہ نہیں مگر اس امتثال حکم کا ثواب بے شک ہے بلکہ یہ فعل اس کی توبہ کا تتمہ ہے اور توبہ قطعاً موجب رضائے الٰہی وثواب اخروی ہے۔[3]؎

دعوتِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلوں میں سفر اور روزانہ فکر ِمدینہ کے ذریعے مدنی انعامات کا کارڈ پر کر کے ہر مدنی ماہ کے ابتدائی دس دن کے اندر اندر اپنے یہاں کے ذمہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے، اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کی برکت سے پابند سنت بننے، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لیے کڑھنے کا ذہن بنے گا۔   

صدقہ دے کر رجوع کرنا کیسا ہے؟

        صدقہ دے کر واپس لینا نہایت ہی قبیح و ناپسندیدہ ہے ، حدیث شریف میں ایسا کرنے والے کواس کتے سے تشبیہ دی گئی جو قے کرکے چاٹ لے، چنانچہ :

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ :  حَمَلْتُ عَلٰی فَرَسٍ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَأَضَاعَہُ الَّذِيْ کَانَ عِنْدَہُ، فَأَرَدْتُّ أَنْ أَشْتَرِیَہُ، وَظَنَنْتُ أَنَّہُ یَبِیْعُہُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : ’’لَا تَشْتَرِہِ وَلَا تَعُدْ فِيْ صَدَقَتِکَ وَإِنْ أَعْطَاکَہُ بِدِرْھَمٍ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِيْ صَدَقَتِہِ کَالْکَلْبِ الَّذِيْ یَعُوْدُ فِيْ قَیْئِہِ‘‘۔[4]؎

حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں :  میں نے کسی کو  اللہ  کی راہ میں گھوڑا دیا، جس کے پاس وہ گھوڑا تھا اس نے اسے برباد کردیا، میں نے چاہا کہ گھوڑا خریدلوں میرا خیال تھا کہ سستا بیچ دے گا، میں نے سید المبلغین، رحمۃللعالمینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے پوچھا آپ نے فرمایا :  اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو اگرچہ تمہیں ایک درہم میں دے دے کیونکہ اپنے صدقے میں رجوع کرنے والا اس کتے کی طرح ہوتا ہے جو قے کرکے چاٹ لے۔   

        اپنا صدقہ واپس نہ لو اگرچہ تمہیں ایک درہم میں دے دے‘‘ اس کے تحت حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس جملہ کی بناپر بعض علماء فرماتے ہیں کہ اپنے دئیے ہوئے صدقہ کا خریدنا حرام ہے، مگر حق یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی ہے، اور کراہت کی وجہ بھی یہ ہے کہ اس موقعہ پر فقیر صدقہ دینے والے کی گذشتہ مہربانی کا خیال کرتے ہوئے اسے سستا دے دے گا اور یہ قیمت کی کمی صدقہ کی واپسی ہے، مثلاً اگر سو روپیہ کا مال اُس نے اسّی میں دے دیا تو گویا صدقہ دینے والے نے بیس روپیہ صدقہ کرکے واپس لے لئے۔

        ’’اپنے صدقہ میں رجوع کرنے والااس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے چاٹ لے‘‘اس کے تحت حکیم الامت رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس تشبیہ سے معلوم ہورہا ہے کہ ممانعت تنزیہی ہے کیونکہ کتے کے اپنی قے کو چاٹ لینے سے اس کا پیٹ تو بھر ہی جائے گا مگر یہ کام گھناؤنا ہے ایسے ہی اپنے صدقہ کو خرید لینے سے ملکیت تو حاصل ہو ہی جائے گی اگرچہ کام بہت بُرا ہے یہی تشبیہ ہبہ واپس لینے والے پر بھی دی گئی ہے حالانکہ ہبہ کی واپسی بالاتفاق جائز ہے اگرچہ مکروہ ہے۔[5]؎   

صدقات کی وصولیابی کے فضائل اور اس میں خیانت پر وعیدیں

        حدیث شریف میں ہے :

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُقَالَ :  سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ :  ’’اَلْعَامِلُ عَلَی الصَّدَقَۃِ بِالْحَقِّ لِوَجْہِ اللّٰہِ تَعَالٰی کَالْغَازِيْ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ  حَتّٰی یَرْجِعَ إِلٰی



3    (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج ۳، ص۹۲۔۹۳)

1  (صحیح ابن حبان، کتاب الزکاۃ، ذکر البیان بأن المال۔۔۔الخ، الحدیث : ۳۳۶۷، ج۸، ص۱۵۳)

(السنن الکبری للبیھقي، کتاب الزکاۃ، باب الدلیل علی أن من أدی فرض اللّٰہ في الزکاۃ فلیس علیہ أکثر منہ إلا أن۔۔۔إلخ، الحدیث : ۷۲۴۰، ج۴، ص۱۴۱)

2   (فتاویٰ رضویہ، کتاب الغصب، ج۱۹، ص۶۵۸)

3    (مشکاۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب من لا یعود في الصدقۃ، الحدیث : ۱۹۵۴، ج۱، ص۳۷۰)

4     (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج۳، ص۱۳۱)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن