30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ) ((البقرۃ : ۲/۱۵۲) ترجمہ : تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا (کنزالایمان)) اس ربّ کی یاد کا اثر یہ پڑتا ہے کہ مخلوق اُس بندے کو یاد کرنے لگتی ہے بزرگوں کے مزارات پر زائرین کا ہجوم وہاں ذکر اللہ کی دھوم اسی یاد کا نتیجہ ہے۔
’’ جسے عمل پیچھے کردے اُسے نسب نہیں بڑھا سکتا‘‘اس کے تحت فرماتے ہیں : یعنی نسب کی شرافت عمل کی کمی کو پورا نہ کرے گی، شعر :
بندئہ عشق شدی ترکِ نسب کن جامی ٭ کہ دریں راہ فلاں ابنِ فلاں چیزے نیست
(یعنی، عشق والا بندہ بن اے جامی! نسب کو چھوڑ دے کہ اس (عشق ) کی راہ میں فلاں بن فلاں کی کوئی حیثیت نہیں )۔
کیا تمہیں خبر نہیں کہ نوح علیہ السلام کی کشتی میں کُتے بلّوں کے لئے جگہ تھی مگر ان کے کافر بیٹے کنعان کے لئے جگہ نہ تھی مقصد یہ ہے کہ شریف النّسب اعمال سے لاپرواہ نہ ہوجائیں یہ منشا نہیں کہ شرافتِ نسب کوئی چیز ہی نہیں ۔[1]؎
ایک اور حدیث میں ہے :
عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’مَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرْبَۃً جَعَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شُعْبَتَیْنِ مِنْ نُّوْرٍ عَلٰی الصِّرَاطِ یَسْتَضِيْئُ بِضَوْئَیْھِمَا عَالَمٌ لَّا یُحْصِیْھِمْ إِلَّا رَبُّ الْعِزَّۃِ‘‘۔[2]؎
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں : نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو بر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : جو کسی مسلمان سے پریشانی دور کرے گا تو بروزِ قیامت اللہ تَعَالٰی پل صراط پر اُس کے لئے دو نور کے بُقعے روشن فرمائے گا جن کی ضیاء سے اس قدر مخلوق مستفیض ہوگی جن کی تعداد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
تنگدست کو مہلت دینے یا قرض معاف کردینے والے بروزِ قیامت اللہ تَعَالٰی کی رحمت کے سائے میں ہوں گے، چنانچہ حدیث پاک میں ہے :
عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِراً، أَوْ وَضَعَ لَہُ أَظَلَّہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّہُ‘‘۔[3]؎
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں : حضورپاک، صاحب لولاک، سیاح افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا کچھ قرض معاف کردے تو اللہ تَعَالٰی بروزِ قیامت اسے اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا کہ جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔
ایک اور حدیث شریف میں ہے :
عَنْ أَبِيْ قَتَادَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَیَقُوْلُ : ’’مَنْ نَفَّسَ عَنْ غَرِیْمِہِ أَوْ مَحٰی عَنْہُ کَانَ فِيْ ظِلِّ الْعَرْشِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘‘۔[4]؎
حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے سید المبلغین، رحمۃ للعالمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو فرماتے سُنا : جو اپنے مقروض کو مہلت دے یا قرض معاف کردے تو وہ بروزِ قیامت عرش کے سایہ میں ہوگا۔
ایک اور حدیث میں ہے :
عَنْ أَبِي الْیُسْرِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : أَشْھَدُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ : ’’إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ یَسْتَظِلُّ فِيْ ظِلِّ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَرَجُلٌ أَنْظَرَ مُعْسِراً حَتّٰی یَجِدَ شَیْئاً أَوْ تَصَدَّقَ عَلَیْہِ بِمَا یَطْلُبُہُ یَقُوْلُ : مَالِيْ عَلَیْکَ صَدَقَۃٌ ابْتِغَائَ وَجْہِ اللّٰہِ، وَیُخَرِّقُ صَحِیْفَتَہُ‘‘[5]؎
حضرت ابو یسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو فرماتے سُنا کہ بروزِ قیامت لوگوں میں سب سے پہلے اللہ کے (عرش کے)سائے میں وہ شخص پناہ لے گا جو کسی تنگدست مقروض کو مہلت دے یہاں تک کہ وہ کوئی چیز پائے (جس سے اپنا قرض ادا کرسکے)یا اپنا مطالبہ یہ کہتے ہوئے صدقہ کردے کہ یہ اللہ کی رضا کی خاطر تجھ پر صدقہ ہے اور قرض کی دستا ویز کو پھاڑ دے ۔
تنگدست پر آسانی کرنے والے کے لئے دعاؤں کی قبولیت کا مژدہ ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے :
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’مَنْ أَرَادَ أَنْ
حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے فرماتے ہیں : شہنشاہ خوش خصال، پیکر حسن وجمال، دافع رنج و ملال، صاحب جودو نوال، رسول بے مثال بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے تُسْتَجَابَ دَعْوَتُہُ وَأَنْ تُکْشَفَ کُرْبَتُہُ فَلْیُفَرِّجْ عَنْ مُعْسِرٍ‘‘۔[6]؎
فرمایا : جو چاہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے اور اس کی مشکل آسان فرمائی جائے تواس چاہیئے کہ تنگدست پر آسانی کرے۔
تنگ دست کو مہلت دینے کی فضیلت میں ایک اور روایت :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع