30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک اور حدیث شریف :
عَنْ أَسْمَائَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھَا قَالَتْ : قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، مَا لِيْ مَالٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَیْرُ أَفَأَتَصَدَّقُ؟ قَالَ : ’’تَصَدَّقِيْ، وَلَا تُوْعِيْ فَیُوْعٰی عَلَیْکِ‘‘۔[1]؎
حضرت اسماء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے فرماتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس (میرے شوہر) زبیر کے دئیے ہوئے مال کے سواء کچھ نہیں تو کیا میں صدقہ کروں ؟ فرمایا : صدقہ کر اورروک مت کہ تجھ سے روکا جائے۔
وَفِيْ رِوَایَۃٍ : أَنَّھَا جَائَتِ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم فَقَالَتْ : یَا نَبِيَّ اللّٰہِ! لَیْسَ لِيْ شَيْئٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَیْرُ، فَھَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا یُدْخِلُ عَلَيَّ؟ قَالَ : ’’اِرْضَخِيْ مَا اسْتَطَعْتِ، وَلَا تُوْعِيْ فَیُوْعِيَ اللّٰہُ عَلَیْکِ‘‘۔[2]؎
اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نبی مکرم، نورمجسم، رسول اکرم، شہنشا ہ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں حاضر ہوئیں ، عرض کی : یانبی اللہ ! زبیر کے دئیے کے سوا میرے پاس کچھ نہیں اگر میں زبیر کے دئیے ہوئے سے تھوڑا صدقہ کروں تو مجھ پر گناہ تو نہیں ؟ فرمایا : بقدرِ استطاعت خرچ کر اور روک مت کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھ سے (اپنا رزق) روکے۔
اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں صرف حلال مال قابلِ قبول ہے، اللہ تَعَالٰی اس کا ثواب پہاڑ کی مثل عطا فرماتا ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے :
عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ، وَ لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ، فَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بِیَمِیْنِہِ، ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہَا، کَمَا یُرَبِّيْ أَحَدُکُمْ فَلُوَّہُ، حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ‘‘۔[3]؎
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں : شہنشاہ مدینہ، قرارقلب و سینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا : جو حلال کمائی سے کھجور کے برابر صدقہ کرے، اور اللہ تَعَالٰی صرف حلال ہی کو قبول کرتا ہے، تو اللہ تَعَالٰی اُسے داہنے ہاتھ میں قبول کرتا ہے پھر صدقہ والے کے لیے اس کی ایسی پرورش کرتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ صدقہ پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے۔
’’کھجور کے برابر صدقہ کرے‘‘ اس کے متعلق حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : یعنی معمولی سے معمولی چیز اللہ کی راہ میں دے، عرب شریف میں کھجور معمولی چیز ہے، پھر اس کی قاش تو بہت ہی معمولی ہوئی۔
’’ اللہ تَعَالٰی صرف حلال ہی قبول فرماتا ہے‘‘اس کی شرح میں حکیم الامت فرماتے ہیں : یہ بہت ہی اہم قانون ہے کہ خیرات حلال کمائی سے کی جائے تب ہی قبول ہوگی حتی کہ حج بھی طیّب و پاک کمائی سے کرے یہاں دو قاعدے یاد رکھنا چاہئیں : ایک یہ کہ مالِ مخلوط سے اُجرت، صدقہ، دعوت وغیرہ لینا جائز ہے۔ دیکھو موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے ہاں اور حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ابو طالب کے ہاں پرورش پائی جن کا مال مخلوط تھا اگر اس مال پر حرام کے احکام جاری ہوتے تو رب تَعَالٰی اپنے ان محبوبوں کو وہاں پرورش نہ کراتا، دوسرا یہ کہ مال حرام دو قسم کا ہے ایک وہ جو انسان کی ملکیت میں آتا ہی نہیں جیسے زنا کی اُجرت، سُود کا پیسہ اور بیع باطل کے معاوضے، سُور، شراب وغیرہ کی قیمتیں ۔ دوسرا وہ کہ مالک کی ملک میں آجاتا ہے اگرچہ مالک اس کاروبار پر گنہگار ہوتا ہے جیسے بیع بالشرط وغیرہ تمام فاسد بیعوں کی قیمت اور ناجائز پیشوں (گانے بجانے، داڑھی مونڈنے وغیرہ) کی اجرت۔ پہلی قسم کا حرام کسی کے قبضہ میں پہنچے حرام ہی رہے گا کیونکہ پہلا شخص ہی اس کا مالک نہ بنا اور دوسری قسم کا حرام دوسرے کی ملک میں پہنچ کر اس کے لئے حلال ہوگا، وہ جو فقہاء فرماتے ہیں کہ جس کے پاس حرام یا مشکوک پیسہ ہو وہ دوسرے سے قرض لے کر حج یا صدقہ کرے اور اپنے مال سے وہ قرض ادا کردے اس سے مراد یہی آخری حرام ہے کیونکہ مِلک بدلنے سے حکم بدل جاتا ہے۔حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں : ’’لَھَا صَدَقَۃٌ وَلَنَا ھَدِیَۃٌ‘‘۔
حکیم الامت مزید فرماتے ہیں : داہنے ہاتھ میں قبول کرنے سے مراد راضی ہوکر قبول فرماتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ مال و نیت خیر کا صدقہ رضائے الٰہی کا باعث ہے اور وہ صدقہ کے وقت سے لے کر قیامت تک بھاری ہوتا رہے گا حتی کہ میزان میں سارے گناہوں پر غالب آجائے گا جیسے اچھی زمین میں بوئی ہوئی ادرک، آلو وغیرہ، اس حدیث کی تائید اس آیت سے ہے (یَمْحَقُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع