30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جن چیزوں کا روکنا ممنوع ہے اس بارے میں حدیث پاک میں ارشادہے :
عَنِ امْرَأَۃٍ یُقَالُ لَھَا بُھَیْسَۃُ عَنْ أَبِیْھَا قَالَتِ اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ قَمِیْصِہِ فَجَعَلَ یُقَبِّلُ وَیَلْتَزِمُ، ثُمَّ قَالَ : یَا نَبِيَّ اللّٰہِ مَا الشَّيْئُ الَّذِيْ لَا یَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ : ’’الْمَاءُ‘‘۔ قَالَ : یَا نَبِيَّ اللّٰہِ مَا الشَّيْئُ الَّذِيْ لَا یَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ : ’’الْمِلْحُ‘‘۔ قَالَ : یَا نَبِيَّ اللّٰہِ مَا الشَّيْئُ الَّذِيْ لَا یَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ : ’’أَنْ تَفْعَلَ الْخَیْرَ خَیْرٌ لَکَ‘‘۔[1]؎
ایک عورت جنہیں بُہیسہ کہا جاتا تھا، سے مروی ہے فرماتی ہیں میرے والد نے سرکاروالا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیع روزشمار، دو عالم کے مالک و مختار، حبیب پروردگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی اندر داخل ہوئے تو آپ کی قمیص مبارک کو اٹھا کر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے جسم اطہر کو چومنے لگے اور لپٹ گئے پھر عرض گزار ہوئے کہ یارسول اللہ وہ کیا چیزہے جس کا روکنا حلال نہیں ؟ فرمایا کہ پانی، عرض گزار ہوئے کہ یانبی اللہ ! وہ کیا چیز ہے جس کا روکنا جائز نہیں فرمایا کہ نمک عرض گزار ہوئے کہ یانبی اللہ ! وہ کیا چیز ہے جس کا روکنا مناسب نہیں فرمایا کہ تمہارانیکی کرنا تمہارے لئے بہتر ہے۔
مسلمان گھاس، پانی اور آگ میں شریک ہیں ، چنانچہ :
عَنْ رَجُلٍ مِّنَ الْمُھَاجِرِیْنَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلَاثاً أَسْمَعُہُ یَقُوْلُ : ’’الْمُسْلِمُوْنَ شُرَکَائُ فِيْ ثَلَاثٍ : فِي الْکَلإَِ، وَالْمَائِ، وَالنَّارِ‘‘۔[2]؎
ایک مہاجر صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں ، میں نے تین غزوات میں آقائے مظلوم، سرورمعصوم، حسن اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، محبوب ر ب اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ساتھ شرکت کی آپ فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں ، گھاس، پانی اور آگ۔
ایک اور حدیث میں تین چیزیں پانی، نمک اور آگ بیان ہوئیں ، چنانچہ :
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھَا أَنَّھَا قَالَتْ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا الشَّيْئُ الَّذِيْ لَا یَحِلُّ مَنْعُہُ؟ قَالَ : ’’الْمَاءُ، وَالْمِلْحُ، وَالنَّارُ‘‘ قَالَتْ : قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ھٰذَا الْمَائُ، وَقَدْ عَرَفْنَاہُ، فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ؟ قَالَ : ’’یَا حُمَیْرَائُ، مَنْ أَعْطٰی نَاراً فَکَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِیْعِ مَا أَنْضَجَتْ تِلْکَ النَّارُ، وَمَنْ أَعْطٰی مِلْحاً فَکَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِیْعِ مَا
سیدہ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ آپ نے عرض کی، یا رسول اللہ کس چیز کا منع کرنا جائز نہیں ؟ فرمایا، پانی، نمک اور آگ، فرماتی ہیں میں نے عرض کی، یارسول اللہ پانی تو یہی ہے جس کا معاملہ ہم جانتے ہیں ، مگر نمک اور آگ میں کیا حکمت ہے؟ فرمایا اے حمیرائ! جو کسی کو آگ دے تو گویا اس نے وہ سب دیا جو (کھانا وغیرہ) آگ پکائے گی، اور جو کسی کو نمک دے تو گویااس نے وہ سب کچھ
أَنْضَجَتْ تِلْکَ النَّارُ، وَمَنْ أَعْطٰی مِلْحاً فَکَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِیْعِ مَا طَیَّبَ ذٰلِکَ الْمِلْحُ، وَمَنْ سَقٰی مُسْلِماً شَرْبَۃً مِنْ مَائٍ حَیْثُ یُوْجَدُ الْمَائُ فَکَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَۃً، وَمَنْ سَقٰی مُسْلِماً شَرْبَۃً مِنْ مَائٍ حَیْثُ لَا یُوْجَدُ الْمَاءُفَکَأَنَّمَا أَحْیَاھَا‘‘۔[3]؎
صدقہ کیا جس کو اس نمک نے لذّت دی، اور جس نے کسی مسلمان کوایسی جگہ پانی پلایا جہاں پانی دستیاب ہو تو گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا اور ایسی جگہ کسی مسلمان کو پانی پلایا جہاں پانی دستیاب نہہو تو گویا اس نے ایک غلام کو زندہ کردیا۔
ایک اور حدیث شریف :
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ’’الْمُسْلِمُوْنَ شُرَکَائُ فِيْ ثَلَاثٍ : فِي الْمَائِ، وَالْکَلإَِ، وَالنَّارِ، وَثَمَنُہُ حَرَامٌ‘‘۔ قَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ یَعْنِيْ : الْمَاءَ الْجَارِي۔[4]؎
حضرت عبد اللہ بن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے، فرماتے ہیں ، نبی مکرم، نورمجسم، رسول اکرم، شہنشا ہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں پانی، گھاس اور آگ میں اور اس کی قیمت (لینا) حرام ہے۔ ابو سعید نے فرمایا اس سے مراد جاری پانی ہے۔
’’یہاں پانی سے وہ پانی مراد ہے جو نہ کسی کی محنت سے حاصل ہوا ہو نہ کسی کے برتن میں بھرا ہو جیسے جنگل، بارش، سیلاب کا پانی مگر اپنی نہر، گھڑے، اپنی نالی کا پانی اس سے خارج ہے۔ ایسے ہی گھاس سے وہ گھاس مراد ہے جو غیر مملوک زمین میں کھڑی ہو، اپنی مملوک زمین کی گھاس، ایسے ہی وہ گھاس جو کاٹ کر اپنے گھر میں رکھ لی مملوک ہے۔ آگ سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص کو اپنے چراغ کی روشنی میں بیٹھنے، آگ تاپنے سے نہیں روک سکتے، یوں ہی اپنی شمع سے دوسرے کو شمع جلانے سے منع نہیں کرسکتے، بعض نے فرمایا کہ آگ سے مراد چقماق پتھر ہے لہٰذا ہر شخص اپنی آگ سے چنگاری لینے سے منع کرسکتا ہے کہ اس کی ملک ہے، اور اس سے آگ کم بھی ہوجاتی ہے‘‘۔[5]؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع