دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرماتے ہیں ، میں نے عرض کی یارسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میری والدہ فوت ہوگئیں تو کون سا صدقہ ان کے لئے بہتر ہے؟ فرمایا، پانی، تو انہوں نے کنواں کھدوایا اور کہا یہ کنواں سعد کی ماں کے (ایصالِ ثواب کے) لئے ہے۔

        شیخ طریقت، امیر اہل سنت، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ’’نماز کے احکام‘‘ میں فرماتے ہیں :

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سیدنا سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا کہنا کہ یہ کنواں ام سعد کے لیے ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ کنواں سعد کی ماںرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے ایصال ثواب کے لیے ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا گائے یا بکرے وغیرہ کو بزرگوں کی طرف منسوب کرنا مثلا یہ کہنا کہ ’’ یہ سیدنا غوث پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا بکرا ہے‘‘ اس میں کوئی حرج نہیں کہ اس سے مراد بھی یہی ہے کہ یہ بکرا غوث پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ایصال ثواب کے لیے ہے اور قربانی کے جانور کو بھی تو لوگ ایک دوسرے ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں ، مثلاً کوئی اپنی قربانی کی گائے لئے چلا آرہا ہو اور اگر آپ اس سے پوچھیں کہ یہ کس کی ہے تو اس نے یہی جواب دینا ہے ’’ میری گائے ہے‘‘ جب یہ کہنے والے پر اعتراض نہیں تو ’’غوث پاک کا بکرا‘‘ کہنے والے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ حقیقت میں ہر شے کا مالک  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے اور قربانی کی گائے ہو یا غوث پاک کا بکرا ہر ذبیحہ کے ذبح کے وقت  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا نام لیا جاتا ہے،  اللہ  وسوسوں سے نجات بخشے! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم[1]؎

        کنواں کھدوانے والے کے لئے بروزِ قیامت بڑا اجر ہے، حدیث شریف میں ہے :

عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ خاتم المرسلین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، سراج السالکین، محبوب رب العالمین، قَالَ :  ’’مَنْ حَفَرَ مَائً لَمْ تَشْرَبْ مِنْہُ کَبِدٌ حَرّٰی مِنْ جِنٍّ وَلَا إِنْسٍ وَلَا طَائِرٍ إِلَّا أَجَرَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘‘۔[2]؎

جناب صادق و امین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، جو پانی کا کنواں کھُدوائے تو اسے بروزِ قیامت اس سے ہر ذی روح جِنّ و اِنس اور پرندے کے پانی پینے کا اجر  اللہ   تَعَالٰی  عطا فرمائے گا۔

        اپنی ضرورت سے زائد پانی کو دوسروں سے روک لینے والے کے لیے حدیث پاک میں وعید آئی ہے چنانچہ :

عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ :  قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :  ’’ثَلَاثَۃٌ لَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَلَا یَنْظُرُ إِلَیْھِمْ :  رَجُلٌ حَلَفَ عَلٰی سَلْعَۃٍ لَقَدْ أُعْطِيَ بِھَا اَکَثَرَ مِمَّا أُعْطِيَ وَہُوَ کَاذِبٌ وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلٰی یَمِیْنٍ

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں ، تاجداررسالت، شہنشاہ نبوت، مخزنِ جودوسخاوت، پیکر عظمت و شرافت، محبوب ر ب العزت، محسن انسانیت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا، تین شخص ہیں جن سے قیامت کے دن  اللہ  نہ کلام فرمائے گا اور نہ انہیں رحمت کی نظر سے دیکھے گا، ایک وہ شخص جوکسی سامان پر قسم کھائے کہ مجھے پہلے اس سے زیادہ قیمت ملتی رہی حالانکہ وہ جھوٹا ہو اور ایک وہ شخص جو عصر کے بعدکَاذِبَۃٍ بَعْدَ الْعَصْرِ لِیَقْتَطِعَ بِھَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ، وَرَجُلٌ مَنَعَ فَضْلَ مَائٍ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ :  الْیَوْمَ أَمْنَعُکَ فَضْلِيْ کَمَا مَنَعْتَ فَضْلَمَا لَمْ تَعْمَلْ یَدَاکَ‘‘ الحدیث۔[3]؎

 جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس قسم سے مسلمان شخص کا مال مارے اور ایک وہ شخص جو بچا ہوا پانی روکے،  اللہ   تَعَالٰی  فرمائے گا کہ آج میں تجھ سے اپنا فضل روکتا ہوں جیسے تو نے بچا ہوا پانی روکا تھا جسے تیرے ہاتھوں نے نہ بنایا تھا۔

        ’’کلام سے کلامِ محبت اور نظر سے نظرِ رحمت مراد ہے ورنہ غضب کا کلام اور قہر کی نظر تو کفار پر بھی ہوگی‘‘۔

        ’’گزرگاہ عام پر غیر مملوک پانی اسکی حاجت سے زائد ہو، پھر وہ مسافروں اور جانوروں کو نہ پینے دے، لہٰذا اس حکم سے وہ لوگ خارج ہیں جو پانی بیچ کر اپنا گزارہ کرتے ہیں ، کہ وہ پانی ان کے اپنے کنوئیں کا ہوتا ہے یا دور سے لایا ہوا‘‘۔

        وہ فرمان کہ جسے تیرے ہاتھوں نے نہ بنایا تھا، ’’اس جملہ میں بھی اشارہ اس طرف ہے کہ اپنا کھودا ہوا کنواں یا اپنا جمع کیا ہوا پانی اپنی ملکیت ہے جسے فروخت کرنا بلاکراہت جائز ہے۔ ید سے مراد کوشش اور محنت ہے‘‘۔[4]؎

 



1       (نماز کے احکام، فاتحہ کا طریقہ، ص۴۸۱)

2       (التاریخ الکبیر للبخاري، باب النون، الحدیث :  ۱۰۴۶، ج۱، ص۳۳۱)

(صحیح ابن خزیمۃ، باب في فضل المسجد وإن صغر المسجد ضاق، الحدیث :  ۱۲۹۲، ج۲، ص۲۶۹)

      (صحیح البخاري، کتاب المساقاۃ، باب من رآی أن صاحب الحوض والقربۃ أحق بمائہ، الحدیث :  ۲۳۶۹، ج۲، ص۸۹۔۹۰)

(صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب بیان غلظ۔۔۔إلخ، الحدیث :   ۱۷۳۔(۱۰۸ص۵۹)

(سنن أبي داود، کتاب البیوع والإجارات، باب في منع المائ، الحدیث :  ۳۴۷۴، ج۳، ص۴۸۳)

(سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب ما جاء في کراھیۃ الأیمان۔۔۔الخ، الحدیث :  ۲۲۰۷، ج۳، ص۴۴)

(سنن النسائي، کتاب البیوع، باب الحلف ۔۔۔الخ، الحدیث :  ۴۴۶۲، ج۴، الجزء ۷، ص۲۸۳)

(مشکاۃ المصابیح، کتاب البیوع، باب إحیاء الموات والشرب، الحدیث :  ۲۹۹۵، ج۱، ص۵۲۲)

4        (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج۴، ص۳۴۲)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن