دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Zia e Sadqat | ضیائے صدقات

book_icon
ضیائے صدقات

(۱۱)جو مال گم گیا یا دریا میں گرگیا یا کسی نے غصب کرلیا اور اس کے پاس غصب کے گواہ نہ ہوں یا جنگل میں دفن کردیا تھا اور یہ یاد نہ رہا کہ کہاں دفن کیا تھا، یا انجان کے پاس امانت رکھی تھی اور یہ یاد نہ رہا کہ وہ کون ہے یا مدیون (مقروض) نے دَین (قرض) سے انکار کردیا اور اس کے پاس گواہ نہیں پھر یہ اموال مل گئے تو جب تک نہ ملے تھے اس زمانے کی زکوٰۃ واجب نہیں ۔[1]؎

(۱۲)اگر دین (قرض) ایسے پر ہے جو اس کا اقرار کرتا ہے مگر ادا میں دیر کرتا ہے یا نادار ہے یا قاضی کے یہاں اس کے مفلس ہونے کا حکم ہوچکا یا وہ منکر ہے مگر اس کےپاس گواہ موجود ہیں تو جب مال ملے گا سالہائے گزشتہ کی بھی زکوٰۃواجب ہے۔[2]؎

(۱۳)ایک نے دوسرے کے مثلاً ہزار روپے غصب کرلئے پھر وہی روپے اس سے کسی اور نے غصب کرکے خرچ کرڈالے اور ان دونوں غاصبوں کے پاس ہزار ہزارروپے اپنی مِلک کے ہیں تو غاصبِ اوّل پر زکوٰۃ واجب ہے دوسرے پر نہیں ۔[3]؎

(۱۴)شے مرہون (گروی رکھی گئی چیز) کی زکوٰۃ نہ مرتہن (جس کے پاس رہن رکھا گیا ہے) پر ہے نہ راہن (جس نے رہن رکھوایا ہے) پر۔ مرتہن تو مالک ہی نہیں اور راہن کی مِلک تام (مکمل) نہیں کہ اس کے قبضہ میں نہیں اور بعد رہن چھُڑانے کے بھی ان برسوں کی زکوٰۃ واجب (یعنی فرض) نہیں ۔[4]؎

(۱۵)جو مال تجارت کے لئے خریدا اور سال بھر تک اس پر قبضہ نہ کیا تو قبضہ سے قبل مشتری (خریدار) پر زکوٰۃ واجب (یعنی فرض) نہیں اور قبضہ کے بعد اس سال کی بھی زکوٰۃ واجب (یعنی فرض) ہے۔[5]؎

(۱۶)نصاب کا مالک ہے مگر اس پر دَین (یعنی قرض) ہے کہ ادا کرنے کے بعد نصاب نہیں رہتی تو زکوٰۃ واجب (یعنی فرض) نہیں ۔ [6]؎  

 (۱۷)جو دَین (قرض) میعادی ہو وہ صحیح مذہب میں وجوبِ زکوٰۃ کا مانع نہیں ۔ (یعنی زکوٰۃ کا حساب لگاتے وقت میعادی قرضوں کو نصاب سے مِنْہا نہیں کیا جائے گا)۔ [7]؎

(۱۸)ایسی چیز خریدی جس سے کوئی کام کرے گا اور کام میں اس کا اثر باقی رہے گا جیسے چمڑا پکانے کے لئے مازو(دوا) اور تیل وغیرہ اگر اس پر سال گزرگیا تو زکوٰۃ واجب ہے۔ یونہی رنگریز نے اُجرت پر کپڑا رنگنے کے لئے کسم، زعفران خریدا تو اگر بقدرِ نصاب ہے اور سال گزر گیا تو زکوٰۃ واجب ہے۔ پڑیا وغیرہ رنگ کا بھی یہی حکم ہے اور اگر وہ ایسی چیز ہے جس کا اثر باقی نہ رہے گا جیسے صابون تو اگرچہ بقدرِ نصاب ہو اور سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب نہیں ۔ عطر فروش نے عطر بیچنے کے لئے شیشیاں خریدیں ، ان پر زکوٰۃ واجب ہے۔[8]؎

(۱۹)خرچ کے لئے روپے کے پیسے لئے تو یہ بھی حاجتِ اصلیہ میں ہیں ۔ حاجت اصلیہ میں خرچ کرنے کے روپے رکھے ہیں تو سال میں جو کچھ خرچ کیا اور جو باقی رہے اگر بقدرِ نصاب ہیں تو ان کی زکوٰۃ واجب ہے اگرچہ اسی نیت سے رکھے ہیں کہ آئندہ حاجت اصلیہ ہی میں صرف ہوں گے اور اگر سال تمام کے وقت حاجت اصلیہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے تو زکوٰۃ واجب نہیں ۔[9]؎

(۲۰)اہلِ علم کے لئے کتابیں حاجت اصلیہ سے ہیں اور غیر اہل کے پاس ہوں جب بھی کتابوں کی زکوٰۃ واجب نہیں جب کہ تجارت کے لئے نہ ہو۔ فرق اتنا ہے کہ اہلِ علم کے پاس ان کتابوں کے علاوہ اگر مال بقدرِ نصاب نہ ہو تو زکوٰۃ لینا جائزہے اور غیر اہل کے لئے ناجائز جبکہ دو سو درم قیمت کی ہوں ۔ اہل وہ ہے جسے پڑھنے پڑھانے یا تصحیح کے لئے ان کتابوں کی ضرورت ہو۔ کتاب سے مراد مذہبی کتاب فقہ وتفسیر وحدیث ہے۔ اگر ایک کتاب کے چند نسخے ہوں تو ایک سے زائد جتنے نسخے ہوں ، اگر دو سو درہم کی قیمت کے ہوں تو اس اہل کو بھی زکوٰۃ لینا ناجائز ہے۔ خواہ ایک ہی کتاب کے زائد نسخے اس قیمت کے ہوں یا متعدد کتابوں کے زائد نسخے مل کر اس قیمت کے ہوں ۔[10]؎

(۲۱)حافظ کے لئے قرآن مجید حاجت اصلیہ سے نہیں اور غیر حافظ کے لئے ایک سے زیادہ حاجت اصلیہ کے علاوہ ہے۔ یعنی اگر مصحف شریف دو سو درم قیمت کا ہو تو زکوٰۃ لینا جائز نہیں ۔[11]؎

(۲۲)کفار وبدمذہبوں کے ردّ اور اہلِ سنت کی تائید میں جو کتابیں ہیں وہ حاجت اصلیہ سے ہیں یونہی عالم اگر بدمذہب وغیرہ کی کتابیں اس لئے رکھے کہ ان کا ردّ کرے گا تو یہ بھی حاجت اصلیہ میں ہیں اور غیر عالم کو تو ان کا دیکھنا بھی جائز نہیں ۔[12]؎

(۲۳)مالِ تجارت یا سونے چاندی کو درمیان سال میں اپنی جنس یا غیر جنس سے بدل لیا تو اس کی وجہ سے سال گزرنے میں نقصان نہ آیا۔[13]؎

(۲۴)موتی اور جواہر پر زکوٰۃ واجب نہیں اگرچہ ہزاروں کے ہوں ، ہاں اگر تجارت کی نیت سے لئے تو واجب ہوگئی۔[14]؎

(۲۵)مالکِ نصاب کو درمیان سال میں کچھ مال حاصل ہوا اور اس کے پاس دو نصابیں ہیں اور دونوں کا جدا جدا سال ہے تو جو مال درمیان سال میں حاصل ہوا اسے اس کے ساتھ ملائے جس کی زکوٰۃ پہلے واجب ہو مثلاً اس کے پاس ایک ہزار روپے ہیں اور سائمہ (جانور) کی قیمت جس کی زکوٰۃ دے چکا تھا کہ دونوں ملائے نہیں جائیں گے۔ اب درمیان سال میں ایک ہزار روپے اور حاصل کئے تو



9        (بہارِ شریعت بحوالہ در مختار ورد المحتار، حصہ پنجم، ص۹)

10       (بہارِ شریعت بحوالہ تنویر الابصار، حصہ پنجم، ص۹)

11         (بہارِ شریعت بحوالہ عالمگیری، حصہ پنجم، ص۹)

12       (بہارِ شریعت بحوالہ در وغیرہ، حصہ پنجم، ص۹)

       (بہارِ شریعت بحوالہ درّ و ردّ، حصہ پنجم، ص۹)13

       (بہارِ شریعت، حصہ پنجم، ص۹) 14

15        (بہارِ شریعت، حصہ پنجم، ص۱۰)

1       (بہارِ شریعت، حصہ پنجم، ص۱۱)

2       (بہارِ شریعت، حصہ پنجم، ص۱۱)

3      (بہارِ شریعت، حصہ پنجم، ص۱۱۔۱۲)

4      (بہارِ شریعت، حصہ پنجم، ص۱۲)

5      (بہارِ شریعت، حصہ پنجم، ص۱۲)

      (بہارِ شریعت بحوالہ درّ و ردّ، حصہ پنجم، ص۹)[13]

7       (بہارِ شریعت، حصہ پنجم، ص۱۳)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن